پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے جمعرات کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ملاقات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے تناظر میں خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی کوششوں پر زور دیا۔
محسن نقوی اور اسکندر مومنی ان دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ اجلاس کے لیے بشکیک میں موجود ہیں۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق دونوں وزرائے داخلہ نے پاکستان اور ایران کے تعلقات، خطے کی تازہ ترین صورت حال، کشیدگی میں کمی اور داخلی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید کہا گیا: ’دونوں وزرائے داخلہ نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں کو مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) June 5, 2026
پاک ایران تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
کشیدگی میں کمی اور داخلی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال pic.twitter.com/9iAXpqvJ6h
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب گذشتہ روز ہی پاکستان نے کویت اور بحرین پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پورے خطے میں پھیل گیا۔
بعدازاں امریکہ اور ایران میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا جس کے بعد 11 اپریل کو پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان براہ امن مذاکرات بھی ہوئے لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ اس کے بعد سے پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کی جانب سے بھی بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک دونوں کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
محسن نقوی نے گذشتہ ماہ بھی تہران کا دورہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی حالیہ دنوں میں ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔