وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ حکومت نے کھلاڑیوں کے ساتھ کئی دن تک خفیہ بات چیت کی، جو اپنے ہوٹل چھوڑنے کے بعد ایک محفوظ مقام پر لے جائی گئیں۔
قومی ترانہ
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا: ’ہم اس حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر کوئی بھی قدم اٹھانے کا اختیار حاصل ہے، ہم افغانستان کی جانب سے جاری کیے گئے جواب کو مسترد کرتے ہیں۔‘