ایران کا نیٹو پر امریکی اسرائیلی جنگ میں ساتھ دینے کا الزام

نیٹو کے سربراہ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے لیے سینکڑوں امریکی طیاروں نے پروازیں کیں۔

11 مارچ، 2026 کو جنوبی مغربی انگلینڈ میں رائل ایئر فورس فیرفورڈ کے رن وے پر امریکی فضائیہ کے B-1 لینسر بمبار طیارے میں عملہ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک منیشنز لوڈ کر رہا ہے (اے ایف پی)

تہران نے جمعرات کو نیٹو پر ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں ’شراکت داری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک پر جنگ کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کے جواب میں نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے سینکڑوں امریکی طیاروں نے پروازیں کیں۔

ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی دیکھی گئی ہے کیونکہ کئی اتحادی مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کی ضرورت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔

روٹے نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ملک در ملک، اتحادی در اتحادی، سب نے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے لیے اپنے فوجی اڈے امریکہ کے استعمال کے لیے فراہم کیے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کی حمایت کے لیے اٹلی میں موجود امریکی اڈوں سے 500 امریکی طیاروں نے پرواز کی۔‘

بدھ کو ٹرمپ نے روٹے سے کہا تھا کہ وہ نیٹو کے ان رکن ممالک سے ’مایوس‘ ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔

روٹے نے فاکس نیوز کو یہ بھی بتایا کہ رومانیہ نے ایران جنگ کے دوران ’تجارتی پروازوں میں کمی کر دی تھی کیونکہ ہوائی اڈوں کو فضائی ایندھن بردار طیاروں (ٹینکرز) کی سہولت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو سربراہ کے بیان کو ’غیر قانونی جنگ‘ میں ’فعال شراکت داری‘ کا اعتراف قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

بقائی نے ایکس پر لکھا ’یہ ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جارحانہ جنگ میں نیٹو کی فعال شراکت داری کا واضح اور شرمناک اعتراف ہے۔‘

انہوں نے نیٹو پر الزام لگایا کہ اس نے ’بین الاقوامی قانون کے لازمی اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی‘ کی ہے۔

اٹلی نے فوری طور پر روٹے کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ نے ’مجاز پروازوں کی نوعیت کو غلط انداز میں پیش کر کے مکمل طور پر گمراہ کن تاثر دیا۔‘

اٹلی کی وزارت دفاع کے مطابق موجودہ امریکی۔اطالوی معاہدوں کے تحت اٹلی نے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران صرف ’تکنیکی اور لاجسٹک‘ نوعیت کی امریکی پروازوں کی اجازت دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا