قطر اور ایران کے درمیان پھنسا افغانستان

طالبان کو ماضی میں امریکی اتحادی شکست دے چکا ہے اور وہ اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن سات سال پہلے دوحہ میں وہ اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ طالبان نے جون 2013 میں قطر میں اپنے دفاتر کھولے۔

(اے ایف پی)

اسلامی جمہوریہ ایران اور بادشاہی ریاست قطر کے درمیان شاید ایک ہی بات مشترک ہے: ایران امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا شکار ہے جبکہ قطر پر خلیج تعاون کونسل نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مشرق وسطی کے عوام قطر کی ان دہری پالیسیز کے نتائج بھگت رہے ہیں جن میں وہ ایک جانب انتہا پسند مسلح گروہوں کی مدد کرتا ہے، حماس اور اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے اور دوسری جانب ترکی اور ایران کی پشت پناہی کرتا ہے۔ افغانستان کے عوام بھی طالبان کو حاصل قطر کی مدد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
طالبان کو ماضی میں امریکی اتحادی شکست دے چکا ہے اور وہ اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن سات سال پہلے دوحہ میں وہ اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ طالبان نے جون 2013 میں قطر میں اپنے دفاتر کھولے۔ یہ دفاتر سرکاری طور پر بنائے جانے والے سفارت خانوں کے برابر ہیں اور قطر نے انہیں اجازت دی کہ وہ بطور 'اسلامی امارت افغانستان' کے پرچم لہرا سکیں۔
افغانستان کے غیور عوام اور افغان صدر حامد کرزئی کے غصے کی وجہ سے یہ پرچم اتارے گئے لیکن ان دفاتر کو کام کرنے کی اجازت دی گئی جس میں امریکہ کی مرضی بھی شامل تھی جس کے مطابق ایسا کر کے امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا رہا تھا۔
افغانستان میں قطر کی پالیسیز پر اعتماد کی یہ صورت حال ہے کہ قطر ایئرویز کو ابھی تک براہ راست کابل پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اس کے باوجود کہ افغانستان کو ان رابطوں کی اشد ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر خراجہ جواد ظریف اور ان کے قطری ہم منصب کے درمیان فون کال کے پس منظر میں اس تمام صورت حال کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جواد ظریف اور قطری وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور ایران کی ان کوششوں پر بات کی جو وہ افغانستان میں ایک متفقہ حکومت بنانے کے سلسلے میں کر رہا ہے۔
طالبان اور امریکی نمائندے ذلمے خلیل زاد کے درمیان ناکام مذاکرات کے بارے میں بہت بات کی جاتی ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ قطر افغانستان میں امن کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم تھا جس میں اس کے سیاسی اور نظریات مفاد اور شدت پسند گروہوں کی حمایت شامل تھی۔
کابل حکومت کے مطابق معاہدے کے بعد سے طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ گذشتہ 51 دن میں 2800 حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری طالبان قبول کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں 789 عام شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

قطر کی ریاست جو دنیا کے سب سے بڑے شدت پسندوں جیسے کہ ملا عبد الغنی برادر اور باقی ایسے افراد جو اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست پر موجود ہیں کہ میزبانی کرتی ہے، ان سے کیوں نہیں کہتی کہ وہ قطر سے چلے جائیں اور اس معاہدے کے بعد اپنا دفتر بند کر دیں؟
سابق افغان سکیورٹی اہلکار رحمت اللہ نبیل کی ٹویٹ کے مطابق معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے جنگجو قطر جانے کے بعد واپس آ چکے ہیں اور دوبارہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان میں سراج الدین حقانی کے بھائی، چچا اور قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔
افغان حکومت اور عوام قطر سے اس حد تک ناخوش تھے کہ گذشتہ سال تک اسے کابل میں سفارت خانہ کھولنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ افغان صدر اشرف غنی نے ایسا عبدل رسول سیاف کے دباو کے بعد کرنے کی اجازت دی جو کہ ایک مذہبی کمانڈر ہیں اور افغان صدر کے سیاسی اتحادی ہیں۔ قطر نے دوحہ کے لیے افغانستان کے سفیر کے دستاویزات بھی اس شرط پر قبول کیے تھے اسے کابل میں سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سفارت کار کا تعلق بھی سیاف سے تھا۔
گذشتہ سالوں میں افغان صدر اشرف غنی امریکہ کو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ دوحہ میں طالبان کا سفارت خانہ بند کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ ایران اور قطر کے وزیر خارجہ افغانستان میں حکومت کے قیام پر گفتگو کر رہے ہیں؟ قطر کئی بار دعوی کر چکا ہے کہ وہ صرف افغان امن عمل کی میزبانی کر رہا ہے اور وہ افغان معاملات میں دخل نہیں دیتا۔ جبکہ دوسری جانب ایران ہر صورت میں عبداللہ عبداللہ کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے جو کہ صدارتی انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔
ایران اب ناکام قطری ڈیل کو استعمال کر کے افغانستان میں اپنے مفادات کو بڑھانا چاہتا ہے اور 'متفقہ حکومت' کا مقصد بھی یہی ہے۔ وہ ان مذاکرات کا حصہ بن کر اشرف غنی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
جب سے طالبان نے قطر میں اپنا دفتر کھولا ہے افغان عوام نے جنگ، خون خرابے اور اموات کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ طالبان نے رمضان کے مقدس مہینے میں بھی سیز فائر پر آمادگی ظاہر نہیں کی جبکہ ایران کو صرف ایسی حکومت کی فکر جو تہران کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ افغانستان کے معصوم عوام قطر اور ایران کے مفاد پرستی کے درمیان پھنس چکے ہیں۔

کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ طالبان کے حملوں میں مرنے والے افغانوں کے قتل پر راضی ہیں؟ طالبان کے یہ جرائم ان کے دوحہ میں دفتر کھلنے کے بعد پیش آئے ہیں۔ افغانستان کے عوام قطر کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ ایک ایسا فرشتہ جو امن کی حمایت کرتا ہے یا ایسا موت کا فرشتہ جو ان پر خود کش حملے، دھماکے اور تباہی مسلط کر رہا ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر