محنت کشوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کا خرچہ بڑھنے سے ان کی آمدنی میں پانچ سے سات سو روپے تک کمی ہوئی ہے۔
کاشت کاروں نے حکومتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 3500 روپے فی من قیمت اور طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے گندم کی برآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔