’بھٹو‘ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ کسی بھی زاوئیے سے لکھی جائے، ایک نام ہر طرح سے شاملِ داستان رہا ہے اور وہ نام اسی کا ہے، جس نے موت کی کوٹھڑی سے چھوٹے چھوٹے کاغذوں اور سگریٹ کی خالی ڈبیا کو استعمال کرکےمستقبل کی کہانی لکھی کہ ’اگر مجھےقتل کیا گیا‘ توکیا ہوگا۔

20 دسمبر 1971 کی اس تصویر میں سابق پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اپریل 1979 میں پھانسی دے دی گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ کالم نگار کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں۔


زندگی حسنِ اتفاقات سے عبارت ہے۔ کچھ دن ہوئے 27 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران (تا دمِ تحریر) موجودہ وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کیا اور ایسے ریفرنس کے طور پر کیا کہ تیر کے نشان والے وارثانِ بھٹو تڑپ گئے کہ ؎ اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے!

 یہ ذکر کرتے وقت عمران خان کے ہاتھ میں ایک لہراتا ہوا کاغذ تھا جسے وہ غیر ملکی دھمکی آمیز خط کا نام دے رہے تھے۔کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن تاریخ کبھی کبھی بہت سے لوگوں کی یاد داشت کے بند دروازوں پر دستک بھی دیتی ہے اور کبھی کبھی جھنجوڑتی بھی ہے۔

اب ایسے ہی ایک خط یا سفارتی مراسلے کی پرانی گونج سنائی دینے لگی ہے جس نے مارچ اور اپریل 1978 میں ہنگامہ پر پا کر دیا تھا جب بھٹو نے برملا کہا تھا کہ

؎کس قیامت کے یہ نامے میرے نام آتے ہیں !

اس پرانے خط کے ذکر کے ساتھ ہنری کسنجر کا نام آیا، جو ہاتھی کے نشان والی رپبلیکن پارٹی کے صدر رچرڈ نکسن اور پھر صدر جیرالڈ فورڈ کے ادوار میں سیکریٹری خارجہ اور سکیورٹی کونسل کے ایڈوائزر رہے۔

وہی کسنجر جنہیں ویت نام میں جنگ بندی کے اقدامات پر 1973 میں امن کا نوبیل انعام عطا کیا گیا تھا اور جس پر احتجاجاً کمیٹی کے دو اراکین مستعفی ہو گئے تھے۔ اسی کسنجر کے خط میں مبینہ طور پر بقول بھٹو، پاکستان کو ایٹمی پروگرام بند کرنے سے انکار پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن بھٹو صاحب ہر قیمت پر ایٹمی پروگرام کو آگے لے جانا چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ ’قوم سے گھاس کھانے‘ کا وعدہ لینے کی حد تک گئے کیونکہ وہ علاقے میں اس پڑوسی ملک ہندوستان کی فوجی بالا دستی کسی طرح منظور کرنے کو تیار نہیں تھے، جو کچھ عرصہ پہلے 1974 میں انڈین نیشنل کانگریس کی پردھان منتری اندرا گاندھی کی زیرِ قیادت ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا اور جس کی مدد سے دسمبر 1971 کو ہم ڈھاکہ کی جنگ ہار کے آدھا ملک گنوا چکے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن جن دنوں فرانس کی مدد سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ لگانے کے دلیرانہ اقدام کے علاوہ بھٹو کو کئی اور کارناموں کی بدولت ’عبرت‘ کا نشان بنانے کی دھمکیاں خط کے ذریعے مل رہی تھیں، وہ واقعی خطوں کا زمانہ تھا۔ آج کل کے فٹا فٹ برقی چٹھی بھیجنے کی سہولت نہیں تھی ان دنوں۔ لیکن خیر بات ہو رہی تھی بھٹو کے کارناموں کی۔۔۔

لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد، جس میں اسلامی بلاک کا قیام اور ایک مشترکہ کرنسی کی تجویز شامل تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں ایسی ہی تجاویز کو بنیاد بنا کر یورپی یونین متحد ہوگیا۔ دیوارِ برلن ٹوٹ گئی اور ایک نئی کرنسی یورو کے نام سے مالیاتی بازار میں گردش کرنے لگی اور مضبوط بھی ہوتی چلی گئی۔ ادھر بھٹو کے ساتھ ساتھ لاہور کی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے باقی سرکردہ رہنماؤں کا انجام بھی اچھا نہیں ہوا لیکن وہ کہانی پھر سہی !

ابھی یہاں بات بھٹو کی اور ان کے انجام کی ہے تو اب اس اتفاق کو کیا کہیے کہ انہیں 1979 میں اپریل ہی کے مہینے میں تین اور چار تاریخ کی درمیانی رات سحر کی کرنوں سے پہلے ایک ایسے عدالتی فیصلے کی رو سے پھانسی پر لٹکا دیا گیا جس کو آج چار دہائیوں کے بعد بد ترین دشمن بھی عدالتی قتل ماننے پہ متفق ہیں۔

تارا مسیح کے موت کا لیور کھینچتے ہی ایک جسمانی عہد تمام ہوا اور دشمنوں نے سکھ کا سانس بھی لیا ہوگا لیکن کہانی میں آگے کئی پیچیدہ موڑ آنے تھے، سو آئے اور سکھ کا سانس بھی اٹکنے لگا۔

میں جل بجھا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری

اسے خبر ہی نہیں، خاک کیمیا تھی مری

میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی

پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری

پاکستان کی سیاسی تاریخ کسی بھی زاوئیے سے لکھی جائے، ایک نام ہر طرح سے شاملِ داستان رہا ہے اور وہ نام اسی کا ہے جس نے موت کی کوٹھڑی سے چھوٹے چھوٹے کاغذوں اور سگریٹ کی خالی ڈبیا کی اندرونی سپاٹ سطح کو استعمال کرتے ہوے مستقبل کی کہانی لکھی کہ ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ تو خطے میں کیا ہو گا!

اب یہ بھی شاید اتفاق ہے یا پس منظر کچھ اور ہے کہ جس ایٹمی پروسیسنگ پلانٹ کا آغاز پہلے منتخب وزیراعظم نے کیا، اسے ایٹمی دھماکہ کرکے پایہ تکمیل تک ایک اور جمہوری منتخب وزیراعظم نے 1998 میں یعنی 22 سال کے بعد پہنچایا۔ درمیانی 24 سال کیا ہوتا رہا اس پہ راوی خاموش سہی لیکن با خبر ضرور ہے۔

واپس آتے ہیں نئے خط کی طرف جسے سفارتی مراسلہ کہتے ہیں اور جو غالباً کوڈ کی زبان میں لکھا جاتا ہے اور جسے لہراتے ہوے عمران خان نے بذاتِ خود جلسے میں پہلے بھٹو کا اور بعد میں اپنے قوم سے خطاب میں امریکہ کا نام لیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ دونوں مراسلوں میں کچھ قدرِ مشرک ہے۔  یہ جاننے کے لیے، چلیے دونوں کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔

بھٹو کا بطور وزیراعظم دورِ حکومت ساڑھے تین سال سے کچھ اوپر کا ہے جسے اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے ذریعے ختم کیا گیا۔ عمران خان کا دورِ حکومت بھی ساڑھے تین سال سے ذرا اوپر کا بنتا ہے لیکن انہیں جمہوری اور آئینی طریقے سے پارلیمان میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا رہا ہے اور جس کے لیے متحدہ حزبِ اختلاف اپنی عددی برتری ثابت کر چکی ہے لیکن حتمی فیصلہ تین اپریل کو پارلیمنٹ میں ہونے جا رہا ہے۔

ایک اختلافی نوٹ یہ ہے کہ بھٹو کا خط کسنجر کی جانب سے جبکہ عمران خان کا موجودہ خط اپنے ہی ملک کے سفارتی افسر کا بھیجا ہوا مراسلہ ہے۔

اب اس کھلے راز سے بھی کون واقف نہیں کہ دنیا بڑی عالمی طاقتوں میں بٹی ہوئی ہے۔ انہی طاقتوں کے ساتھ مختلف چھوٹے ممالک کے ملنے سے جو بلاک بنتے ہیں ان کی بنیاد کہیں معاشی، کہیں تاریخی تو کہیں مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی بھی ہے۔ دنیا کی سیاست کو سمجھنے کے لیے پہلا سبق دنیا کا نقشہ سمجھنا ہے۔ کیا ایک ملک مکمل آزادانہ طور پہ کسی بھی بلاک میں شامل ہونے کے لیے اپنی مرضی سے، اپنے معاشی فائدے کو دیکھتے ہوئے اور اپنی قومی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کر سکتا ہے؟ بہت پہلے سرد جنگ کے دنوں میں ایسے ہی کسی موقع پر احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ ؎

بے وقار آزادی ہم غریب ملکوں کی

تاج سر پہ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پاؤں میں

کیا آج حالات مختلف ہیں؟

کیا ایک آزاد ملک ایک سے دوسرے بلاک میں چھلانگ لگا سکتا ہے جب کہ اس کے پاؤں میں کئی طرح کے بوجھ بندھے ہوں؟ اور کیا چھلانگ لگانے والا بوجھ اتار پھینکنے کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے؟ اور حوصلہ بھی جان کی بازی لگانے کا؟

حرفِ آخر کے طور پہ عرض ہے کہ کالم کا عنوان احمد فراز کے جس شعر سے لیا گیا ہے اس میں ترمیم کے لیے فراز صاحب کی روح سے معذرت کہ اصل شعر یوں ہے۔ ؎

عیسی نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے

انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ