برطانیہ میں نوعمر لڑکیاں ’محفوظ محسوس نہیں کرتیں‘: سروے

بی بی سی ریڈیو فائیولائیو کے مطابق تقریباً 44 فیصد لڑکیاں اکیلے چلتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں، جبکہ 27 فیصد کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں سڑک پر چلنے والی ایک چوتھائی سے زیادہ لڑکیوں کو کسی نہ کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے (اینواتو)

ایک نئے سروے کے مطابق برطانیہ میں نوعمر لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ اکیلے سڑکوں پر چلنے میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں اور ایک چوتھائی سے زیادہ لڑکیوں کو کسی نہ کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بی بی سی ریڈیو فائیولائیو کے مطالعے کے مطابق برطانوی نوجوانوں میں اس مسئلے کی شدت پر روشنی ڈالتے ہوئے تقریباً 44 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ وہ اکیلے چلنے پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں، جبکہ 27 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں پورنوگرافی کے لیے آسان ہدف بننا بھی شامل ہے۔

سروے میں 13 سے 18 سال کی عمر کے دو ہزار نوجوانوں کا سروے کیا گیا، جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد برابر تھی۔ ان سے مختلف موضوعات پر سوالات پوچھے گئے، جن میں اضطراب، سوشل میڈیا، ویپنگ، پورنوگرافی اور سیکسٹنگ شامل ہیں۔

سروے میں بتایا گیا کہ بدسلوکی کا سامنا کرنے والوں میں سے ایک تہائی (37 فیصد) نے کہا کہ انہیں زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ برے نام پکارنا اور چیخنا، جبکہ 19 فیصد نے کہا کہ انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ گھورنا اور سیٹی بجانا۔

13 سے 18 سال عمر کے 33 فیصد سے زیادہ نوجوانوں نے آن لائن پورنوگرافی کا سامنا کرنے کے بارے میں بتایا، اور 73 فیصد نوجوانوں کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو انٹرنیٹ پر اس طرح کے مواد تک حادثاتی رسائی کو روکنے کے لے اپنی کوششیں بڑھانا چاہییں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سروے میں شامل 980 نوعمر لڑکیوں کے پانچویں حصے کا کہنا تھا کہ انہیں کسی ساتھی کی جانب سے بن مانگے برہنہ تصاویر یا ویڈیوز موصول ہوئیں جبکہ 16 فیصد لڑکوں اور لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے ان سے برہنہ تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے کا کہا تھا۔

سروے میں شامل افراد میں سے تقریبا ایک تہائی نے متنازعہ انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ کی ویڈیوز دیکھی تھیں اور ایک بڑی تعداد نے ان ویڈیوز کے بارے میں مثبت جذبات کا اظہار کیا تھا۔

سروے میں شامل تقریباً 24 فیصد نوعمر لڑکوں نے کہا کہ وہ بھی گلیوں میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

ویپنگ کے متنازع مسئلے پر، جس پر حکومت پابندی لگانے کے لیے غور کر رہی ہے، 32 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کم از کم ایک بار اس کی کوشش کی ہے۔

میٹیریل فوکس کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ میں ہر ہفتے 50 لاکھ ایسے ویپس کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے جو ایک بار استعمال ہوتے ہیں۔ یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

تاہم 66 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں مثبت محسوس کرتے ہیں اور فی الحال وہ اپنے خاندانوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین