جرنل نیوٹرینٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کی مصنفہ ڈوناتا کورپاس نے کہا کہ ’کیفین نیند کو کم کر سکتی ہے یا سونے کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔‘
اس نایاب جینیاتی تبدیلی کے حامل افراد ہر رات صرف چار سے چھ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی خود کو مکمل طور پر تازہ دم محسوس کرتے ہیں اور نیند کی مسلسل کمی سے جڑے منفی اثرات ان میں ظاہر نہیں ہوتے۔