اسمبلی میں بھٹو کی ’دھمکی‘ جو انہیں پھانسی گھاٹ لے گئی

احمد رضا قصوری پیپلز پارٹی کے اولین رہنماؤں میں سے ایک تھے مگر جلد ہی ان کے اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان زبردست جنگ شروع ہو گئی۔

23 فروری 1976 کی اس تصویر میں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سٹاک ہوم آمد کے موقعے پر(اے ایف پی)

چار جون 1974 کو بھٹو قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے۔ دوران تقریر انہوں نے کہا، ’آئین پر حزب اختلاف کا شور اور واویلا بلاجواز ہے کیونکہ حزب اختلاف کے تمام ارکان نے آئین پر دستخط کیے ہیں اور یہ آئین ایک متفقہ آئین ہے۔‘

اس پر احمد رضا قصوری نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’جناب سپیکر، رتو ڈیرو سے آنے والے فاضل مقرر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ میں نے آئین پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آئین پر سب نے دستخط کیے ہیں اور یہ متفقہ آئین ہے؟‘

قصوری کی مداخلت اور ان ریمارکس پر بھٹو طیش میں آ گئے اور انہوں نے قصوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چلاتے ہوئے کہا: I have had enough of this man. He is absolute poison. We will not tolerate him anymore.
(میں نے اس شخص کو بہت برداشت کر لیا ہے۔ یہ مجسم زہر قاتل ہے۔ اب ہم اس کو قطعی برداشت نہیں کریں گے)

بھٹو اتنے اشتعال میں کیوں آئے، اس کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔

پیپلز پارٹی کے ابتدائی کارکنوں میں سے ایک

احمد رضا خان قصوری دو ستمبر 1938 کو قصور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں ایام طالب علمی میں اس نے سٹوڈنٹ پالیٹکس میں نمایاں کردار ادا کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 1966 میں جب ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوکر بذریعہ ٹرین، لاہور آئے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں احمد رضا قصوری نمایاں تھے۔

27 نومبر 1967 کو قصور میں احمد رضا قصوری کی قیام گاہ پر بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد ایک سیاسی جماعت قائم کرنے والے ہیں جس کا نام پاکستان پیپلزپارٹی ہو گا۔ تین دن بعد 30 نومبر 1967 کو بھٹو نے لاہور میں ایک سیاسی کنونشن میں اس جماعت کا قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

دسمبر1970 میں احمد رضا قصوری نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قصور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور جمعیت علمائے پاکستان کے میاں اجمل احمد شرقپوری اور میاں افتخار الدین کے صاحبزادے میاں عارف افتخار کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ مگر انتخابات کے کچھ عرصہ بعد پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے اس کے اختلافات شروع ہو گئے۔

ان اختلافات کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے اس اعلان سے ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تین مارچ1971  کو ڈھاکہ میں بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے نہ ہی کسی اور رکنِ اسمبلی کو شرکت کرنے دیں گے۔ بلکہ بعض اخباروں میں رپورٹ ہوا کہ ایسا کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔

استعفیٰ دینے سے انکار

بھٹو کے اس اعلان یا دھمکی کے باوجود احمدرضا قصوری اس اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچ گئے۔ بھٹو کی جانب سے بین کی وجہ سے یہ اجلاس کبھی منعقد ہی نہیں ہوا مگر یہیں سے بھٹو اور قصوری کے درمیان فاصلے بڑھنے شروع ہو گئے۔

جب احمد رضا قصوری ڈھاکہ سے مغربی پاکستان واپس آئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے احمد رضا قصوری سے، پارٹی پالیسی سے اختلاف کرنے کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ طلب کر لیا۔ مگر احمد رضا قصوری نے اپنی نشست سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے یہ نشست پاکستان پیپلز پارٹی کی بدولت نہیں بلکہ اپنی مقبولیت کی بنیاد پر جیتی ہے۔

قصوری نے بھٹو کو برطرف کر دیا

ذوالفقار علی بھٹو نے احمد رضا قصوری کی مقبولیت کو پرکھنے کے لیے دو مئی 1971 کو قصور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اجلاس سے قبل بھٹو نے معراج خالد، حنیف رامے اور یعقوب خان کے الزامات کی روشنی میں احمد رضا قصوری کو پارٹی رکنیت سے معطل کر دیا۔ احمد رضا قصوری نے اس اعلان کے بعد خود بھی ایک اجلاس منعقد کیا اور اعلان کیا کہ انہیں پیپلز پارٹی سے کوئی نہیں نکال سکتا۔

اگلے دن احمد رضا قصوری نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرمین شپ سے برطرف کرنے کا اعلان کر دیا!

چھ جون 1971 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ نے احمد رضا قصوری کو باضابطہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت سے خارج کر دیا اور یوں ذوالفقار علی بھٹو اور احمد رضا قصوری کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی سے نکالے جانے کے بعد قصوری قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتے اور کسی اور پارٹی کی طرف سے یا آزاد حیثیت میں دوبارہ انتخاب لڑتے مگر پاکستان میں اس قسم کی کوئی جمہوری اقدار موجود ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ 1972 میں جب قومی اسمبلی کے اجلاس شروع ہوئے تو احمد رضا قصوری نے تحریک استقلال میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

1973 کا آئین جب منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش ہوا تو احمد رضا قصوری ان تین افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس آئین پر دستخط نہیں کیے تھے۔ اسمبلی میں احمد رضا قصوری کی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔

قومی اسمبلی میں بھٹو کی اس تقریر کے کوئی پانچ ماہ بعد 11 نومبر1974 کو وہ واقعہ پیش آیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا رخ ہی بدل ڈالا۔

اس واقعے کی تفصیل یہ تھی کہ اس رات احمد رضا قصوری، اپنے والد نواب محمد احمد خان قصوری، اپنی والدہ (صاحبزادی میمونہ بانو بیگم) اور خالہ (بیگم آغا مہدی خان) کے ہمراہ اپنے ایک دوست سید بشیر شاہ کی دعوت سے گھر واپس لوٹ رہے تھے۔

گاڑی احمد رضا قصوری چلا رہے تھے۔ وہ جب شادمان اور شاہ جمال کے سنگم پر واقع چوک میں پہنچے تو اچانک نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں احمد رضا قصوری تو محفوظ رہے مگر ان کے والد نواب محمد احمد قصوری شدید زخمی ہو گئے۔

احمد رضا قصوری فوراً اپنے والد کو لے کر یونائیٹڈ کرسچین ہسپتال پہنچ گئے، مگر وہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نواب محمد احمد قصوری نے دم توڑ دیا۔

مقدمہ داخل دفتر

احمد رضا قصوری نے اسی رات قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جس میں اس نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس قتل کا بڑا ملزم ٹھہرایا۔ بھٹو نے فوراً اس قتل کی تفتیش کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شفیع الرحمٰن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا۔ اس ٹربیونل نے 26 فروری1975 کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی جس میں مقدمے کی چھان بین کے لیے چند رہنما خطوط تجویز کیے گئے تھے۔

حکومت نے وہ رپورٹ منظر عام پر نہیں آنے دی۔ اکتوبر 1975 میں مقدمہ کو عدم سراغ یابی کی بنا پر داخل دفتر کر دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی سے چند ماہ قبل چھوٹی چھوٹی چٹوں پر اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب Rumour and Reality (افواہ اور حقیقت) میں اس مقدمۂ قتل پر کئی جگہ روشنی ڈالی ہے۔

ان کے بقول نہ احمد رضا قصوری نے اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد نے 1970 سے قبل قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخاب جیتا۔ احمد رضا قصوری کو 1970 میں محض اس لیے کامیابی حاصل ہوئی کہ اسے پیپلزپارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔

بھٹو کے بقول دسمبر 1971 میں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو یہ راز ظاہر ہو گیا تھا کہ احمد رضا قصوری خفیہ ایجنسیوں کے تنخواہ دار ملازم تھے جو جنرل یحییٰ کی فوجی حکومت سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے جنرل ضیا الحق کا آلہ کار بننا منظور کر لیا۔

بھٹو نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے کہ ابھی محمد احمد قصوری کا لہو بھی خشک نہ ہوا تھا کہ ان کا بیٹا چیختا چلاتا، بھٹو مخالفین کے پاس گیا اور ان سے مشورہ کیا کہ وہ اپنے باپ کی موت سے کیسے فائدہ اٹھائیں۔

چوہدری ظہور الٰہی بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے برامدوں میں سازش ہوئی کہ اس افسوس ناک واقعے کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ چنانچہ بھٹو پر قتل کی سازش کا الزام عائد کردیا گیا۔ وہ بھٹو سے وزارت لینے میں ناکام رہے تھے اور یہی بات دشمنی کا سبب بنی تھی۔

بھٹو کے بقول وہ وزیراعظم کو نیچا دکھانے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔ انہی ذرائع کے مطابق اچانک ہی انہیں یہ موقع اپنے باپ کی موت کی شکل میں مل گیا۔

قصوری نے ہر ممکن حد تک جذبات انگیز ڈرامائی صورت اختیار کی اور اس نے جتنے بھی ناشائستہ الزامات لگائے وہ انتہائی ڈرامائی تھے۔ قصوری اور اس کے ساتھی ظہور الٰہی نے فیصلہ کیا کہ مقدمے میں وزیراعظم کا نام یہ کہہ کر ملوث کر دیا جائے کہ قصوری کی صرف انہی کے ساتھ دشمنی ہے۔ اس طرح انہوں نے ایک سکینڈل کو ہوا دی اور وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

ٹربیونل پر مکمل اعتماد

بھٹو نے محمد احمد قصوری کی موت کی تحقیقات کے لیے ٹربیونل قائم کر دیا۔ مولوی مشتاق کے ایک قریبی دوست جسٹس شفیع الرحمٰن کو اس کی سربراہی کے لیے چنا گیا۔ چونکہ یہ بات ہر کسی کو معلوم تھی کہ جسٹس شفیع الرحمٰن وزیراعظم کو پسند نہیں کرتے، اس لیے قصوری کو ٹربیونل پر مکمل اعتماد تھا اور وہ ان کے سامنے پیش ہوئے۔

ٹربیونل نے اس واقعے کی پوری تحقیقات کی۔ قصوری نے ٹربیونل میں بیان حلفی میں تسلیم کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ حملہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی دشمنی کے نتیجے میں ہوا ہو۔ انہوں نے چار قسموں کے لوگوں کے بارے میں بتایا جو ان کے بارے میں بری نیت رکھتے تھے۔

انہوں نے قادیانیوں کا ذکر کیا جن پر انہوں نے اس وقت شدید حملے کیے تھے جب قادیانی مسئلہ اپنی انتہائوں کو چھو رہا تھا۔ انہوں نے قصور میں اپنے ان مخالفین کا ذکر کیا جن کے ساتھ ان کی دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی۔

انہوں نے حزب اختلاف کے چند ارکان اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا ذکر کیا جن کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ ٹربیونل کی رپورٹ کے اختتام پر قصوری نے ٹربیونل کے اخذ کیے ہوئے نتائج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

جونہی ٹربیونل کی رپورٹ مکمل ہوئی، قصوری نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ بھٹو نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ قصوری نے وزیراعظم کو رقت آمیز خطوط لکھے۔ وزیراعظم نے آخر کار قصوری کو پارٹی کی صفوں واپس لینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔

پیپلز پارٹی میں واپسی کے لیے احمد رضا قصوری کی بے چینی کا مقصد واضح تھا۔ وہ آنے والے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کا سہارا لے کر دوبارہ ایم این اے بننا چاہتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ قصور پیپلزپارٹی کا مضبوط گڑھ ہے اور وہ پیپلزپارٹی کی مدد کے بغیر انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ قصوری نے دھوم دھڑکے کے ساتھ پیپلزپارٹی میں واپس آنے کا اہتمام کیا۔

چھ اپریل 1976 کو انہوں نے بیگم نصرت بھٹو سے ملاقات کی اور چار برس بعد دوبارہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے بیگم نصرت بھٹو سے درخواست کی کہ وہ پارٹی میں اس کی واپسی کے موقعے پر اپنی موجودگی سے عزت بخشیں۔

اگلے دن انہوں نے اپنی ماڈل ٹاؤن لاہور کی قیام گاہ پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی میں اپنی دوبارہ شمولیت کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔

بھٹو پر بیٹا قربان

اس استقبالیے میں انہوں نے وزیراعظم کی بے حد تعریف کی۔ ان کی ماں (بیگم نواب محمد احمد خان قصوری) نے سر عام اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم پر اپنے تمام بیٹے قربان کر دیں گی کیونکہ وزیراعظم بھٹو کے بغیر پاکستان باقی نہیں رہے گا۔

احمد رضا قصوری آئندہ انتخابات میں پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کی خواہش میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ جنوری 1977 میں اس نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی زرعی اصلاحات کی ان الفاظ میں تعریف کی۔

’میں قومی اسمبلی سے ایسے تاریخی موقع پر خطاب کر رہا ہوں جب ہم پاکستان میں انقلابی زرعی اصلاحات کو متعارف کروا رہے ہیں۔ مسٹر سپیکر، اگر میں وزیراعظم بھٹو اور ان کی حکومت کو پاکستان میں انقلابی اصلاحات کے نفاذ پر مبارک باد نہ دوں تو میں اپنے فرائض میں کوتاہی برتوں گا۔‘

قصوری کو احساس تھا کہ لوگ ان کی باتوں پر حیران ہوں گے اس لیے انہوں نے مزید کہا:

’میں راست باز اور کھرے آدمی کی شہرت رکھتا ہوں۔ میں ایوان کے اس طرف سے اس حکومت کا سخت نکتہ چین تھا، اس لیے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ جب میں اس حکومت کی تعریف کرتا ہوں تو یہ چاپلوسی ہے۔ اس ملک میں بہت سے وزرائے اعظم آئے لیکن موجودہ وزیراعظم جو اس ملک کے ناؤ کو کھے رہے ہیں، ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔‘

یہ قصوری ہی بتا سکتے ہیں کہ آیا ان کی باتیں خلوص پر مبنی تھیں یا یہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کا حربہ تھا۔ بہرحال مارچ 1977 کے انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے احمد رضا قصوری کو ٹکٹ نہیں دیا۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ اس سے انہیں کچھ نہ مل سکا۔ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ان کو متلون مزاج قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے دوست بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھٹو نے لکھا ہے کہ قصوری کے باپ کے قتل کے حوالے سے انہیں کوئی احساس جرم ہوتا تو وہ ان کا منہ ٹکٹ دے کر بند کر دیتے جس کے لیے وہ ’بھیک مانگ رہے تھے۔‘ انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ انہیں کوئی احساس جرم نہیں تھا۔

پانچ جولائی1977 کو جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس واقعے کے چند دن بعد احمد رضا قصوری، حیدرآباد آئے۔ وہاں انہوں نے رسول بخش تالپور کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’پیپلزپارٹی سے ناراض اور روٹھا ہوا عنصر قومی اتحاد میں شامل کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرے گا بلکہ پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کا یہ گروپ پنجاب میں عوامی جمہوری پارٹی کو متحرک کرے گا۔‘

پنجاب کی ریت

احمد رضا قصوری سے پوچھا گیا کہ وہ پیپلز پارٹی میں دوبارہ کیوں شامل ہوئے، انہوں نے جواب دیا کہ ’عبدالحفیظ پیرزادہ اور صادق حسین قریشی کے بعد بیگم نصرت بھٹو ان کے گھر آئی تھیں اور کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر میری والدہ کو یقین دلایا تھا کہ ان کے شوہر کے قتل میں بھٹو کا ہاتھ نہیں تھا۔ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے میری والدہ کو مجبور کیا کہ میں پیپلزپارٹی میں دوبارہ شامل ہو جاؤں۔ چنانچہ پنجاب کی ریت کے مطابق ہم سے انکار نہ بن پڑا اور ہمارے صوبے کی یہ ریت رہی ہے کہ جب کسی کی بہن، بیٹی، بیوی یا ماں کسی کے گھر چل کر آئیں تو تمام گلے شکوے جاتے رہتے ہیں۔‘ 

مگر چند ہی ہفتے بعد فوجی حکومت کی آشیرباد پر، احمد رضا قصوری کو بھٹو دوبارہ اپنے باپ کا قاتل نظر آنے لگے اور محمد احمد قصوری کی بیوہ نے، جنہوں نے وزیراعظم بھٹو پر اپنے تمام بیٹے قربان کر دینے کا اعلان کیا تھا، جنرل ضیا کو ایک درخواست دی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمہ دوبارہ شروع کیا جائے۔

احمد رضا قصوری نے جسٹس شفیع الرحمٰن ٹربیونل کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس دوران 90 دنوں کے اندر انتخابات کے نام نہاد ڈرامے کا اعلان ہوا تو انہوں نے لاہور کے حلقہ نمبر تین سے بھٹو کے خلاف انتخاب لڑنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جنرل ضیا نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ بھٹو کے خلاف درخواست دائر کریں تو معاوضے کے طور پر اسے اس حلقے سے کامیاب کروا دیا جائے گا۔ احمد رضا قصوری نے جنرل ضیا کے ساتھ اپنے تعلقات پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ انتخابات کے بعد جنرل ضیا نے انہیں وزیر بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ چار جون 1977 کو قومی اسمبلی میں بھٹو کے ادا کیے گئے الفاظ انہیں نواب محمد احمد قصوری کے قتل میں ملوث کرنے کا سب سے بڑا جواز بن گئے اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے نتیجے میں بھٹو کو اس قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ یوں ملک اپنے ایک ذہین مگر متنازع سیاستدان سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا۔

احمد رضا قصوری اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک سیاست کے میدان سے دور رہے۔ البتہ 1990، 1993 اور1997 کے عام انتخابات میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا مگر ہر مرتبہ بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔

2002 کے انتخابات سے قبل وہ تحریک انصاف میں شامل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 2002 میں انہوں نے قصور اور اسلام آباد دو حلقوں سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا مگر اس مرتبہ بھی دونوں حلقوں سے اس کی ضمانت ضبط ہو گئی۔

آج کل قصوری جنرل مشرف کی قائم کردہ آل پاکستان مسلم لیگ سے وابستہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ