پی آئی اے، جو کئی برسوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر سے زائد خسارے کا شکار رہی، کو دسمبر 2025 میں نجکاری کے عمل کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں کاروباری سرگرمیاں، قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔