ناممکن ہے کہ دو برتن ٹوٹیں اور بالکل ایک ہی جیسے طریقے سے ان میں دراڑیں نمودار ہوں۔ جیسے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں ہمارے، بس ویسے ہی سونے کی گوند سے جڑے وہ جاپانی برتن اپنی ذات میں بالکل الگ شناخت رکھنے والی چیز ہوتے ہیں۔
ہر ختم ہوتا پہلو، ہر بڑھتے سفید بال کی طرح ہوتا ہے، فرق ہے تو بس یہ کہ ایک چیز آئینہ یاد دلاتا ہے اور ایک وقت، بے رحم یہ دونوں ہوتے ہیں، ظالم قسم کے!