پاکستان ریلویز کی ’پہلی بار‘ مال گاڑی کے ذریعے نئی گاڑیوں کی ترسیل کی تیاریاں

ترجمان ریلویز نے بتایا ہے کہ ’ایک بوگی میں چار گاڑیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کراچی سے لاہور یا لاہور سے کراچی گاڑیوں کو پہنچانے کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔‘ 

پاکستان ریلویز نے نئی گاڑیوں کی ترسیل کے لیے پہلی بار مال گاڑیوں کے استعمال کی تیاری شروع کر دی ہے۔

پاکستان ریلویز نے نئی اور پرانی گاڑیوں بڑے شہروں سے سپلائی کے لیے سپیشل بوگیاں تیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ ترجمان ریلوے کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک مال گاڑی سے سپیشل بوگیوں کے ذریعے ایک سو گاڑیاں کراچی سے لاہور اور لاہور سے کراچی لے جانے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔

پاکستان میں انگریز دور کا قائم کردہ ریلوے نظام سفر کے لیے آج بھی سب سے موثر اور سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریلویز اب بھی سو سے زائد مسافر ٹرینیں اور 10 کے قریب مال بردار گاڑیاں چلارہا ہے۔

محکمہ ریلویز ویسے تو کئی دہائیوں سے خراب صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، جس میں سب سے خطرناک پرانا ریلوے ٹریک ہے۔ متعدد مقامات پرٹریک کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے آئے روز مسافر اور مال گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے باعث حادثات پیش آرہے ہیں۔ 

ریلوے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف مقامات پر بوگیوں کے پٹڑی سے اترنے کے 96 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ 46 مسافر جب کہ 43 مال بردار گاڑیوں کی بوگیاں پٹڑی سے اتریں۔ سبب۔

ترجمان ریلوے بابر علی رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ریلویز نے آٹو مینوفیکچرنگ انڈسٹری مالکان کی درخواست پر نئی اور پرانی گاڑیوں کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’تاریخ میں پہلی بار یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے کہ گاڑیاں مال گاڑی کے ذریعے لائی اور لے جائی جا سکیں گی۔ ہم لاہور ورکشاپ میں ہی نئی بوگیاں تیار کرائیں گے جن کے ماڈل بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ یہ بوگیاں چاروں طرف سے بند ہوں گی اور اندر سپیشل ریک بنا کر گاڑیوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔‘

ترجمان ریلویز کے بقول: ’ایک بوگی میں چار گاڑیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ہم نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق کراچی سے لاہور یا لاہور سے کراچی گاڑیوں کو پہنچانے کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ پٹڑیوں کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں اس کے لیے کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ’ایم ایل ون منصوبے کے تحت پہلے سب سے خراب ٹریک سکھر سے کراچی تک جلد کام شروع ہورہا ہے۔ اس ٹریک کو بہتر کرنے کے بعد باقی حصوں کو بھی جلد اپ گریڈ کردیا جائے گا۔ اب بھی جہاں ٹریک خراب ہونے کی شکایت ملتی اسے بہتر کرنے کا کام بھی جاری ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان