افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ عید الاضحی سر پر ہے لیکن وہ اب بھی سرحد پار کرنے کے انتظار میں سڑکوں پر دن رات گزار رہے ہیں۔
خالد نامی شخص کے ماموں علی گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھے۔ ان کا خاندان فتح جنگ میں رہائش پذیر تھا لیکن پھر افغان پناہ گزینوں کے انخلا کی مہم کے دوران واپس اپنے آبائی علاقے جلال آباد منتقل ہو گیا تھا۔