نیٹو اجلاس صرف دنیا کے سب سے طاقتور دفاعی اتحاد کے سربراہان کی رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ ایسے دور میں منعقد ہوا جب بین الاقوامی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید اپنی سب سے بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔
اگرچہ چین ماضی میں اپنی سرحدوں سے دور تنازعات اور جنگوں میں مداخلت سے گریز کرتا رہا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ تک مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔