امریکہ،ایران مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘، فریقین کا 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق

پاکستان اور قطر کی طرف سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے۔

21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں امریکہ۔ایران مذاکرات سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مصافحہ کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور قطر کی طرف سے پیر کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ’حوصلہ افزا‘ پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ 

ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے پیر کو مشترکہ اعلامیے جاری کیا ہے۔ 

اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات میں میں ایران، امریکہ اور دو ثالث فریقوں قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشترکہ اعلامیے سے متعلق ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان کی جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

’تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیوں میں نرمی دی گئی، ناکہ بندی ختم کر دی گئی، ایران کے کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے، اور ایران کے لیے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ ‘

انہوں نے کہا کہ پہلا حقیقی امتحان: لبنان کے لیے ’ڈی کنفلکشن سیل‘ (تنازعے سے بچاؤ اور فوجی رابطہ کاری کا مشترکہ سیل) ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ لیک لوسرن سربراہ اجلاس ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا جب کہ مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے میکانزم کے قیام سمیت حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق: ’مفاہمت کی یادداشت کو بنیاد بناتے ہوئے، فریقین نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جو اس ثالثی کی سیاسی نگرانی کرے گی۔

’مذاکراتی ٹیموں کے سربراہ کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو رپورٹ کریں گے اور مفاہمت کی یادداشت پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایٹمی امور، پابندیوں، اور نگرانی اور تنازعات کے حل کے گروپ کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات پر مرکوز ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔‘

اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا جس سے مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

’اس کے علاوہ، مفاہمت کی یادداشت کے پیراگراف پانچ میں بتائی گئی مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک رابطہ لائن قائم کی گئی ہے تاکہ حادثات اور غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کا محفوظ راستہ یقینی بنانا ہے۔‘

فریقین (ایران اور امریکہ) نے مفاہمت کی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے، فریقین اور لبنان کے درمیان ثالثوں کی سہولت کاری سے تصادم سے بچاؤ کا, ایک سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام امور پر تکنیکی مذاکرات ہفتے کے باقی دنوں میں برگن سٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔

اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ثالث فریقین اس بات کو یقینی بنانے کی اپنی پوری کوشش جاری رکھیں گے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات تعمیری ماحول میں جاری رہیں۔

اعلامیے کے مطابق: ’قطر اور پاکستان سفارت کاری اور تنازع کے پرامن حل کے لیے ان کے مسلسل عزم پر امریکہ اور ایران کی خلوص دل سے تعریف کرتے ہیں۔ ثالث فریقین جاری مذاکرات میں مسلسل حمایت اور قابل قدر کردار پر برادر اور دوست ممالک کو بھی سراہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا