سیدا نور بطور پاکستانی ہم شرمندہ ہیں

اپنے وی لاگز میں سیدا نے جس طرح پاکستان بالخصوص کراچی کا مثبت امیج دکھایا شاید کبھی کسی اور وی لاگر نے دکھایا ہو۔

سیدا نور اپنے وی لاگز میں مثبت پہلو ہی بتاتی تھیں (سیدا نور انسٹاگرام)

سیدا نور اپنے نام کی طرح ایک بہت ہی پیاری ہیں۔ میں نے سیدا کے کئی وی لاگز دیکھے ہیں جن میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں جا کر ہمارے پیارے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھاتی ہیں۔

وہ ان چیزیں پر روشنی ڈالتیں ہیں جنہیں ہم پاکستانی نہایت معمولی سمجھتے ہیں۔ وہ باتوں کو اپنے وی لاگز میں غیرمعمولی بنا کر پیش کرتی ہیں۔ اس کے لیے میں سیدا کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ سیدا کا یہی مثبت رویہ مجھے ان کا پورا وی لاگ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

سیدا کا کراچی والا وی لاگ دیکھنے سے قبل میں ان کا پشاور میں بنایا گیا وی لاگ دیکھ چکی تھی۔ اس وقت میں سیدا کو محض ایک ٹریول وی لاگر کے طور پر جانتی تھی جو ترکی سے پاکستان آ کر یہاں کا مثبت امیج دنیا کو دکھا رہی تھی۔

سیدا کے وی لاگز دیکھ کر مجھے ان کی شخصیت کے بارے میں چند باتیں پتہ چلیں۔ جیسا کہ سیدا ترکیہ سے آئی ہیں، جرمنی میں پلی بڑھی ہیں اور روانی سے انگریزی بولتی ہیں۔ اگر یہ خوبیاں کسی پاکستانی میں پائی جائیں تو شاید اس کی گردن ہمیشہ اکڑی رہے (حالانکہ اس میں گھمنڈ کرنے والی کوئی بات نہیں) لیکن سیدا ایک بہت ہی نرم مزاج لڑکی ہیں۔ وہ پاکستان آکر مقامی لوگوں سے اس طرح گھل مل گئیں جیسے یہیں پلی بڑھی ہوں۔

سیدا کی شخصیت کی یہی نرم مزاجی انہیں اندر اور باہر دونوں جانب سے خوبصورت بناتی ہے۔ اپنے وی لاگز میں دکانداروں سے چیزوں کی قیمت پر بھاؤ کرنا اور پھر خوشی خوشی چیزوں کو خرید لینا یا پھر ریڑھیوں اور ٹھیلوں پر بکنے والے سموسوں کی اتنی تعریف کرنا جیسے وہ کوئی عام کھانے کی چیز نہیں بلکہ شاہی کھانا ہو۔

سیدا نور مجھے دوسرے وی لاگرز سے مختلف اس لیے لگتی ہیں کہ ان کا دیکھنے کا  نظریہ دوسروں سے بہت مختلف ہے۔ اپنے وی لاگز میں سیدا نے جس طرح پاکستان بالخصوص کراچی کا مثبت امیج دکھایا شاید کبھی کسی اور وی لاگر نے دکھایا ہو۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کراچی کی حالت اس وقت کسی بڑے سے کچرے کے ڈھیر جیسی ہے، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر ہیں جو انتظامیہ کی لاپروائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

کراچی کی ایک رہائشی کے طور پر مجھے اس شہر کا حال بہت اچھی طرح معلوم ہے لیکن اگر آپ سیدا نور کا سب سے مشہور علاقے صدر کی ایمپریس مارکیٹ پر بنایا جانے وی لاگ دیکھیں تو آپ کو اس وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا جب وی لاگ میں ہر جگہ گندگی ہی گندگی نظر آئے گی۔

اتنی گندگی اور جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر ہونے کے باوجود سیدا نے پورے وی لاگ میں کہیں بھی گندگی اور صفائی کی ناقص سہولیات کا ذکر نہیں کیا بلکہ وہ اپنے طور پر پوری ویڈیو میں کراچی کا مثبت چہرہ دکھانے کی کوشش کرتی رہی۔

لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے انتہائی شرم آرہی ہے کہ جس طرح ہمارا خوبصورت شہر کراچی گندگی اور غلاظت کے ڈھیر سے بھرا ہوا ہے بالکل اسی طرح یہاں کے کچھ لوگ بھی گندگی اور بدبو کی طرح ہیں جو اچھے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کی اچھائی کو بھی تعفن زدہ کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیدا نور کے وی لاگ میں بھی ایک ایسے ہی ذہنی بیمار شخص کو دیکھا جاسکتا ہے جو ویڈیو بنانے کے دوران ان کا پیچھا کرتے ہوئے مسلسل انہیں ہراساں کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سیدا کے مطابق انہیں صرف اس شخص نے نہیں بلکہ ایک 12 سالہ لڑکے نے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔

سیدا کے وی لاگز میں نیلی شرٹ میں موجود اس شخص کو دیکھ کر مجھے انتہائی خوف محسوس ہوا تو سوچیں اس وقت سیدا نے کیسا محسوس کیا ہوگا؟

لوگ میری بات سے چاہے کتنا ہی اختلاف کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج ایک تیسرے درجے کے ملک جیسا ہے جہاں عورتوں کو شاید دسویں درجے کے شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اگر کوئی وی لاگر بیرون ملک سے آ کر پاکستان کی مثبت شبیہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہیں تو ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہیے اور ایک اچھے شہری کے طور پر ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔

لیکن یہاں تو اس وی لاگر کو سرعام ایک شخص ہراساں کر رہا ہے یہ سوچے بغیر کہ اس کی اس حرکت سے دنیا بھر میں ہمارے ملک کا کیسا امیج جائے گا۔ اور اس کی اس حرکت کے بعد کیا مستقبل میں کوئی اور وی لاگر پاکستان آئے گی، یقیناً نہیں۔

اس سلوک کے بعد کوئی اور تو کیا شاید خود سیدا نور بھی دوبارہ پاکستان آنے میں خوف محسوس کریں گی۔

اس نیلی شرٹ والے کی طرح ہمارے معاشرے میں اور لوگ بھی ہوں گے جو غیرملکی خواتین کے ساتھ مقامی خواتین کو بھی عوامی مقامات پر ہراساں کرنے میں مردانگی سمجھتے ہوں گے لیکن ایسے لوگ میرے نزدیک ذہنی طور پر بیمار ہیں۔

ان لوگوں کا تو میں کچھ نہیں کر سکتی لہذا بطور پاکستانی ایک دوسرے پاکستانی کی غلط حرکت پر میں سیدا نور سے سخت شرمندہ ہوں۔

دوسری طرف میں انتظامیہ خصوصاً سندھ حکومت سے کہنا چاہوں گی کہ براہ کرم ہمارے شہر کو خواتین کے لیے رہنے کے قابل بنا دیں اور اس خوبصورت کراچی کو ہمیں واپس لوٹا دیں جو گندگی کے ڈھیر میں کہیں کھو گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ