پاکستانی طلبہ کے لیے بھی مکہ معاہدے کو موقع بنایا جاسکتا ہے۔ تینوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، وظائف، طلبہ کے تبادلے اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ایک فرد کے دکھ کو بنیاد بنا کر وقتی جذباتی کتھارسس کرنے کی بجائے اس مسئلے کو اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے۔