سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مقامات اور سمندری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خامنہ ای محض ایک اور سیاسی رہنما نہیں تھے۔ وہ 1989 سے ایران کے اقتدار کے سب سے نمایاں چہرہ تھے۔