’اعتبار‘ دیکھ کر رشتوں سے اعتبار اٹھ گیا

اب ہم عورتوں کو اس خوش فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے کہ کوئی ایک مرد ساری عمر دیوی کی طرح چاہ سکتا ہے۔ یہ غیر فطری غیر صحت مند اور غلام رویہ ہے۔

جتنا ڈپریشن ڈرامے میں ہے اتنا ہی موسیقی میں ہے، اتنا ہی ٹائٹل میں ہے (ہم ٹی وی)

’اعتبار‘ کو دیکھتے ہوئے انسان کا رشتوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور شادی جیسے سماجی بندھ سے تو بالکل اعتبار ختم ہونے لگتا ہے جو سماجی بندھن ایک معاشرے کی تشکیل کر رہا ہوتا ہے۔

اردو کلاسیک شاعری جس سیاق و سباق سے دنیا میں پہچانی جاتی ہے، جدید نفسیات اس کو بیمار سوچ کہتی ہے۔

یونہی جدید نفسیات کی روشنی میں اس ڈرامے میں موجود تمام کرداروں کو ہی نہیں بلکہ گھرانوں کو بھی نفسیاتی علاج کی اشد ضرورت ہے اس کو جدید نفسیات میں ’گروپ تھیراپی‘ کہتے ہیں جس میں گھرانوں کا نفسیاتی علاج کیا جاتا ہے تاکہ وہ سماجی طور پہ خود بھی فعال زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے لیے بھی فعال کردار بنیں۔

ڈرامے میں کوئی بھی کرداد نفسیاتی طور پہ اپنے لیے فعال اور مخلص نہیں ہے جب کوئی اپنے ساتھ مخلص نہیں تو سماج کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے۔ جذبات کا ایک سماجی سوچ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ صدیوں پرانی روایات کا ایک جہاز ہے جو زندگی کے ساحل کنارے لنگر انداز ہے اور اس میں سے تیزابیت زدہ کیمائی مادہ سمندر کے پانی اور فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔

ڈراما کیا ہے جی، ڈپریشن کا کارخانہ ہے۔

کہانی کار کا ذمہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قاری اور ناظر کو سماج کی تصویر ہی نہ دکھائے بلکہ ان کا حل اور جدیدیت سے جڑے تقاضوں کا بھی خیال رکھے۔ یہی خیال کسی بھی چینل کو رکھنا چاہیے کیونکہ یہ وہ نصاب ہے جو لاشعوری ہمارے بچوں میں منتقل ہو رہا ہوتا ہے لیکن سمجھ تب آتی ہے جب یہ پھل دینے لگتا ہے۔

آج کل کے دور میں جب سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ ہمارے اصل آبا و اجداد کون تھے۔ ڈی این اے نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس کی مدد سے ریپ کے مجرم کو پکڑا جا سکتا ہے، وہاں ایک لیڈی ڈاکٹر کی کہانی اس بنیاد پہ کیسے پیش کی جاسکتی ہے کہ یہ بچہ اس کے شوہر نامدار کا نہیں ہے بلکہ وہ اغوا کرنے والے کا ہو سکتا ہے۔ اُف!

ایک ٹیسٹ میں پورا ڈراما فلاپ ہو سکتا ہے، لیکن ایک دانش مند مصنفہ نے ایک دانش مند ڈاکٹر صاحبہ سے سوشل میڈیا وار تو کروا دی، ڈی این اے ٹیسٹ چیلنج نہیں کروا سکی۔

 ناظر کو یہ سوچ نہیں دی کہ تماشا بننے اور بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔

جتنا ڈپریشن ڈرامے میں ہے اتنا ہی موسیقی میں ہے اتنی ہی ٹائٹل میں ہے۔ خدارا، رحم کیجیے۔ سماج کی تصویر دکھانا اور بات ہے سماج میں تناؤ انجیکٹ کرنا اور بات ہے۔

 

دوسری کہانی دوسری بہن شیزا کی ساس صاحبہ کی ہے ساتھ ایک عدد ماں کا لاڈلا ہے، جسے موجودہ سماجی زبان میں ’ماماز بوائے‘ کہتے ہیں، جس کی ساری زندگی اس کی ماں کنٹرول کرتی ہے۔

رب جانے ایسے لسوڑے مردوں کے کردار ابھی تک کیوں دکھائے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کی بھابی جان ہیں ظالم اور بہنیں ازل سے معصوم۔ ملک جہانگیر ظالم کرپٹ سرمایہ دار نظام کا نمائدہ اور بیٹا ایک واقعے سے اس کے برعکس ہیرو بن جاتا ہے۔

ہائے، انسان نہ تو فرشتہ ہے نہ ہی شیطان۔ انسان کو انسان اور رشتوں کو انسان میں قید کردار کے طور پہ کہانیاں دکھائیں ورنہ مستقبل میں درختوں کو آگ لگی تو ذمے دار ایک بار پھر ساری نسل ہو گی۔

پورے ڈرامے میں کوئی زندگی کا وزن اٹھاتا ایک بھی مکالمہ نہیں ملا حالانکہ کہانی تو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان سے نکلی ہی نہیں۔

گھر سے گھر تک ہی محدود ہے۔ ایک رشتہ نکلتا ہے دوسرا رشتہ درمیان میں ٹانکا فٹ کر لیتا ہے۔

رشتوں کو باوقار دکھانا اور وہ جس روپ میں غلطیوں کوتاہیوں کے بعد اور ان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں انہیں اسی صورت قبول کرنا و کروانا ہنر مندی ہے۔

یہ غیر صحت مندانہ رویہ ہے کہ ساری عمر رشتوں کی غلامی جذباتیت سے کی جائے ہر بار مرد اپنی پسند کی عورت کو منطق کے مطابق پا لینے کی تگ و دو میں لگا رہے لیکن یہ خوش فہمی بھی خواتین مصنفین میں ملتی ہے کہ ایک ہی مرد ہے اور ایک ہی عورت کو مسترد بھی کیے جا رہا ہے محبت بھی کیے جا رہا ہے وہ کسی اور کے ساتھ اسے دیکھ بھی نہیں پا رہا۔

معذرت کے ساتھ۔ جو اس سوچ کا حامل ہوتا ہے وہ یوں بیوی کو چھوڑتا نہیں اور اس کی بات کا اعتبار کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہو بھی گیا تو قبول کر لیتا ہے کیونکہ وہ ظرف کا بلند ہوتا ہے ظرف کا بلند سوچ کا وسیع انسان ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو زندگی کا روگ نہیں بنا دیتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب ہم عورتوں کو اس خوش فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے کہ کوئی ایک مرد ساری عمر دیوی کی طرح چاہ سکتا ہے۔ یہ غیر فطری غیر صحت مند اور غلام رویہ ہے۔

 جس نےایک بار اعتبار نہیں کیا وہ کبھی بھی نہیں کرے گا۔ جس نے اعتبار کرنا ہے اس نے ہر حال میں کرنا ہے۔

جتنا ڈپریشن ڈرامے میں ہے اتنا ہی موسیقی میں ہے اتنی ہی ٹائٹل میں ہے۔ خدارا، رحم کیجیے۔ سماج کی تصویر دکھانا اور بات ہے سماج میں تناؤ انجیکٹ کرنا اور بات ہے۔

خدارا رشتوں میں اعتبار پیدا کیجیے، بےاعتباری عکس کرنے والے کے اپنے اندر اندھیرا ہوتا ہے۔ انسان وہی تقسیم کرتا ہے جو اس کے پاس ہو۔ اپنے پہ اعتبار رکھیں۔

اعتبار روشنی کی طرح رشتوں کو باندھ اور نبھا لیتا ہے۔

 سسرال کو دوزخ مت دکھائیں۔ لڑکیوں کے دلوں میں کم عمری میں ہی خوف پیدا ہو جاتا ہے اور لڑکے بھی ڈر جاتے ہیں کہ ان کے گھر سے باہر کے وقت میں گھر میں کیا ہو رہا ہو گا۔

 بہت سے ڈراموں میں بھائی اپنا وراثتی حصہ لے کر گھر سے نکلتے ہیں تو کبھی آخری قسط تک واپس نہیں آتے۔ نہیں یار صد فی صد ایسا نہیں ہوتا، بیوی اتنی بڑی ہے تو آپ کی بیٹیاں بھی بیویاں ہیں۔

اس ڈرامے میں بھی اکلوتا بیٹا اور بہو بھی اتنے ہی برے ہوتے تو اپنا حصہ نہ مانگتے، بلکہ ماں بہن کو نکالتے گھر سے باہر اور قبضہ کر لیتے۔ داماد کی طرف سے وراثت کا مطالبہ اتنا منفی نہیں لگ رہا جتنا بیٹے کا کردار منفی دکھا دیا گیا ہے اور وہی بیٹا حصہ لینے کے بعد دکھائی نہیں دے رہا۔

محبتیں بانٹے کی کوشش کریں۔ ایسی ساس، بھابھیاں، معصوم نندیں اور نیم پکوڑے قسم کے مردوں کی کہانی سے کوئی مثبت رویہ پروان نہیں چڑھتا۔ شک کے بیج بونے والی بات ہے۔

 رشتوں کو محبت سے باندھ کر پیش کریں۔ شادی کو عذاب مت دکھائیں۔

 سسرال کو دوزخ مت دکھائیں۔ لڑکیوں کے دلوں میں کم عمری میں ہی خوف پیدا ہو جاتا ہےاور لڑکے بھی ڈر جاتے ہیں کہ ان کے گھر سے باہر کے وقت میں گھر میں کیا ہو رہا ہو گا۔

رشتوں کی سب سے مضبوط ڈوری اعتماد ہے۔ رشتے طاقت ہوتے ہیں معاشرے کے لیے ان کو ایک یونٹ کے طور پہ باندھے رہنے کا رویہ پیش کریں۔ انسان کو انسان کے بت میں دکھائیں، شیطان اور فرشتے کے اندر نہیں۔

 بہرحال ڈراما دیکھ کر ہمیں تو بہت دکھ ہوا۔ رب جانے آپ کی کیا رائے ہو گی۔

 داغ دہلوی ہی اتنے دکھ میں یاد آ سکتے تھے

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ