ہراسانی

دفتر

لڑکیاں چھیڑنے پر خاموش نہیں رہیں گی: صحافی مائرہ ہاشمی

مائرہ نےانڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا آن کیمرہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی لڑکیوں کو تنگ کرے گا اسے ایسا ہی جواب ملے گا۔ پاکستان بدل چکا ہے، وہ زمانہ گزر گیا جب لڑکیوں کو چھیڑنے یا تنگ کرنے پر وہ شرم کے مارے چپ ہوجاتی تھیں۔‘

ایف آئی اے سائبر جرائم کی تحقیقات کیسے کرتی ہے؟

مرکزی مدعی کےمطابق ’ایف آئی اے نے فیس بک آئی ڈی چلانے والے کا بتایا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی، وہ ہماری ہی یونیورسٹی کاایک افسرہے۔‘ یاد رہےسائبر کرائم کے خلاف یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2021 تک ایک لاکھ سے زیادہ درخواستیں ایف آئی اے کو موصول ہوئیں۔