تاجِ برطانیہ ہندوستانی پریس سے کتنا خائف تھا؟

انگریز کے زمانے میں زیادہ تر صحافی فری لانسر کے طور پر کام کرتے تھے اس لیے ہندوستانی میڈیا میں کالم اور مضامین تو تھے مگر خبریت کم کم تھی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بمبئی میں 1664 میں پہلا برطانوی پریس لگایا، تاہم پہلے ہندوستانی اخبار کی اشاعت 29 جوری کو 1780 میں ’بنگال گزٹ‘ کے نام سے کلکتہ میں ہوئی جو اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کا دارالحکومت تھا (فوٹو: پبلک ڈومین)

ہندوستان میں پہلا پرنٹنگ پریس پرتگیزیوں نے گوا میں 1556 میں لگایا تھا، جس کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔

ہوا یوں کہ ایک مسیحی مبلغ سینٹ فرانسس زاویئر 1540 کی دہائی میں تامل ناڈو میں تبلیغ کے لیے آئے۔ اس عرصے میں پرتگال کے بادشاہ جاؤ سوم کی ایما پر گوا کے وائسرائے نے ہندوستانیوں کے لیے ایک سکول قائم کر دیا تھا۔ فرانسس زاویئر نے پرتگال کے بادشاہ کو خط لکھا کہ وہ ہندوستان، جاپان اور ایتھیوپیا کے لیے پرنٹنگ پریس اور ان کے ساتھ رومن کیتھولک فرقے کے مبلغ بھی بھیجے۔

بادشاہ نے بحری جہاز پر پادریوں کے ہمراہ پرنٹنگ پریس روانہ کر دیا۔ جہاز جب گوا پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایتھوپیا کے شہنشاہ نے مسیحی مبلغوں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے یہ جہاز گوا کے پادری کی درخواست پر وہیں رک گیا اور یہ پرنٹنگ پریس گوا میں سینٹ پال کالج میں لگا دیا گیا۔ اس طرح جرمنی میں جانز گوتھم برگ کی جانب سے 1436 میں ایجاد ہونے والا پریس تقریباً 120 سال بعد ہندوستان پہنچ گیا تھا۔

ایشیا کا پہلا اخبار ہندوستان سے نکلا

ایسٹ انڈیا کمپنی نے بمبئی میں 1664 میں پہلا برطانوی پریس لگایا، تاہم پہلے ہندوستانی اخبار کی اشاعت 29 جوری کو 1780 میں ’بنگال گزٹ‘ کے نام سے کلکتہ میں ہوئی، جو اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کا دارالحکومت تھا۔

اسی بنگال گزٹ کو ایشیا کے پہلے اخبار کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کا پبلشر ایک سکاٹش جیمز اگاسٹس ہکی تھا۔ اس اخبار کی ہر ہفتے کو چار سو کاپیاں چھپتی تھیں اور قیمت ایک پیسہ تھی۔ جیمز ایسٹ انڈیا کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا تھا اور لکھتا تھا کہ اس کے افسران اور اشرافیہ مالی بے ظابطگیوں میں ملوث ہیں، حتیٰ کہ ہندوستان میں مشنریز جو پیسہ لگا رہی ہیں ان میں بھی بدعنوانی موجود ہے۔ جیمز کی جانب سے الزامات کے جواب میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 18 نومبر 1780 کو اپنا اخبار انڈین گزٹ نکال لیا۔ اگلے سال جیمز کے الزامات کے خلاف مقدمہ بنا دیا گیا جس کے تحت جیمز کو سات سال کی سزا ہوئی، اسے جیل بھیج دیا گیا اور اس کا پریس نیلام کر دیا گیا، جسے انڈین گزٹ نے ہی خرید لیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا مرکز ہونے کی وجہ سے کلکتہ میں اگلے چند سالوں میں مزید اخبار نکلے جن میں 1784 میں کلکتہ گزٹ، 1785 میں بنگال جرنل، اورینٹیل میگزین آف کلکتہ اور 1786 میں کلکتہ کرونیکل شامل تھے۔ مدراس کوریئر 1788 اور بمبئی ہیرالڈ 1789 میں شروع ہوئے۔

ششی تھرور اپنی کتاب ’ان ایرا آف ڈارک نیس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’یہ اخبارات محض چھوٹی سی یورپی کمیونٹی کے مفادات کے عکاس تھے جن میں تجارتی مفادات سب سے اہم تھے۔ ان میں جہازوں کی آمدو رفت اور کالونی کے نظم و نسق میں بہتری کی خبریں مہیا کی جاتی تھیں۔ انہوں نے ہی ہندوستان میں اخباری کلچر پروان چڑھایا۔ ان ابتدائی اخبارات میں کوئی بھی اپنے قدم جما نہیں سکا لیکن مستقبل کے اخبارات کی راہیں ہموار ہو گئیں۔‘

اردو صحافت کے دو سو سال

اردو کا پہلا اخبار ’جامِ جہاں نما‘ ہے جو بنگالی کے بعد برصغیر کی کسی بھی زبان کا دوسرا اخبار تھا۔ یہ 27 مارچ 1822 کو جاری ہوا، گویا اردو صحافت کی عمر 200 برس ہو گئی ہے۔

اس ہفتہ وار اخبار کے مدیر منشی سدا سکھ لال تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے، جب کہ یہ اخبار کلکتہ کی برطانوی تجارتی کوٹھی ولیم ہاپکنز پیئرس اینڈ کمپنی کی ملکیت تھا۔

البتہ یہ اخبار کامیاب نہیں ہو سکا اور صرف دو ماہ کے بعد ہی بند ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں عوام کی اکثریت ان پڑھ تھی جب کہ پڑھی لکھی اشرافیہ زیادہ تر فارسی پڑھنا پسند کرتی تھی، اس لیے اخبار کے بانی ہری دت نے یہی اخبار اردو کی بجائے فارسی میں شروع کر دیا۔

اسی زمانے کے آس پاس پہلا گجراتی اخبار ’بمبئی سما چار‘ 1822 میں شروع ہوا۔ اس کے بعد بنگالی زبان کے اخبارات ’دا بنگالی‘ اور ’امرتا بازار پتریکا‘ بھی شروع ہوئے۔ اسی دور میں مقبول اخبارات ’ٹائمز آف انڈیا‘ 1838 اور ’کلکتہ سٹیٹس مین‘ 1875 میں شروع ہوئے۔ مدراس سے ’دی ہندو‘ کا اجرا 1878 میں ہوا۔

لاہور سے پہلے اخبار کا اجرا 1856 میں سید محمد عظیم نے کیا تھا جو دہلی میں ایک اخبار ’دہلی گزٹ پوسٹ‘ میں کام کر چکے تھے۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ کا اجرا 1872 میں شملہ سے ہوا تھا جس کا مقصد مرکزی حکومت کی کارکردگی کو عوام تک پہنچانا تھا۔ ششی تھرور نے لکھا ہے کہ 1875 تک ہندوستان میں تقریباً 475 اخبارات و جرائد شائع ہو رہے تھے۔

 

ہندوستانی پریس سے متعلق برطانوی قوانین

ایسٹ انڈیا کمپنی کی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے لارڈ ویلز نے سنسر شپ آف دی پریس ایکٹ 1799 متعارف کروایا جو کہ ہندوستان کے تمام اخبارات و جرائد کو حکومتِ ہند کے محاسبہ کے تحت لے آیا۔ بعد میں اس ایکٹ کو 1807 میں توسیع دی گئی اور ہر شائع شدہ چیز بھی اس اجازت سے مشروط کر دی گئی۔

اس ایکٹ کی وجہ سے سرکش پریس بند کر دیا گیا۔ انڈین ورلڈ، بنگال گزٹ اور کلکتہ جرنل کے مدیران نہ صرف گرفتار ہوئے بلکہ انہیں انگلینڈ ڈی پورٹ بھی کر دیا گیا۔

لیکن انگلینڈ میں آزادی اظہار رائے کی بڑھتی ہوئی تحریک کا اثر ہندوستانی پریس پر بھی ہوا۔ ادھر دوسری جانب کمپنی کی گرفت ہندوستان پر مضبوط ہو گئی اور اسے یورپی حریفوں کا خطرہ بھی ختم ہو گیا جس کی وجہ سے ہندوستانی پریس نے نہ صرف قارئین کا ایک حلقہ بنا لیا بلکہ خود کو اشرافیہ کے ایک قابل اعتماد ستون کی حیثیت سے بھی منوا لیا۔

اخبارات و جرائد کے اجرا کو لائسنس سے مشروط کر دیا گیا اور یہ ایکٹ لائسنسنگ ایکٹ 1823 کہلایا۔ پھر پریس ایکٹ 1835 آیا۔ لائسنسنگ ایکٹ 1857، رجسٹریشن ایکٹ 1867، عمومی پریس ایکٹ 1878، نیوز پیپر ایکٹ 1908 اور انڈین پریس ایکٹ 1910 شامل تھے۔ ہندوستانی اخبارات کا مقصد شروع میں قوم پرستی کی تحریکوں کو ہوا دینا تھا۔

شروع میں ان کا دائرہ اثر بڑے شہروں تک محدود تھا لیکن لائبریریوں کے قیام اور ہندوستان میں ٹرین کی آمد کی وجہ سے ان کی پہنچ دور دراز کے علاقوں تک بھی پہنچ گئی تھی۔ ہندوستانی میڈیا بخوبی جانتا تھا کہ اس کی آزادیاں محدود ہیں، کیونکہ انڈین پینل کوڈ سیکشن 12اے کے تحت کسی بھی صحافی کو کارِ سرکار میں مداخلت کی بنا پر عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی تھی۔

اس کا حل میڈیا نے یوں نکالا تھا کہ وہ ہر مطالبہ یا تنقید کرتے ہوئے پہلے تاج برطانیہ کی وفاداری کا اظہار کرتا اور پھر اپنا مدعا بیان کرتا اور جہاں اس سے بھی کام نہ چلتا تو وہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے قوم پرست تنقید نگاروں کا حوالہ دینا ہی کافی سمجھتا۔

لارڈ لیٹن کی انتظامیہ کے دوران ہندوستانی میڈیا کا انداز جارحانہ تھا تاہم انہوں نے سخت قوانین لا کر اسے کنٹرول کر لیا۔ سریندر بینر جی وہ پہلے ہندوستانی صحافی بن گئے جنہیں 1883 میں جیل جانا پڑا۔ انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک جج کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کے فیصلے سے بنگالیوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس کے بعد بنگال میں قحط اور طاعون کی وبا کے دوران بھی برطانوی راج پر تنقید کی وجہ سے کئی اخبار نویسوں پر کڑا وقت آیا۔

ہندوستان کی تحریک آزادی میں پریس کا کردار

بیسویں صدی کے آغاز میں جب یہاں کے باشندوں میں سیاسی بیداری کی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے اپنی آواز اشرافیہ تک پہنچانے کے لیے پریس کا سہارا لیا۔ مختلف سیاسی اور مذہبی گروہوں نے اپنے اپنے اخبارات نکالنے شروع کر دیے۔ بمبئی کرونیکل کو کانگریس کے صدر سر فیروز شاہ نے 1910 میں شروع کیا۔ کانگریس کے ہی حمایتی اور کاروباری برلا خاندان نے 1924 میں ہندوستان ٹائمز کا جرا کیا۔

جواہر لال نہرو نے 1938 میں نیشنل ہیرالڈ اور محمد علی جناح نے 1941 میں کراچی اور دلی سے ڈان کا اجرا کیا۔ اس کے علاوہ لالہ لاجپت رائے کا پنجابی، موتی لال نہرو کا انڈپینڈنٹ، دادابھائی نورو جی کا وائس آف انڈیا اور راست گفتار، راجہ رام موہن رائے کا مراۃ الاخبار اور داوندرا ناتھ ٹیگور کا انڈین مرر بھی نمایاں اخبارات میں شامل تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا تقرر جب آخری وائسرائے کے طور پر ہوا تو وہ اپنے ساتھ لندن سے ایلن کیمبل جانسن کو بطور پریس اتاشی لائے۔ اس سے پہلے جتنے بھی وائسرائے ہندوستان آئے تھے ان کے سٹاف میں پریس اتاشی کا عہدہ موجود نہیں تھا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ تاریخ کے ان نازک لمحات میں وہ ہندوستان کے آزاد میڈیا کی اہمیت سے کماحقہ آگاہ تھے اور ان نزاکتوں سے بھی واقف تھے جن کا سامنا انہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے وہ نہ صرف اپنے سب سے معتمد خاص ایلن کیمبل جانسن کو ساتھ لائے بلکہ انہیں اپنے پریس اتاشی کی ذمہ داری بھی دی۔

ایلن کیمبل جانسن نے ’مشن ود لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘ کے نام سے اپنی ڈائری لکھی جو 1951 میں چھپی۔ اس کتاب سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ا س دور کا میڈیا بھی دو قومی نظریے کے زیر اثر تھا۔ ہندو میڈیا اور مسلم میڈیا اپنی اپنی قومیتوں کی جنگ لڑ رہا تھا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی انتظامیہ کا اصل کام یہ تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے اس کی بھنک میڈیا تک نہ پہنچے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن پھر بھی انہیں میڈیا کی جانب سے بعض اوقات سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ مثال کے طور پر پانچ مئی 1947 کی ڈائری میں ایلن کیمبل جانسن لکھتے ہیں کہ ’ہفتے کے دن پہلی بار ہندوستانی اخبارات نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر شدید حملے کیے۔ خصوصاً ہندوستان ٹائمز کا رویہ جارحانہ ہو گیا ہے۔ اس میں جو مضمون شائع ہوا ہے اس کی اہمیت یوں بھی ہے کہ اس کے ایڈیٹر مہاتما کے صاحبزادے دیوداس گاندھی ہیں اور پروپرائیٹر سب سے بڑا سرمایہ دار جی ڈی برلا ہے اور اخبار نہرو، پٹیل اور مہاتما کی زبان بولتا ہے۔ مضمون کے شروع میں لکھا گیا ہے کہ ’لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے آج پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ وہ کانگریسیوں اور سکھ لیڈروں کے ساتھ مساوی برتاؤ نہیں کر رہے۔‘

اسی طرح 30 اپریل کی ڈائری میں انہوں نے ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ڈان نے پشاور کے نامہ نگار کے حوالے سے ایک نہایت ہی غلط خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی ہے کہ سرحد کے لیڈروں کی ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات، مانکی اور قیوم نے پیرول پر رہا ہونے سے انکار کر دیا، پٹھان مردو زن کا زبردست احتجاجی مظاہرہ، وائسرائے بذریعہ ہوائی جہاز جمرود گئے۔‘

’حقیقت در اصل کچھ اور ہی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن نے مانکی اور قیوم کے ساتھ دو گھنٹے گزارے تھے اور دونوں مسلم لیگ کے وفود کے خاص نمائندے کے طور پر ملے تھے۔ خبر کو دیکھ کر ماؤنٹ بیٹن کا پہلا رد عمل تھا کہ اس کے خلاف جناح سے احتجاج کیا جائے۔ لیکن میں نے انہیں روک دیا کہ میں ایڈیٹر سے بات کر لوں گا۔ اس نامہ نگار کی تخیلِ پرواز کا واقعی قائل ہونا پڑتا ہے کہ اس نے بڑی خوبصورتی سے یہ جانے بغیر کہ جمرود میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں ہے، گھڑ دیا کہ وائسرائے بذریعہ ہوائی جہاز جمرود گئے۔‘

ایلن کیمبل جانسن لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے جناح سے احتجاج کیا تو انہوں نے کہا کہ اخبار میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے اور ایڈیٹر مکمل آزاد ہے۔ بہرحال آج سے تقریباً 75 سال پہلے جب ہندوستان کو آزادی ملی تو اس میں ایک اہم کردار ہندوستانی میڈیا کا بھی تھا جس نے کم و بیش سو سال کے عرصے میں اتنی آزادی ضرور حاصل کر لی تھی کہ تاج اس سے خوف زدہ ہو چکا تھا۔

البتہ اس زمانے میں زیادہ تر صحافی فری لانسر کے طور پر کام کرتے تھے، اس لیے ہندوستانی میڈیا میں کالم اور مضامین تو تھے مگر خبریت کم کم تھی۔ یہ روش آج آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود بھی برقرار ہے اور اشرافیہ نے میڈیا کو طاقت کے ایک حصے کے طور پر اپنا ہمنوا بنا لیا ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ میڈیا میں کوئی خبر آئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ