سدھو موسے والا: کیا پنجابی کلچر کے نام پر بیچنے کو یہی رہ گیا؟

سدھو کے تین ’شاہکار‘ گیتوں کی روشنی میں دیکھیے کہ کیسے انہوں نے اسلحے اور گینگ کلچر کے ساتھ ساتھ تعصب کی حدوں کو چھوتے ہوئے گھمنڈ کو کس طرح پنجابی کلچر کا حصہ بنا دیا۔

 (Roop69 - CC BY-SA 4.0) سدھو موسے والا محض گلوکار نہیں بلکہ اس سے پہلے شاعر تھے

’جٹ کی انگریزی حرف ڈبلیو جیسی مونچھ دیکھ کر دنیا ڈرتی ہے۔ نام تارے جیسا چمکتا ہے۔ جہاں جم کے کھڑا ہو جائے دشمن کی ٹانگیں جیپ کی کھڑکی سے لٹکتی نظر آتی ہیں۔ کمر پہ بھری ہوئی 0.45 بندوق ہے، جو سینہ چیر دیتی ہے۔‘

یہ الفاظ سدھو موسے والا کے گیت ’بمبیہا بولے‘ سے ہیں جس میں وہ تمام کلچر سمٹ آیا جس کی ترویج انہوں نے کی اور ڈنکے کی چوٹ پر کی۔

کیا پنجابی کلچر کے نام پر بیچنے کو یہی کچھ رہ گیا تھا؟

چمکتی ہوئی سپورٹس گاڑیاں، ایک ہاتھ مونچھ پر اور دوسرے میں رائفل۔ گلے میں سونے کی زنجیر۔ تشدد سے لتھڑی زبان اور آسمان کو چھوتا گھمنڈ۔ اسے آپ پنجابی ثقافت کی نمائندگی کہنے پر اصرار کریں تو بھلے کریں لیکن یہ ایسی آگ ہے جو آپ کے اپنے دامن سے بھی لپٹ کر رہتی ہے، چاہے آپ شہرت کی جس بلندی پر بھی ہوں۔

سدھو موسے والا محض گلوکار نہیں بلکہ اس سے پہلے شاعر تھے جو الفاظ کے ذریعے تیکھے اور ٹیڑھے خطوط سے بنیاد رکھتے۔ باقی کمک سرمایہ کاروں کی بھیڑ فراہم کرتی جن کے لیے سب کچھ پیسہ ہے۔ چڑھدا پنجاب یا لہندا پنجاب، دونوں طرف کتنے لوگوں نے کبھی سپورٹس گاڑی کی شکل تک دیکھی ہو گی؟ لیکن جٹاں دے منڈے کا گیت اس لش پش کے بغیر کیسے شوٹ ہو سکتا تھا۔ سوشل میڈیا کے کنویں میں قید نوجوان نسل سوتے جاگتے یہی خواب دیکھنے لگی اور سدھو موسے والا تازہ مال مارکیٹ میں پھینکتے رہے۔

پاکستانی کی پنجابی فلم انڈسٹری نے کبھی گنڈاسا کلچر سے ایسی ہی اڑان بھری تھی لیکن سماجی اثرات مرتب کرنے سے پہلے اسے کلاشنکوف جہاد نے آ لیا۔ دوسرا واضح فرق اس عہد میں سوشل میڈیا کا نہ ہونا تھا۔

آج کے نوجوان انڈین گلوکاروں کے سامعین تازہ دم نئی نسل ہے جس تک پہنچنے کے لیے انسٹا گرام، فیس بک یا یوٹیوب پر بس ایک ویڈیو ڈالنا کافی ہوتا ہے۔ تصور کیجیے سدھو موسے والا کے محض انسٹا گرام فالورز کی تعداد 89 لاکھ ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ نوجوان اپنی خیالی دنیا میں ویسی دنیا کے خدوخال نہ وضع کریں جسے وہ موبائل کی سکرین پر دن رات دیکھتے ہیں۔

سدھو موسے والا ان کا ہیرو ہوا سو جس سے اختلاف تھا وہ ٹھہرا ’کتا‘ اور خود کو کم سے کم بھی ’شیر‘ تصور کرنا تو بنتا ہی تھا۔ بندہ پھڑکاؤ اور فراٹے بھرتی گاڑی سدھو موسے والے کے گیتوں سے گونجنے لگے۔

جتھدے بندہ مار کے قصور پچھدے
جٹ اس پنڈ تو بلانگ رکھدا

پنجاب کے دیہی علاقوں میں عام نوجوانوں تک سدھو کے جو اثرات پہنچے سو پہنچے لیکن ’سیلف میڈ پاپ سینسیشن‘ نے بیرون ملک پنجابیوں میں جس طرح کھوکھلی نمائش کا کلچر فروغ دیا وہ لیول ہی کچھ اور ہے۔

باہر جا کر اتنا پیسہ ہاتھ آ ہی جاتا ہے کہ بندہ کچھ عرصے کے لیے واپس آئے تو سپورٹس نہ سہی کوئی اور چمکتی گاڑی خرید لے۔ سفید لٹھے کا سوٹ، کندھے پہ بندوق، ساتھ تین چار اٹھائی گیرے اور گلی محلوں میں چھوٹے موٹے چند جھگڑے ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا کیس بنے گا؟ لیکن اس سے بھی کیا گھبرانا جب سدھو پا جی کہہ گئے ہیں کہ ’لنڈواں نوں پیندیاں سدا لعنتاں، کیس کوس پیندے مرداں تے سوہنیے۔‘

اسلحہ اور گینگ کلچر کے ساتھ ساتھ تعصب کی حدوں کو چھوتا تفاخر کس طرح سدھو نے ہمارے کلچر کا حصہ بنایا آئیے ان کے تین ’شاہکار‘ گیتوں کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

سنجو (2020)

سدھو موسے والا کو کلاشنکوف سے فائر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ضمانت پر رہائی ملی تو سدھو جی نے ایک گیت ریلیز کر ڈالا جس میں اپنی اور سنجے دت کی گرفتاری کے درمیان مماثلت تلاش کی۔

گانے کی ویڈیو میں سنجے دت کی 1993 میں گرفتاری اور اخبارات کی سرخیاں واضح دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ سدھو خود بھی کلاشنکوف کندھے سے لٹکائے دبنگ انداز میں موجود ہیں۔ اردو میں اس گیت کے چند بولوں کا ترجمہ دیکھیے اور ذرا مانسا کے سنجو کا لب و لہجہ ملاحظہ کیجیے۔

’جو میرے جیل جانے کی خوشی میں لڈو بانٹ رہے ہیں، میں باہر آ کر ان سب کو تحفہ دوں گا (پھینٹی لگاؤں گا)۔ جس نے دشمنی لی ہے وہ بچے گا نہیں۔‘

وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ مقدمہ بنا اور جیل گئے کیونکہ ’مردوں پر کیس ویس تو بنتے ہی رہتے ہیں۔‘ بس اس سے یہ ہو گا کہ ’شہرت کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔‘ کسے شہرت کی ضرورت نہیں؟ پھر کیا خیال ہے بندوق اٹھا لی جائے؟

محض یوٹیوب پر یہ گیت ابھی تک ساڑھے سات کروڑ بار سنا جا چکا ہے۔

لیجنڈ (2019)

سدھو کی افسوس ناک موت کے بعد ایک لائن کے بہت چرچے ہوئے اور وہ مسلسل سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی کہ ’دل نہیں ماڑا تیرا سدھو موسے آلا۔‘ شروع میں لگا تھا جیسے یہ گیت ذرا کم چٹ پٹا ہو گا لیکن سدھو نے مایوس نہیں کیا۔

خود ستائی اور تفاخر کا ایسا اظہار بھی کوئی ان جیسا لیجنڈ ہی کر سکتا ہے۔ ٹیپ کا مصرع اپنی تعریف میں تو آتا ہی ہے لیکن ان کا ٹریڈ مارک یعنی تشدد سے گہری وابستگی بھی پوری طرح جھلکتی ہے۔ چند سطریں دیکھیے ’میرے پاس لائسنس والی پمپ ایکشن گن ہے۔ ایک بار میں چھ گولیاں چڑھتی ہیں اس لیے نشانہ خطا ہونے کا تو امکان ہی نہیں۔ میری محبوبہ کوئی خوبصورت دوشیزہ نہیں بلکہ بندوق ہے۔‘

دشمن کیسے کم ذات اور ’کتے‘ جبکہ صاحب نغمہ جٹ اور ’شیر‘ ہیں، اس کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے یوٹیوب پر گیت سن لیجیے جہاں یہ ابھی تک 13.4 کروڑ کی تعداد میں سنا جا چکا ہے۔

بمبیہا بولے (2019)

گینگسٹر دویندر بمبیہا کا گروہ اور ان کی لارنس بشنوئی گروپ سے لڑائی کئی جانیں نگل چکی ہے۔ سدھو کے مخالفین دو بنیادوں پر بمبیہا گروپ سے ان کا تعلق جوڑتے ہیں۔ ایک تو ان کے مینجر شگن پریت کا نام مدوکھیرا کے قتل میں سامنے آیا۔

دوسرا اس گیت کو بمبیہا گروپ کی مدح سرائی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بمبیہا کی مدح سرائی ہو یا نہ ہو گینگسٹر کلچر کو بھرپور خوابناک بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جٹ کی ڈبلیو جیسی مونچھ دیکھ کر دنیا ڈرتی ہے۔ نام تارے جیسا چمکتا ہے۔ جہاں جم کے کھڑا ہو جائے دشمن کی ٹانگیں جیپ کی کھڑکی سے لٹکتی نظر آتی ہیں۔ کمر پر پوری طرح بھری ہوئی 0.45 بندوق جو سینہ چیر دیتی ہے۔‘

یہی نہیں بلکہ ’پولیس آدھی آدھی رات تک اس کا پیچھا کرتی ہے۔‘ پورا ڈان والا امیج۔ محض یوٹیوب پر یہ گیت ابھی تک 17.8 کروڑ بار سنا جا چکا ہے۔

پنجاب کا ایک کلچر وہ تھا جسے احمد راہی نے اپنے گیتوں میں پینٹ کیا۔ مثال کے طور پر نمی نمی وا وگدی، چھلاں پئی ماردی جوانی جٹی ہیر دی، ونجلی والڑیا، میری چنی دیاں ریشمی تنداں، میں چھم چھم نچاں، زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا۔ 

مزاحمت کی ایک سطح وہ ہے جو پاش کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ دوسری طرف تشدد، جتھہ بندی، ماڑ دھاڑ اور انتہائی بودا نسلی تفاخر ہمارے سپرسٹار کا ٹریڈ مارک رہا۔

سدھو موسے والا کی بےبس ماں کو روتا دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ فالورز کی تعداد لاکھوں ہو یا کوئی ایک بھی نہ ہو ماں کے لیے اس کا بیٹا ہی سب سے بڑا سپر سٹار ہوتا ہے۔ اس کی آنکھ میں آنسو فالورز کی تعداد کے حساب سے نہیں بہتے۔

ان ماؤں کا کیا بنے گا جن کے لخت جگر اس کلچر کی بھینٹ چڑھے یا چڑھیں گے۔ ان کے لیے کوئی ٹرینڈ بنے گا نہ سرخی جمے گی کہ ’ایک ماں نے بیٹا اور پنجاب نے سپرسٹار کھو دیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی