کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت شانگلہ اور اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جہاں کئی خاندان نسلوں سے روزگار کے لیے بلوچستان کی کانوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ روز پیش آنے والے اس واقعے کے بعد جمعے تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔