روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد کی ثالثی کا عمل گذشتہ سال کے آخر میں شروع ہوا اور لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں نے پاکستان سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
پاکستانی ٹیم تمام کھلاڑی کراچی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے سرکاری سرپرستی سے زیادہ ذاتی محنت اور اپنے وسائل شامل تھے۔