کیا معاشی بحران سے کاروبار بند ہو رہے ہیں؟

بجٹ میں کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کی بھرمار سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے یہ حساب کتاب ہی نہیں لگایا کہ اس سے کیا فائدہ ہو گا اور کیا نقصان ہو سکتا ہے۔

10 جون 2022 کو کراچی میں خواتین کے ملبوسات کی دکان پر ایک گاہک کپڑے دیکھ رہا ہے۔ مہنگائی میں اضافے سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے اور کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

 

عمر کپڑے کا کاروبار کرتا ہے۔ لاہور اچھرہ بازار میں ایک کرائے کی دکان لے رکھی ہے۔ اس کے گاہکوں میں اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں اس کے کاروبار میں اضافہ ہوا، لیکن جب سے نئی حکومت آئی ہے اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

خصوصی طور پر پچھلے ایک ماہ میں گاہکوں کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ عمر کے مطابق اس کی وجہ مہنگائی میں اضافہ ہے۔ آمدن میں اضافہ نہیں ہو رہا کیوں کہ بظاہر لوگوں کی قوت خرید کم ہو گئی ہے۔ گاہکوں کی اکثریت جہاں ایک سیزن کے تین چار جوڑے لے کر جاتی تھی وہ اب ایک جوڑا لے کر جا رہی ہے۔ جب ان سے دو تین جوڑے لینے پر اصرار کریں تو اکثر یہی جواب ملتا ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، گھر کا سودا سلف لینے کے بعد کپڑوں کے لیے زیادہ پیسے نہیں بچتے۔

عمر کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیل نہیں ہو رہی ہے اور دوسری طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مجبوراً جنریٹر چلانا پڑتا ہے۔ اوپر سے پیٹرول کا خرچ دو گنا بڑھ چکا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ماہ میں 85 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔

اس نے کہا کہ میں نے ٹی وی پر سنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا کیونکہ آئی ایم ایف ابھی بھی پاکستان سے خوش نہیں ہے اور وہ سبسڈی ختم کرنے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگانا چاہتا ہے۔ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو مجھے اپنی دکان بند کرنا پڑے گی، میں دو ماہ سے اپنی جیب سے دکان اور گھر کا خرچہ چلا رہا ہوں۔

مزید پڑھیے:  اہم مقاصد کے لیے بجٹ میں اضافی اقدامات کرنے ہوں گے: آئی ایم ایف

اس کا کہنا ہے کہ پیسے کی قلت کے باعث میں نے بینک سے قرض لینے کا فیصلہ کیا۔ جب بینک سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ قرض لینے کی صورت میں 19 سے 20 فی صد سود بینک کو ادا کرنا ہو گا، کیونکہ شرح سود 15 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

وہ سوچنے لگا کہ میری دکان کا منافع دس سے 12 فیصد ہے، اگر میں بینک کو 20 فیصد سود ادا کروں گا تو آٹھ سے دس فیصد مجھے اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے گا، میں گھر کیا لے کر جاؤں گا اور دکان کیسے چلاؤں گا؟

اس نے بینک مینیجر دوست سے پوچھا کہ اتنا مہنگا قرض کوئی لیتا بھی ہے یا نہیں؟ بینک مینیجر نے بتایا کہ جب سے شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے لوگوں نے کاروبار بند کر کے سرمایہ بینکوں میں رکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے ڈیپازٹ تو بڑھ گیا ہے لیکن بینکوں سے قرض لینے والے افراد کی تعداد میں کمی آ گئی ہے اور بینکوں میں ٹرانزیکشنز بھی آدھی رہ گئی ہیں۔ کچھ بینکوں نے احتجاجا قرض دینا بند کر دیے ہیں۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کو بتایا ہے کہ اتنی زیادہ شرح سود پر بینک کام نہیں کر سکیں گے، لیکن سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں کمی کرنے ہر تیار دکھائی  نہیں دے رہا۔

عمر کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی حکومت نئی حکومت سے بہتر تھی، عمران خان کے دور میں اگر مہنگائی تھی تو کاروبار بھی چل رہا تھا، صنعتیں بند نہیں ہو رہی تھیں۔ ن لیگ اور ان کی اتحادی جماعتیں تجربہ کار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن میں انہیں اس وقت تجربہ کار مانوں گا جب میری دکان اپنا خرچ نکالے، میرے گھر کے اخراجات پورے کرے اور مجھے بچت بھی دے۔ اگر میں خوشحال نہیں ہو سکتا تو حکومت کے تجربہ کار ہونے کے دعوے کھوکھلے ہیں۔‘

 یہ بھی پڑھیے: معاشی بد انتظامی ٹھیک کرنا اولین ترجیح ہے: مفتاح اسماعیل

یہ صرف عمر کی کہانی نہیں ہے بلکہ کاروبار سے جڑے تقریباً ہر شخص کا یہی نوحہ ہے۔ میں نے اس بحران کی وجوہات جاننے اور خصوصاً ٹیکسٹائل پر رائے لینے کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس پروگریسو گروپ کے صدر خالد عثمان صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ حکومت کے غلط فیصلوں نے بےیقینی کی صورت حال میں اضافہ کر دیا ہے۔

بقول خالد عثمان: ’لارج مینوفیکچرنگ یونٹس کی پیداوار اپریل کے مہینے میں 13.3 فیصد کم ہوئی ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ دو ماہ میں تقریباً 30 ہزار سے زیادہ ٹیکسٹائل ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے، کیونکہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملیں یا تو بند پڑی ہیں یا پھر آدھی کارکردگی پر کام کر رہی ہیں۔ حکومت فیصلہ ہی نہیں کر پا رہی کہ اس نے کس سمت جانا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’سرکار جانتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے بغیر نہیں چل سکتی تو ایسی صورت میں آئی ایم ایف کے مطالبات کے برعکس بجٹ پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آئی ایم ایف ناخوش ہے اور اس کی وجہ حکومتی مِس مینجمنٹ ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے آئی ایم ایف سے قرض کی قسط وصول کرے۔ بصورت دیگر ڈالر 235 روپے کا ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر ڈالر تقریباً ایک سے ڈیڑھ روپے بڑھ رہا ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کے ڈالرز کے ذخائر نو ارب ڈالر کی نفسیاتی حد سے گر چکے ہیں۔ سرمایہ کار ڈالرز بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ ڈالر مافیا ڈالر ذخیرہ کر رہا ہے۔ اگلے 15 سے 20 دن معاشی اعتبار سے مزید تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ ملک کو اس وقت مضبوط اور مستقل مزاج حکومت کی ضرورت ہے۔‘

مزید پڑھیے: وفاقی بجٹ کا 40 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو گا

جب میں نے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ سے کاروباری صورت حال کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کاروباری طبقہ خصوصی طور پر چھوٹی انڈسڑی کے سٹیک ہولڈرز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے سٹیٹ بینک اور نجی بینکوں کو بیٹھ کر پالیسی بنانا ہو گی تاکہ یہ صنعتیں ڈوبنے سے بچ سکیں۔ بینک سود کی ادائیگیوں کو کچھ عرصے کے لیے التوا میں ڈال کر کاروباری لوگوں پر بوجھ کم کر سکتے ہیں۔

’اس کے علاوہ بجٹ منظور ہونے سے پہلے آئی ایم ایف پروگرام کا منظور ہونا ضروری ہے۔ اب تک آئی ایم ایف کا واضح بیان آ جانا چاہیے تھا کہ وہ نئی حکومت کے فیصلوں سے مطمئن ہے یا نہیں، تاکہ سرمایہ کار مطمئن ہوں۔ اسی صورت میں مارکیٹ میں ٹھہراؤ اور مضبوطی آ سکتی ہے۔ بصورت دیگر پچھلے تین سالوں میں انڈسٹری لگانے میں جو محنت کی گئی تھی وہ چند ماہ میں رائیگاں ہو سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر سلیمان شاہ نے مزید کہا: ’بجٹ میں کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت نے یہ حساب کتاب ہی نہیں لگایا کہ اس سے کیا فائدہ ہو گا اور کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ بغیر سمت کے پالیسیاں نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔‘

ان حالات کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اندرون اور بیرون ملک سرمایہ کار موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایک مضبوط معیشت کے لیے مضبوط اور مستقل سیاسی نظام اہم ہے۔ کاروباری طبقے کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ موجوہ حکومت اپنا وقت پورا کر سکے گی۔ بصورت دیگر عدم اعتماد کی کیفیت میں اضافے کا خدشہ ہے جو پاکستانی معیشت اور کاروبار کے لیے زہر قاتل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ