نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے والی کراچی کی ’ باجی دال چاول والی‘

شاہ فیصل کالونی کی رہائشی نازیہ کا کہنا ہے کہ اب وہ چار سالن بیچتی ہیں اور ان کے دال چاول کا سٹال ’باجی دال چاول والی‘ ہے جس کی وجہ سے ان کو شہرت بھی مل رہی ہے

نازیہ بتاتی ہیں کہ نوکری کی وجہ سے وہ اپنے بچے کے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے نوکری کی جگہ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دی۔ (رانا مالہی)

کراچی کی 29 سالہ نازیہ عرف ’باجی دال چاول والی‘ گلشن اقبال میں واقع ملینیئم مال کے سامنے اپنا کھانے کا ایک سٹال چلاتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب سبھی ان کو اس نام سے جانتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے نازیہ نے بتایا کہ چار ماہ سے انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا جس کی شروعات انہوں نے دال چاول سے کی تھی۔

شاہ فیصل کالونی کی رہائشی کا کہنا ہے کہ اب وہ چار سالن بیچتی ہیں اور ان کے دال چاول کا سٹال ’باجی دال چاول والی‘ ہے جس کی وجہ سے ان کو شہرت بھی مل رہی ہے اور اب سبھی ان کو باجی دال چاول والی کے نام سے جانتے ہیں۔

نازیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک ٹھیلے سے شروعات کی تھیں اور اب انہوں نے ایک چھوٹی سی گاڑی میں کچن بنایا ہوا ہے۔

نازیہ کراچی کے بڑے بڑے ریستورانوں اور ہوٹلز پر شفٹ مینیجر اور ایونٹ مینیجر رہ چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا تو گھر والوں اور رشتے دار ان سے کافی ناراض ہوئے اور انہیں اپنا کاروبار کرنے سے منع بھی کیا لیکن انہوں نے نوکری سے تنگ آکر آخر کار اپنا کاروبار شروع کرلیا۔

نازیہ بتاتی ہیں کہ نوکری کی وجہ سے وہ اپنے بچے کے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے نوکری کی جگہ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شروعات میں ان کو کافی ڈر لگا تھا کہ اگر اپنا کاروبار نہ چلا تو کیا کروں گی لیکن انہوں نے حمت اور حوصلے سے کام لیا اور اپنے کاروبار کی شروعات کردی۔

نازیہ نے اپنی موٹرسائیکل کے اطراف میں سٹینڈ لگوایا ہوا ہے جس میں بالٹیوں میں گھر کا پکا ہوا کھانا خود موٹرسائیکل چلا کر اپنے سٹال تک لاتی ہیں۔

ان کے بقول: ’میں صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک اپنا سٹال چلاتی ہوں۔‘

نازیہ بتاتی ہیں کہ ان گاہکوں کا رویہ اچھا ہوتا ہے اور کافی لوگ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

دیگر عورتوں عورتوں کو نازیہ نے پیغام دیا کہ سنگل مائیں ہمت نہ ہاریں اور گھر پر کوئی چھوٹا سا اپنا کاروبار شروع کریں۔

نازیہ کہتی ہیں، ’کام کو محنت لگن سے کریں، معاشرے کو نہ دیکھیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر