امید پر دنیا قائم ہے

کیویزجنوبی افریقہ کی طرح فیاضی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ پاکستان ولیمسن یا ٹیلر کا کیچ چھوڑ کر جیتنے کی امید نہیں رکھ سکتا۔

پاکستان ولیمسن یا ٹیلر کا کیچ چھوڑ کر جیتنے کی امید نہیں رکھ سکتا (اے ایف پی)

پاکستان نے اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف ایک اہم میچ جیت کر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنےکی امید کو ایک بار پھر زندہ کیا۔ ٹیم کی کارکردگی اچھی تھی مگر ایک میچ میں سات کیچ گرانا اگلے میچوں کے لیے اچھا نہیں اس لیے جلد اس پرانی کمزوری پر قابو پانا ضروری ہے۔

پاکستانی ٹیم نے فتح حاصل کر کے اپنے مایوس شائقین کو امید کی نئی کرن دکھائی ہے کہ ٹیم ابھی اگلے مرحلے میں جانے کے قابل ہے، لیکن اس سے آگے جانے کے لیے پاکستان کو تمام میچ جیتنے ہوں گے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سرفراز احمد نے ٹاس جیتا تھا اور پہلے بیٹنگ کرنے کا بالکل صحیح فیصلہ کیا۔ اس کےعلاوہ انہوں نے ٹیم میں جو دو تبدیلیاں کیں وہ بھی نہایت بروقت اور بہت ضروری تھیں۔

حارث سہیل کو خوش قسمت شعیب ملک کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ شعیب ملک اِن فارم نوجوان کھلاڑی رضوان کی قیمت پر نہ صرف ورلڈ کپ کے سکواڈ میں شامل کیے گئے بلکہ کوئی کارکردگی دکھائے بغیر بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف میچ بھی کھیلے۔

یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ حارث سہیل جیسے باصلاحیت کھلاڑی کونظر انداز کر کے کس طرح شعیب ملک کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ حارث سہیل ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف ایک میچ میں ناکام رہے تھے مگراس میچ میں تو سبھی ناکام ہوئے تھے اس لیے انہیں تنہا قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔  اس کے باوجود شعیب کو حارث کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

کئی ناکامیوں اور ان کی ذات سے جڑے ہوئے تنازعات کے بعد شعیب ملک کو ٹیم سے باہر نہیں بٹھایا گیا لیکن آخر کار جنوبی افریقہ کے خلاف مستحق حارث سہیل کو ان کی جگہ مل گئی اور پاکستان کی بیٹنگ یقیناً زیادہ مضبوط دکھائی دینے لگی۔

موقع ملنے پر حارث سہیل نے مین آف دا میچ کا ایوارڈ جیت کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔

حارث سہیل نے شعیب ملک کے77 رنز فی 100 گیندیں سٹرائیک ریٹ سے ڈبل ریٹ پر بہت شاندار اننگز کھیلی۔ اس پر رمیز راجہ سمیت دنیا بھر کے ماہرین کپتان سرفراز احمد سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہو گئے کہ حارث سہیل کو پہلے کیوں نہیں سلیکٹ کیا گیا۔

میرے لیے معمہ بنا ہوا تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ میں اپنے کالموں اور ٹی وی پروگرامز میں تجزیوں کے ذریعے مسلسل یہ مطالبہ کرتی آئی ہوں کہ حارث سہیل کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔

پاکستان کی کرکٹ شطرنج کی بساط کی طرح ہے اور اس کا موازنہ مشہور عالم سیریز ’گیم آف تھرونز‘ سے بھی کیا جا سکتا ہے جس کے نام سے ہی پتہ چلتا ہے کہ ہر کوئی تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہر کوئی پاکستان کا کپتان بننے کا خواہش مند ہے۔

اس ٹی وی سیریز کی طرح ٹیم کا کپتان بننے کے لیے سازشیں اور لابنگ کی جاتی ہے گویا کپتان بننا تخت پر بیٹھنے کے مترادف ہے۔ یہ عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور یونس خان کے دور میں بھی ہوا اور ان تمام ہیروز کے خلاف بھی محاذ بنائے گئے۔ اگر کراچی کے کسی نوجوان کو کپتان بنا دیا جائے تو یہ کام اور زیادہ وتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے لگتا ہے کہ ٹیم میں لابنگ سے زیادہ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔ لابنگ کے نتیجے میں ٹیم متحد نہیں رہتی۔ میری احسان مانی اینڈ کمپنی کوتجویز ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اور اس سازش کا حصہ بننے والوں کو ٹیم کی واپسی پر کڑی سزا دیں۔

اب پاکستانی ٹیم کے لیے اگلے میچ پر توجہ مرکوز کرنے کا وقت ہے۔ پاکستان کا اگلا میچ کیویز کے خلاف ہے جو اب تک ناقابل شکست رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے بعض میچ بہت قریب آ کر اختتام پذیر ہوئے مگر آخر میں نیوزی لینڈ فتح یاب رہا۔ کیوی ٹیم کی بولنگ اور بیٹنگ بہت مضبوط ہے۔ ان کے کپتان کین ولیمسن بہت ہی اعلیٰ بلے باز ہیں۔

ان کے علاوہ راس ٹیلر کسی سے کم نہیں۔ یہ ورلڈ کلاس جوڑی بہت باصلاحیت ہے۔ ان کے علاوہ مارٹن گپٹل، لیتھم اور کولن ڈی گرینڈہوم بھی بہترین پلئیرز ہیں۔

بولنگ میں ان کے پاس ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤتھی جیسے باصلاحیت اور مضبوط کھلاڑی ہیں۔ اس کےعلاوہ لوکی فرگوسن 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر سکتے ہیں۔ اس لیے فائر پاور کی حامل نیوزی لینڈ کی ٹیم سخت حریف ہے اور پاکستان کو ان کا کوئی حل ڈھونڈنا ہے۔

پاکستان کو اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ بیٹنگ کرتے ہوئے انہیں کیوی بولرز کو وکٹیں تحفے میں نہیں دینا چاہئیں۔ بلے بازوں کو فرگوسن اور ہینری کی وکٹ لینے کی صلاحیتوں کا علم ہونا چاہیے۔

یہ دونوں بولرایکسپریس پیسر ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر بلے باز نئی بال سنبھل کرکھیل لیتا ہے تو پرانی گیند کھیلنا آسان ہو جاتا ہے۔ اب برطانیہ کی وکٹیں خشک ہونے اوراستعمال میں آنے کے بعد کم سکور والی وکٹیں بنتی جا رہی ہیں اور 350 سے زائد سکور پرانی بات ہو چکی ہے۔

 پاکستانی بولر خصوصاً محمد عامر اچھی فارم میں ہیں جو اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی بولرز کی قیادت کرتے نظر آئے ہیں۔ انہوں نے دل و جان لگا کر بولنگ کی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

وہاب ریاض نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا اور انہوں نے بھی کوئی بری بولنگ نہیں کی۔ وہاب نے ریورس سوئنگ بھی کی جو خصوصاً اننگز کے اختتام پر بہت سود مند رہی۔

شاہین شاہ آفریدی نے جنوبی افریقہ کےخلاف فل لینتھ پر بہت اچھی بولنگ کی جبکہ شاداب خان نے چند ایک گیندیں خوب گھمائیں اور بلے بازوں کو چکرا کر رکھ دیا۔ یہ اچھا ہے کہ وہ سکور روکنے پر ہی توجہ مرکوز نہیں کیے ہوئے بلکہ وکٹ بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ وہ کیویز کے خلاف گیند کو مزید ائیر دیں اور گیند کو گھمانے کی کوشش کریں۔ اگر کسی طریقے سے پاکستانی بولرز کین ولیمسن اور ٹیلر کی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر میچ جیتنا آسان ہوگا اور اس سلسلے میں شاداب کی گوگلی سب سے موثر ہتھیار ہو سکتی ہے۔

عماد وسیم کو وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کراتے رہنا چاہیے جو انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں کی، اس سے دباؤ بڑھتا ہے۔ اگر وہ چند ایک گیندوں کو گھمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے بیٹسمین کے ذہن میں شک بیٹھ جاتا ہے اور وسیم زیادہ کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں۔

عماد وسیم کے لیے ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے ذہن کے کسی گوشے میں پاکستان ٹیم کا کپتان بننے کا خواب سجائے ہوئے ہیں تو اچھی بات ہے مگر پہلے انہیں پی ایس ایل میں خود کو کامیاب کپتان ثابت کرنا پڑے گا اور دنیا کو دکھانا ہوگا کہ وہ کامیاب لیڈرہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ بلے باز کے طور پر بہتر ہو رہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ فی الحال بلے بازی پر توجہ دیں۔ جب وقت آئے گا اور ان کے نامہِ اعمال میں اچھا بیٹسمین ہونا اور پی ایس ایل کی جیت لکھی ہوگی تو وہ پاکستان کے آئندہ کپتان ہوں گے۔ اس سے پہلے پاکستان کی کپتانی بھول جائیں۔

آخر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ پاکستان کو پورے زور کے ساتھ فل لینتھ پر بولنگ کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان اپنے حصے میں آنے والے کیچ گرانے کے بجائے پکڑے۔

مجھے یقین ہے کہ کیویزجنوبی افریقہ کی طرح فیاضی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ آپ ولیمسن یا ٹیلر کا کیچ چھوڑ کر جیتنے کی امید نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے فیلڈنگ پرخاص دھیان دینا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ