امریکہ نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں پر عائد کی گئی ناکہ بندی ختم کر دی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
تاہم اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں حریف ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا۔
تاہم اگلے مراحل کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے اور یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں پہلے سے اعلان کردہ دستخطی تقریب اور مذاکرات منعقد کریں گے یا نہیں۔
معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، تاہم آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں اب بھی محدود ہیں۔
امریکی فوج نے بتایا کہ جمعرات کو اس نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی، جس کے باعث جہاز ایران آنے یا جانے سے روکے جا رہے تھے۔
تاہم امریکی جنگی بحری جہاز ’علاقے میں موجود رہیں گے۔‘ بحری نگرانی کے اداروں کے مطابق جمعرات کو تین سعودی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوئے جبکہ مائع قدرتی گیس لے جانے والا فرانسیسی جہاز ’مریح‘ جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے سے گزرنے والا اپنی نوعیت کا پہلا جہاز بن گیا۔
خامنہ ای کی تحفظات کے باوجود اسلام آباد ایم او یو کی منظوری
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے تحفظات کے باوجود امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
روئٹرز کے مطابق قوم کے نام اپنے تحریری پیغام میں نئے سپریم لیڈر نے بتایا کہ یہ منظوری صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام کی یقین دہانیوں کے بعد دی گئی، جنہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایران کے حقوق اور ’مزاحمتی محاذ‘ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
خامنہ ای کے مطابق صدر پزشکیان نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ معاہدہ ایران کے مفادات کے مطابق رہے گا اور اگر امریکہ نے حد سے زیادہ مطالبات کیے تو پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطلب ہرگز ’دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا‘ نہیں ہوگا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد امریکی فوج نے اپنی ناکہ بندی نافذ کی تھی۔ تاہم اب کم از کم 12 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
شپنگ جریدے لائیڈز لسٹ کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے سے روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے۔
وینس نے کہا کہ وہ جمعے کی بجائے ’اس ہفتے کے اختتام پر‘ ایران کے ساتھ ’تکنیکی مذاکرات‘ کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ ادھر ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا کہ ایرانی وفد کے سوئٹزرلینڈ جانے کے بارے میں ’ابھی کچھ بھی تصدیق نہیں ہوا۔‘
’شاید وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں‘
اس معاہدے سے ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کی توقع ہے، جس میں اپریل کے اوائل میں جنگ بندی سے پہلے پانچ ہفتوں تک شدید جنگ جاری رہی تھی۔
تاہم تہران میں بعض افراد نے امن کے امکانات کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔
تہران سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ ماہرِ نفسیات مینا نے کہا ’مجھے امید نہیں کہ یہ ایک پائیدار معاہدہ ثابت ہو گا۔ ممکن ہے 60 دن بعد وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
معاہدے کے متن کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والی تیل کی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکہ خطے کے ممالک کی حمایت سے قائم 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم درجے پر لائے گا، ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی نگرانی میں ’موقع پر ہی افزودگی کی سطح کم‘ کی جائے گی۔
اسرائیل کی طویل عرصے سے خواہش کے باوجود ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاہدے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے کا فیصلہ ان کے بعض اتحادیوں کے لیے باعث تشویش بن گیا ہے۔
ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے اسے ’کئی دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’ایران کے جوہری عزائم پر کوئی روک نہیں لگی اور انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔‘
بظاہر ایسی تنقید کا پیشگی جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے جی-7 اجلاس میں کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ ایران پر ’شدید بمباری‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا ’یہ احمق لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے خلاف کافی سخت نہیں رہا، جبکہ سٹاک مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں یا تو حاسد ہیں، برے لوگ ہیں یا پھر بے وقوف ہیں۔‘
تاہم ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اصرار کیا کہ یہ معاہدہ امریکہ کی ’ناکامی‘ کی علامت ہے جبکہ صدر پزشکیان نے اسے ’تاریخی‘ قرار دیا۔