امریکہ اور روس کا یوکرین میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے آئندہ ہفتے روسی سلامتی کے حوالے سے کریملن کے تحفظات پر تحریری جواب دینے کا وعدہ اور صدر پوتن کی جو بائیڈن سے ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے یوکرین پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے آئندہ ہفتے روسی سلامتی کے حوالے سے کریملن کے تحفظات پر تحریری جواب دینے کا وعدہ اور صدر پوتن کی جو بائیڈن سے ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرین پر روسی حملے کے خدشات کے پیش نظرامریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعے کو جنیوا میں اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف کے ساتھ 90 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں ایسے کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی تنبیہہ کو دہرایا۔

روسی وزارت خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ بلنکن کے ساتھ اپنی بات چیت میں لاوروف نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن ماسکو کے سکیورٹی مطالبات کو نظر انداز کرتا رہا تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

روس نے یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجیوں کی موجودگی کے باوجود سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کے منصوبے سے انکار کیا ہے۔ لیکن ماسکو نے روس کی سلامتی کے حوالے سے مغرب سے ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ جس میں یوکرین کو نیٹو اتحاد میں کبھی شامل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی شامل ہے۔

بلنکن نے صحافیوں کو بتایا کہ اس ملاقات سے قبل کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ ’دونوں فریق ایک دوسرے کے خدشات اور پوزیشن کو سمجھنے کے لیے اب ایک واضح راستے پر گامزن ہیں۔‘

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ’ امریکہ روس کے ساتھ اگلے ہفتے تحریری طور پر اپنے خدشات اور خیالات کو مزید تفصیل سے شیئر کرے گا جس کے بعد دونوں ممالک میں مزید بات چیت ہوگی۔‘

دوسری جانب لاوروف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بلنکن نے اتفاق کیا کہ ہمیں بامعنی مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ جذبہ سرد نہیں ہو گا۔‘

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے۔ لیکن صدرجو بائیڈن اور ولاد یمیر پوتن کے درمیان ایک اور سربراہی اجلاس کے بارے میں بات کرنا ابھی ’قبل از وقت‘ ہے۔ امریکی اور روسی صدور کی ملاقات گذشتہ جون میں جنیوا میں ہی ہوئی تھی۔

ادھر بلنکن نے دونوں صدور کے درمیان نئی ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ صدر بائیڈن اس ملاقات کے بعد دو بار صدر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کر چکے ہیں جس میں انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کو یوکرین پر حملے کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔

کیف میں یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ وہ اس حقیقت کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری تاحال فعال ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اور بلنکن نے یوکرین کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی ہے۔

دوسری جانب صدر بائیڈن نے بدھ کو دو ٹوک انداز میں اپنا اندازہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممکنہ طور پر پوتن یوکرین میں داخل ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام روس کے لیے تباہی ثابت ہو گا۔‘

امریکہ بحیرہ روم میں پیر سے شروع ہونے والی نیٹو کی بحری مشقوں میں اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ہیری ٹرومین کی شرکت کا اعلان کر چکا ہے۔

تاہم امریکی حکام نے کہا کہ ان مشقوں کا یوکرین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اعلان کے جواب میں ایک دن بعد ہی روس نے بھی اپنی بحری مشقوں کا اعلان کیا جن میں 140 سے زیادہ جنگی جہاز اور تقریباً 10 ہزار فوجی جنوری اور فروری میں بحر اوقیانوس، آرکٹک، بحرالکاہل اور بحیرہ روم میں ہونے والی مشقوں میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ کشیدگی کے دوران کینیڈا نے یوکرین کو ساڑھے نو کروڑ امریکی ڈالر قرض کی پیشکش کی ہے تاکہ ملک کی معاشی حالت کو غیر مستحکم ہونے سے بچایا جا سکے۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جمعے کو کہا کہ ’یوکرین پر روسی حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔‘

انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اور مجھے پوری امید ہے کہ ایسا کرنا ہی درست فیصلہ ہو گا۔‘

روس کی پارلیمنٹ میں قانون سازوں نے ایک بل پیش کیا ہے جس میں یوکرین کے علیحدگی پسند اور روس نواز دو علاقوں ڈونیٹسک اور لوگانسک کی آزادی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس سروس نے جمعے کو روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس ماہ کے آغاز سے علیحدگی پسندوں کو نیا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان بھیج رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف سے ملاقات کے لیے کیف کے دورے اور برلن میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کے بعد جنیوا پہنچے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا