سات اپریل کو میری والدہ سے ہونے والی وہ گفتگو میری زندگی کی مشکل ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔ وہ آخری الوداع جیسی تھی، گفتگو کے اختتام پر انہوں نے مایوس لہجے میں کہا: ’اگر تم ہمیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکو تو ہمیں یاد رکھنا۔ خدا حافظ۔‘
15 اگست کو سقوط کابل نہیں ہوا بلکہ اشرف غنی اور حقانی گروپ کے درمیان ہونے والی سازباز کے نتیجے میں اس کی قربانی دی گئی۔