سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں 741 خطرناک اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔
زخمیوں میں ڈی ایس پی کلاچی کفایت خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر نعمان خان اور کانسٹیبلز غلام قاسم، غلام سعید، ہاشم اور ایک خاتون کانسٹیبل شامل ہیں۔