1858 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ایک مقامی شخص کو ایک چائے کی ایک پیٹی کے اندر ملی، جو ایک غیر استعمال شدہ آتش دان میں اینٹوں سے بند کی گئی تھی۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اس گاؤں کو بک ویلیج بنانے کا بیڑہ ایک نوجوان سراج الدین خان نے اٹھایا تھا، جسے بعد میں ایک سماجی تنظیم سرحد فاؤنڈیشن اور سرکار نے بھی اپنا لیا۔