جب لڑائی رکتی ہے تو جنگ شاذ و نادر ہی ختم ہوتی ہے۔ یہ جنگ ایسے طریقوں سے جاری رہتی ہے جو کم دکھائی دیتے ہیں لیکن کہیں زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔
القاعدہ طالبان کی اسلامی امارت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور داعش کے ساتھ اپنی رقابت کے تناظر میں اسے ایک عظیم الشان پیش رفت سمجھتی ہے۔