امریکی سینیٹ نے منگل کو پہلی بار جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی، جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔
دوسری جانب قانون ساز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تنازعے کو حل کرنے کی کوششوں کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں، جسے انتظامیہ نے خود شروع کیا تھا اور اب اس کے لیے کانگریس سے فنڈنگ درکار ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ دسویں بار تھا کہ سینیٹ نے جنگ روکنے کی کوشش کی اور 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے آنے والا نتیجہ ماضی کی کوششوں کے برعکس ایک حیران کن تبدیلی تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ یہ قرارداد بڑی حد تک علامتی حیثیت رکھتی ہے اور اسے مکمل قانونی قوت حاصل نہیں، تاہم یہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں متعدد رپبلکن قانون سازوں کی جانب سے جنگ اور ایران کے ساتھ ٹرمپ کے اس معاہدے پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے جنگ ختم کی گئی۔
ایوانِ نمائندگان اس ماہ کے آغاز میں اس قرارداد کی منظوری دے چکا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس ووٹنگ کو ’غلط وقت پر اور بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ایران کو ’مدد اور حوصلہ‘ فراہم کیا ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد چک شومر نے کہا: ’بار بار، سینیٹ میں رپبلکن ارکان کی بھاری اکثریت نے امریکی عوام کے بجائے ٹرمپ اور ان کی جنگ کا ساتھ دیا۔‘
دوسری جانب پینٹاگون نے سینیٹرز کو بتایا ہے کہ اسے تقریباً 80 ارب ڈالر درکار ہیں، جن میں سے زیادہ تر رقم ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طلب کیے گئے پہلے سے ہی بڑے فوجی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ باضابطہ درخواست سے قبل کیپیٹل ہل میں ارکانِ کانگریس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے اور بعدازاں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔
اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور اس سے جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں 22 جون کو وسطی سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک ریزورٹ میں مذاکرات ہوئے، جس کے بعد پاکستان اور قطر کی طرف سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔