’روس نے یوکرین میں مداخلت کی تو ’سنگین نتائج‘ کے لیے تیار رہے‘

امریکہ نے یوکرین کی سرحد پر روسی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ حملے کے بارے میں اپنے خدشات یورپی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔

نو ستمبر، 2019 کی اس تصویر میں روس اور فرانس کے وزرائے خارجہ  ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

فرانس نے جمعے کو روس کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

امریکہ نے یوکرین کی سرحد پر روسی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ حملے کے بارے میں اپنے خدشات یورپی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیے تھے۔

چار یورپی سفارت کاروں نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی حکام نے برسلز میں ایک بریفنگ میں اپنے یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ یوکرین پر حملے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

دو سفارت کاروں نے کہا کہ بدھ کو نیٹو ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی سطح پر 30 سفیروں کی ملاقات ہوئی۔

فرانس کے وزرائے خارجہ اور دفاع یان ویس لی ڈریان اور فلارنس پارلے نے پیرس میں اپنے روسی ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد ایک غیر معمولی دو ٹوک بیان جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا ’دونوں وزرا نے یوکرین میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر یوکرین کی علاقائی سالمیت کو مزید ممکنہ نقصان کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔‘

اس سے پہلے روس نے حملہ کرنے کے خدشوں کو اشتعال انگیز بیانات کے طور پر مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر بحیرہ اسود میں جارحانہ اقدامات کا الزام لگایا تھا۔

یورپی سفارت کاروں نے حملے کے خدشے کی امریکی وجوہات یا شواہد کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

مزید برآں، ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے نارتھ اٹلانٹک کونسل کے اجلاس میں، نیٹو کے اندر اہم سیاسی فیصلہ ساز ادارہ، کیرن ڈانفرائیڈ، اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے یورپی اور یوریشین امور، نے ماسکو کے اپنے حالیہ سفر کے بارے میں مزید تفصیل سے آگاہ کیا اور فوج کے اکھٹے ہونے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

نیٹو کے ایک ذریعے نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ ’روسی رویے اس سے مختلف ہیں جو ہم نے پہلے دیکھے۔‘

’اب تک یہ واضح نہیں کہ آیا اس فوجی تیاری کا مقصد یوکرین میں دراندازی کرنا ہے یا یہ محض ایک اور فوجی مشق ہے۔‘

روس نے 2014 میں کریمیا کو یوکرین سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ  اس کے ارد گرد کا پانی اب ماسکو کا ہے، اس کے باوجود کہ زیادہ تر ممالک اس جزیرہ نما کو یوکرین کے طور پر تسلیم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی سال روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ وہاں کی لڑائی میں دونوں طرف کے فوجی باقاعدگی سے مارے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کریملن نے کہا کہ یہ ماسکو کا فیصلہ ہے کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر کہاں تک فوج تعینات کرنی ہے۔

روسی ترجمان دمتری پیسکوف کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی سرخیاں بے معنی اور بے بنیاد کشیدگی کو ہوا دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتیں۔ روس کسی کے لیے خطرہ نہیں۔‘

ان دنوں پارلے اور لی ڈریان کے ساتھ بات چیت کے لیے پیرس میں موجود  روس کے وزیر دفاع کے حوالے سے ٹاس نے بتایا کہ یوکرین کی  صورت حال کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ