یوکرین پر روسی حملے کا خدشہ: بائیڈن اور پوتن کی ورچوئل ملاقات

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے درمیان یوکرین سمیت دیگر مسائل پر دو گھنٹے طویل ورچوئل ملاقات ہوئی ہے۔

روسی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جو بائیڈن اور ولادی میر پوتن ایک دوستانہ انداز میں ایک دوسرے کا خیرمقدم کر رہے ہیں (اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے درمیان یوکرین سمیت دیگر مسائل پر دو گھنٹے طویل ورچوئل ملاقات ہوئی ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ دونوں صدور کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوگا لیکن اس کے برعکس ورچوئل ملاقات کی روسی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جو بائیڈن اور ولادی میر پوتن ایک دوستانہ انداز میں ایک دوسرے کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے بات چیت شروع ہونے کی خبر تو دی گئی تاہم اس ’سکیور روم‘ کی کوئی فوٹیج جاری نہیں کی گئی جہاں صدر جو بائیڈن بیٹھے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے اس ویڈیو کانفرنس سے قبل کہا تھا کہ صدر بائیڈن روسی صدر سے یہ کہنے والے ہیں کہ اگر اس (روس) نے یوکرین پر حملہ کیا تو روس اور اس کے بینکوں کو سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جبکہ روس بھی اس ملاقات سے قبل کہہ چکا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس کی فوج کی پیش قدمی دفاعی ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی سربراہ ارسولا وون دیئرلیئن نے بھی منگل کو خبردار کیا کہ روس فوجی اعتبار سے یوکرین کے لیے خطرہ بنا تو اس پر مزید اور زیادہ سخت پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

یورپی یونین کے سفیروں سے ویڈیو لنک پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اور ہمارے ہمسایوں جن میں یوکرین بھی شامل ہے، کے خلاف مزید کسی بھی جارحیت بشمول بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں اور بدنیتی پر مبنی اقدامات کی صورت میں یورپی یونین مناسب جواب دے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جواب موجودہ پابندیوں میں سختی اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کی صورت میں ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم پابندی کے اضافی اقدامات کے لیے تیار ہیں۔‘

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اضافی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں لیکن روس کے بعض ناقدین مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ روس کو بیلجیئم میں قائم فنانشل ٹرانزکشن نیٹ ورک ’سوئفٹ‘ سے نکال دیا جائے۔

 

وون دیئرلیئن نے زور دے کر کہا کہ روسی فوج کے بڑی تعداد میں سرحد پر جمع ہونے سے یوکرین کو جس جارحیت کا سامنا ہے اس کے پیش نظر یورپی یونین اس کی مکمل اور غیرمتزلزل حمایت کرے گی۔

ان کے بقول: ’اس وقت روس کی جانب سے جان بوجھ کر کیے جانے والے اقدامات اور جارحانہ کارروائیاں یورپ کی سلامتی کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔‘

یورپی یونین اس بات پر قائل ہے کہ روس یوکرین پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین یورپی یونین اور نیٹو میں شامل نہیں لیکن اسے مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ روس نے 2014 میں یوکرین کے حصے کریمیا کو اپنا حصہ بنا لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا