یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور کاروباری روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بدر البوسعیدی کے مطابق ’آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق پیش رفت کی جائے گی۔‘