پوتن نے بائیڈن اور نیٹو پر واضح کر دیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں

روسی صدر نے دو سلامتی معاہدوں کے مسودے کی شکل میں ایک سفارتی 'الٹی میٹم' دیا ہے۔

(اے ایف پی)

روس کے مغرب کے ساتھ حالیہ تعلقات میں ولادی میر پوتن کے صبر کا پیمانہ ہر سات سال بعد لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

روس کے عبوری صدر بننے کے سات سال بعد 2007 میں انہوں نے سالانہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ایک تقریر کے دوران نیٹو کی توسیع کو روس کی سلامتی کے لیے خطرہ اور مغربی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سات سال بعد 2014 میں انہوں نے یوکرین کی تحریک کو مغرب کی شہ پر اٹھنے والی تحریک کے طور پر دیکھا اور اس کے جواب کریمیا کو چھین کر اسے روس کا حصہ بنا دیا۔

اور اب سات سال بعد پھر انہوں نے سلامتی کے دو معاہدوں کے مسودوں کی شکل میں مبینہ طور پر’الٹی میٹیم‘ دیا ہے۔ ان معاہدوں میں ایک امریکہ اور دوسرا نیٹو کے غور کرنے کے لیے ہے۔ 

تینوں باتوں میں سے ان مجوزہ معاہدوں کو سب سے زیادہ مثبت سمجھا جانا چاہیے جو یوکرین پر ممکنہ روسی حملے  کے حوالے سے مغرب کی جانب سے خطرے کی گھنٹی بجائے جانے کے پیش نظر عجیب فیصلہ دکھائی دے سکتے ہیں۔

تاہم بات یہ ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں اکثر مغربی حکومتوں اور روس پر نظر رکھنے والوں کو مستقل شکایت رہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ پوتن کیا چاہتے ہیں۔ اب نہ جاننے کے لیے کوئی بہانہ نہیں ہو سکتا۔

روسی وزارت خارجہ نے ان دو مجوزہ معاہدوں میں کسی بات کو مبہم نہیں رکھا۔ صدر بائیڈن اور نیٹو ارکان میں سے نصف (’نصف‘ روس کی شرط ہے) نے جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ جینیوا یا کہیں بھی جا کر ان معاہدوں پر دستخط کریں جو بلاشبہ نہیں ہو گا۔

کئی اعتبار سے یہ دستاویزات ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ سرد جنگ کے آخری دور کی جب امریکہ اور روس ہتھیاروں کے کئی انتہائی خفیہ معاہدوں اور ہیلسنکی فائنل ایکٹ کے پابند تھے۔

اس ایکٹ میں مشرق اور مغرب کی تقسیم کی دونوں جانب مشترکہ حقوق اور فرائض طے کیے گئے تھے۔

اس طرح بڑے پیمانے پر اپنائے گئے روسی نظریے کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ تقسیم جس کی علامت دیوار برلن ہوا کرتی تھی، ابھی ختم نہیں ہوئی جس کی کہ انہیں امید تھی بلکہ صرف اتنا ہوا ہے کہ یہ تقسیم سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مشرق میں روسی سرحد کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔

نیٹو کی جانب سے جینز سٹولٹن برگ پہلے ہی معاہدوں کو ناقابل غور قرار دے چکے ہیں اور بہت سا ایسا ہی ہے، بعض افراد کے نزدیک تو پورا تصور ہی، جسے زیادہ تر نیٹو ارکان انفرادی سطح پر مسترد کر دیں گے۔

اگرچہ امریکہ نے یہ کہہ کر اسے یکسر مسترد کرنے سے گریز کیا ہے کہ ان حالات میں کہ جب بائیڈن دستخط کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اس لیے بحث کی بنیاد مل سکتی ہے۔

سٹولٹن برگ کی بات درست ہے۔ اگرچہ روس جو تجویز کر رہا ہے اس میں زیادہ تر واضح اور عام ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ اس بار روس کو ٹھیک کس بات پر پریشانی ہے۔

معاہدوں کے مسودوں میں تین بنیادی مطالبات ہیں۔ ایک امریکہ، نیٹو اور روس کے لیے ہے کہ وہ فوج کی تعیناتی اور نقل و حرکت اور فوجی صلاحیت کے حوالے سے مشترکہ شرائط کی پابند ہوں تا ہ انہیں یورپ میں موجودہ روس-مغرب سرحد کے دونوں جانب فاصلے پر رکھا جا سکے۔

ایسا اس قسم کے واقعات (بشمول موسم گرما میں بحیرہ اسود میں برطانوی اور روسی جنگی جہازوں کے درمیان مڈھ بھیڑ) اورسرحد کے قریب  فوج کے اجتماع کو روکنے کے لیے کیا گیا جس کے نتیجے میں حادثاتی طور پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔

پہلی نظر میں دوسرا مطالبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ گویا روس نیٹو کی مشرق میں توسیع کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن اصلی مطالبہ یہ ہے کہ کوئی غیر ملکی نیٹو افواج یا ہتھیار سابق سویت یونین کے رکن ممالک کی سرزمین پر نہ رکھے جائیں۔
 
اس مطلب یہ ہو گا کہ کوئی نام دیے بغیر عملی طور پر وہ ضمانتیں بحال ہو جائیں جن کے بارے میں روس کا ماننا ہے کہ وہ اسے وارسا معاہدہ ختم ہونے پر دی گئی تھیں۔
 
روس کے تیسرے بہت واضح مطالبے کے بارے میں کہا گیا کہ امریکہ اور نیٹو رسمی طور پر ذمہ داری لیں کہ اتحاد میں مزید توسیع نہیں ہو گی اور خاص طور پر یوکرین اس کا حصہ نہیں بنے گا۔

اصولی طور پر اس آخری شرط پر بات چیت کا آغاز تک نہیں ہو گا۔ نیٹو کی طویل عرصے سے پالیسی چلی آ رہی ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرے کوئی تیسرا فریق اس کے فیصلے کو ویٹو نہیں کرے گا۔ تاہم صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

ماضی میں 2008 میں یوکرین اور جارجیا کو رکن بنانے پر نیٹو میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور اس مقصد کے لیے جھوٹا وعدہ کیا گیا کہ رکنیت مسترد نہیں کی گئی۔

اب اگر نیٹو میں توسیع کی امریکی خواہش سرد پڑ چکی ہے تو مزید توسیع ایجنڈے  کا حصہ نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود اگر روس کو امید ہے کہ اس معاملے کو معاہدے میں شامل کیا جائے تو اسے مایوسی ہو گی۔

اور جب کہ نیٹو میں’نئے‘ارکان شامل ہو چکے ہیں وہ ان ملکوں میں امریکی اور دوسری غیرملکی فوجوں کی تعیناتی کی کسی بھی حد تک مزاحمت کرے گا جو1997 کے بعد نیٹو کا حصہ بنے۔ تاہم اس کے باوجود اس معاملے پر بحث کی گنجائش ہو سکتی ہے۔

نیٹو ارکان اس بات پر تقسیم ہیں کہ روس کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں یا اسے الگ تھلگ کر دیا جائے اور اب امریکہ میں بعض بااثر آوازیں متنبہ کر رہی ہیں کہ مشرق کی جانب توسیع کے نتیجے میں نیٹو آرٹیکل پانچ کی شکل میں غیردانشمندانہ طور پر قسمت کے ہاتھ میں یرغمال بن گیا ہے۔
 
آرٹیکل پانچ کا مطلب ہے کہ ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملے کے طور پر لیا جائے گا۔ یہ تحفط بڑی وجہ ہے جس کی بنیاد پر بالٹک ریاستیں اور معاہدہ وارسا کے سابق ارکان نیٹو میں شامل ہونے میں اتنی دلچسپی رکھتے تھے لیکن کیا امریکی روس کے ساتھ جنگ میں حقیقت پسندانہ طور پر ان کی فوج کی مدد کریں گے۔ مثال کے طور ایستونیا کی؟

یہ سب کہنے کے بعد تاہم روس کے معاہدوں کے مسودوں کو بات کو آگے بڑھانے کے حربے سے بڑھ  کرکچھ لینا یقینی طور پر غلط ہو گا۔

اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ یا تو ماسکو سلامتی کے ان خدشات کو یورپ کی جانب سے تسلیم نہ کرنے پر ناراض ہے جنہیں وہ جائز سمجھتا ہے.

بنیادی طور پر یوکرین کے معاملے میں یا پوتن کو امید ہے کہ بائیڈن کی شکل میں ان کا واسطہ ایسے امریکی صدر کے ساتھ ہے جن کے ساتھ وہ تھوڑے وقت میں پہلی بار معاملات طے کر سکتے ہیں۔

دونوں رہنما جون میں جنیوا میں ہونے والی رسمی سربراہ ملاقات کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور حال میں انہوں نے کانفرنس کال کی ایپ زوم پر دو گھنٹے بات چیت کی ہے۔

ماہرین ورکنگ گروپس کی شکل میں  مبینہ طور پر تندہی کے ساتھ کام میں مصروف ہیں۔ کم از کم اتنا ہوا کہ معاہدوں کے مسودوں نے انہیں مزید معاملات پر بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔

تاہم شاید ان معاہدوں کا سب سے زیادہ مفید پہلو ان کا انداز ہے۔ شائد اتفاق سے وہ بیک وقت روس کے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ نیٹو کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔
 
اس لیے روس کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہیے تاہم اتحاد روسی سرحدوں کے قریب آ سکتا ہے۔
 
جو بات ان معاہدوں کے مسودہ سے ظاہر ہوتی  وہ یہ ہے کہ روس نیٹو کی پیش قدمی کو جارحیت اورخود روس کے بارے میں مغربی عزائم کے ابتدایے کے طور پر دیکھتا ہے۔

واشنگٹن یا لندن حتیٰ  کہ برلن کے نقطہ نظر سے یہ خوف، خیالی حتیٰ کہ فضول دکھائی دے سکتا ہے۔

تاہم ماسکو سمجھتا ہے، جیسا کہ ان معاہدوں سے واضح ہوتا ہے کہ یوکرین نیٹو کا رکن بن جائے تو وہ خود روس کے خلاف مغربی پیش قدمی کا پلیٹ فارم ہو ثابت ہو گا۔

مغرب روس کے یوکرین پر حملے کے خطرے کے بارے میں جو بھی بات کرتا ہے اس کا ایک عکس موجود ہے یعنی نیٹو کی طرف سے روس کو براہ راست لاحق خطرہ۔ 

مغرب کی جانب بالآخر اسے سمجھ لینے کی صورت میں مغرب میں عظیم تر سلامتی ممکن ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور روس کی جانب سے جو کچھ تجویز کیا جا رہا ہے اس میں مثبت باتیں موجود ہیں۔ سرحد کی دوسری جانب کشیدگی میں کمی کا روس کو بھی جواب دینا ہو گا۔

یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ ماسکو نے اس حد تک نیٹو میں توسیع کی حقیقت تسلیم کر لی ہے۔

اس کا مسئلہ پولینڈ، بالٹک ریاستوں اور یوکرین جیسے ممالک کے ساتھ ہے جنہوں نے امریکہ اور دوسری غیرملکی نیٹو افواج اور ان کے ساتھ آنے والے جنگی سازوسامان کو جگہ دے رکھی ہے۔

مثال کے طور پر پولینڈ جس کی فوج نیٹو کے معیار کے مطابق تربیت یافتہ اور اسلحے سے لیس ہو اورجب اور جہاں ضرورت ہو نیٹو کے مشنز میں کردار ادا کرے تو ایسا لگتا ہے کہ اسے قبول کرلیا جائے گا۔

معاہدوں کے مسودے میں نیٹو کو یورپ میں سلامتی کے لیے مذاکرات میں شراکت دار کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

کم از کم اتنا ہوا ہے کہ ان دستاویزات میں نئے انداز میں واضح ہوا ہے کہ روس سلامتی کی ضمانتوں کی ضرورت کے بارے میں کیسا اور کیوں محسوس کرتا ہے۔

یہ دستاویزات ماضی میں 2009 میں اس کے وقت کے روسی صدر دمتری میدویدوف کے تجویز کردہ سلامتی کے بڑے منصوبے کے مقابلے میں  بیک وقت زیادہ مخصوص اور کم خواہشات پر مبنی ہیں۔ ان میں روس کی خواہشات پر مبنی فہرست شامل نہیں ہے۔

اب اس بات کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور نیٹو اپنی خواہشات کی فہرست مرتب کریں اور کئی سال میں پہلی مرتبہ سنجیدہ مذاکرات شروع کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ