سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں 741 خطرناک اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔
گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔