ایک صدی پرانی یہ عمارت جہاں کپاس کے سودے طے ہوتے تھے، گذشتہ سال سیل کر دی گئی تھی، جس کے بعد تمام سرگرمیاں بند ہیں اور اب کپاس کے تاجر شہر کے مختلف مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے کپاس کی پیداوار میں تقریباً 61 فیصد اضافے کو خوش آئند تو قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ یہ کافی نہیں۔