وہ سبق جو 30 سال کی عمر تک سیکھ لینے چاہییں

کیٹ اینگ زندگی کی دوسری دہائی کو الوداع کہتے ہوئے 30 سال کی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا نچوڑ کچھ مشوروں کی صورت میں ہمارے لیے پیش کیا ہے۔

اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ڈٹ جانا سب سے زیادہ تکلیف دہ چیزوں میں سے ایک ہے جو آپ کو زندگی میں کرنا پڑیں گی (فوٹو: پکسلز)

میری 30 ویں سالگرہ آن پہنچی ہے اور میری زندگی کی تین دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن جب رواں برس 30 سال کے ہو جانے والے میرے دوست ایک بحران میں گھرے بیٹھے ہیں، میں ایسی کسی بھی فکر سے آزاد اور انتہائی مطمئن محسوس کر رہی ہوں۔

کوئی حواس باختگی نہیں، پچھلی دہائی کے خاتمے پر کوئی واویلا نہیں۔ خدایا کیا میں عجیب نہیں ہوں؟

میں ایسا ہونا بھی نہیں چاہتی۔ مجھے ایسا لگتا ہے میں پہلے ہی 30 سال کی عمر میں جی رہی ہوں اور ایسا تب سے ہے جب میں کم از کم 27 کی تھی۔ لیکن اب میں واقعی لوگوں کو بتا سکتی ہوں کہ میں رات 10 بجے کے قریب سونے کے لیے بستر پر چلی جاتی ہوں۔ کوئی بھی دیدے پھاڑ کر نہیں کہے گا کہ ’ابھی تو تم تمہاری محض یہ عمر ہے۔‘

اب جبکہ میں 30 سال کی ہو چکی ہوں، ایک دلچسپ اور کامیاب دور (کامیابی کو نکال دیں، جو اس معیشت میں ممکن نہیں) میں داخل ہو چکی ہوں تو میں وہ تمام بڑی بوڑھی خواتین والی چیزیں کر سکتی ہوں جو پہلے سے میری زندگی کا حصہ ہیں۔ یعنی آدھی رات سے پہلے پارٹی چھوڑ دینا کیوں کہ اب مجھے پروا نہیں ہوتی کہ میری غیر موجودگی میں کوئی دلچسپ چیز نہ ہو جائے؟ بالکل۔ ویکیوم کلینر کی آواز سے تنگ ہونا؟ میں بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہوں۔ تیزی سے زوال پذیر ہوتی دنیا میرا پسندیدہ موضوع ہے۔

لیکن مجھے یقین ہے کہ میں اس ناگزیر بحران کو ہمیشہ کے لیے نہیں ٹال سکتی۔ ہونی کسی نہ کسی طرح ہو کر رہنی ہے۔ میرا کئی بار مشکل اور نئی چیزوں سے واسطہ پڑا، بیزار کن، بے بس اور دل خراش، جس طرح کے بھی حالات سے میں ان 30 برس کے دوران گزری ان سے میں نے 30 سبق کشید کیے۔

1۔ ’زندگی بری کتابیں پڑھنے میں ضائع مت کرو،‘ یہ ایک دم بکواس بات ہے!

اس ’مشورے‘ نے مجھے ہمیشہ پریشان کیا کیوں کہ جب تک میں اسے پڑھوں گی نہیں مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کتاب بری ہے۔ ہماری زندگی کے مختلف حصوں میں ہمارے ذوق مختلف ہوتے ہیں لہذا ایسی کتاب اٹھانے سے مت گھبرائیں جو آپ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہو، بھلے وہ دوسروں کو اچھی نہ لگے۔

2۔ انڈوں کے بارے میں کبھی یقین نہ کریں

میں انڈے پسند کرتی ہوں لیکن انہوں نے میری زندگی میں کم از کم دو مرتبہ مجھے پریشان کیا۔ اب اگر مجھے انڈے کے بارے میں شبہ ہو تو پانی کے ذریعے اس کا ٹیسٹ لازمی کرتی ہوں۔ ایک پیالہ پانی سے بھریں اور اور احتیاط سے انڈا اس میں ڈال دیں کہ آیا یہ تیرتا ہے کہ ڈوبتا ہے۔ اگر یہ ڈوب جائے تو کھانے کے لیے بہترین ہے اگر تیرنے لگے تو اسے سیدھا کوڑے دان میں پھینک دیں۔ اس سلسلے میں میرے ساتھ تیسری مرتبہ ہاتھ نہیں ہوا۔

 3۔ اپنے گِرلڈ سینڈوچ کے بیرونی حصہ پر مایونیز استعمال کریں

یہ کھانا بنانے کے بارے میں ایک بہترین طریقہ تھا جو میں نے اپنی زندگی میں سیکھا۔ کوئی بھی سینڈوچ جسے آپ گِرل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے باہر مکھن لگانے کے بجائے مایونیز کی تہہ پھیلائیں۔ یہ نہ صرف آپ کو نرم بریڈ پر نسبتاً سخت چیز، مکھن لگانے کی اذیت سے بچائے گا بلکہ اس میں سوراخ ہونے اور اسے پھٹنے سے بھی محفوظ رکھے گا۔ یوں آپ کا سینڈوچ زیادہ ہموار طریقے سے پکے گا۔

4۔ جوتے جس قدر خوبصورت ہوں، اتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے گی

یہ ایسا سبق ہے جسے سیکھنے کے بجائے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میں جانتی ہوں میں ایسے جوتے خریدتی رہوں گی جو مضحکہ خیز طور پر خوبصورت نظر آئیں گے اور پھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ غالباً ایک بہتر سبق یہ ہے کہ جوتوں کا تعین ان کی خوبصورتی کی بجائے اس بات سے کریں کہ وہ کس قدر تکلیف دیں گے اور اس کے مطابق اپنی تیاری کر لیں۔ چھالوں پر لگانے والے پلاسٹرز بھی تیار رکھیں۔

5۔ برطانیہ کے لوگ خجالت اٹھاتے ہیں لیکن شرمندگی محسوس نہیں کرتے

ایک غیر ملکی ہونے کے ناطے میرے لیے یہ بہت دلچسپ ہے کہ میں برطانوی ثقافت کا مظاہرہ مقامی افراد سے ہٹ کے کر سکتی ہوں۔ ایک چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ ہے کہ برطانوی معمولی چیزوں سے از حد شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ خدا معاف کرے صحیح نہ بنا ہوا کھانا اس لیے واپس نہیں بھیجیں گے کہ ’نیا ڈرامہ‘ نہ شروع ہو جائے، تاہم اہل برطانیہ کو اس چیز سے کوئی مسئلہ نہیں کہ ساری رات جام لنڈھانے کے بعد وہ پاگلوں کی طرح گلی میں قے کرتے جائیں۔ ان کی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ 

6۔ خواہ مخواہ شرمندہ ہونا چھوڑیں

میری زندگی میں ایسے لمحات اچھے خاصے ہیں جب میں نے شرمندگی محسوس کی۔ میرے ذہن میں اکثر اس وقت کی تصویر ابھرتی ہے جب میں نے پہلی مرتبہ موٹے تلوے والے سینڈل استعمال کیے اور جب نیو کراس کے قریب ایک لڑکے کے پاس سے گزری تو وہ طنزیہ مسکرایا تھا یا جب میں کھیلوں کی پہلی کلاس میں ورزش والی سائیکل سے گری تھی۔ میں نے انتہائی اذیت کے ان لمحات پر کیسے قابو یایا؟ انہیں قبول کرلیا۔ اگر کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچی ہو تو فوراً کھڑے ہو جائیں اور اسے ہنسی میں اڑا دیں اور دوبارہ بائیک پر سوار ہو جائیں۔ ہر کوئی بس اسی بات پر خوش ہو گا کہ آپ کی جگہ وہ نہیں تھا۔

7۔ مرد آپ کو غلط ثابت کرنا پسند کرتے ہیں

مردوں سے متعلق میں نے جو سب سے مفید چیزیں سیکھیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ کو غلط ثابت کرنے کی کتنی خواہش رکھتے ہیں۔ سو اسے اپنے حق میں استعمال کریں۔ ایسا بولیں کہ ’میں جانتی ہوں کہ آپ یہ (بورنگ کام) نہیں کریں گے اور مجھے خود ہی کرنا پڑے گا‘ اور دیکھیں کہ وہ کام کیسے چند گھنٹوں کے اندر ہو جاتا ہے۔ یہ جادوئی نسخہ ہے۔

8۔ چست جینز کو چھوڑ دیں

کیوں بھئی، کیوں ہمیں ہر حال میں یہی ظاہر کرنا چاہیے کہ چست جینز ہمیں بہت پسند ہے؟ وہ بہت ٹائٹ ہوتی ہے اور نقل و حرکت میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے جبکہ اسے پہننا اور اتارنا ایک اچھی خاصی مصیبت ہے۔ اگر آپ کی رانوں کے درمیان فاصلہ کم ہے اور وہ آپس میں ٹکراتی ہیں تو اس سے پہلے کہ آپ کہیں ’چست جینز تنگ کر رہی ہے‘ اس میں سوراخ ہو چکا ہو گا۔

9۔ ہمیشہ سن سکرین کا استعمال کریں

سب جانتے ہیں کہ صحافی میری شمچ نے اپنے کالم میں یہ مشورہ دیا تھا جو نوے کی دہائی میں باز لہرمین کے جاری کردہ گانے کی بنیاد بنا۔ میں اس کی کافی مقدار اپنے ساتھ رکھتی ہوں جو ہر اس شکل میں ہوتی ہے جس کا تصور ممکن ہے (جیسا کہ ابھی لکھتے ہوئے سپرے، کریم اور پاؤڈر کی شکل میں یہ میرے ساتھ پڑا ہے)۔ میں اسے ہمیشہ استعمال تو نہیں کرتی لیکن ایک چیز کی تعریف کیے بنا نہیں رہوں گی کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران سورج کی شعاعیں کس قدر شدید نقصان دہ ہو گئی ہیں اور میں کہہ سکتی ہوں کہ میرے چہرے پہ کم جھریاں سن سکرین کے سبب ہیں۔

10۔ ایسے شخص سے شادی کریں جو آپ کے اپنے ملک سے ہو

اپنے آپ کو اذیت اور پیسے کو ضائع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں؟ کسی ایسے مخصوص شخص کو تلاش کریں جو آپ جیسا پاسپورٹ رکھتا ہو یا مزید بہتر ہے کہ وہ 10 کلومیٹر کے دائرے میں رہتا ہو بجائے یہ کہ دس ہزار 539 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو، جیسا کہ میرے معاملے میں ہوا۔ فاصلہ جتنا بھی ہو محبت تو محبت ہے اور میں یہاں آ کر اپنے بندھن میں بہت خوش ہوں، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ہم ایک ہی ملک سے ہوتے تو اچھا خاصا پیسہ، وقت اور قیمتی لمحات بچا لیے ہوتے۔

11۔ اچھا ہونے میں کچھ نہیں جاتا

ایک مہذب انسان ہونے پر کچھ خرچ نہیں آتا۔ بالکل صفر اور اس سے آپ خود اور دوسرے بہت اچھا محسوس کرتے ہیں جبکہ گھٹیا ہونا آپ کی ساکھ، آپ کی ذہنی صحت اور کسی بھی چیز کے بارے میں مثبت سوچنے کی آپ کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسے اپنا بنیادی رویہ بنا لیجیے۔ 

12۔ آپ اپنے شوہر کی چلتی پھرتی ڈائری بن جائیں گی

میرے خاوند کے اہل خانہ اور دوست اب منصوبے بنانے کے لیے اسے میسج کرنے کی زحمت نہیں کرتے وہ سیدھا مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ میں ابھی تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کر پائی کہ میں اس کی چلتی پھرتی ڈائری ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی ایسا کر پاؤں گی۔

13۔ اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ڈٹ جائیں

اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ڈٹ جانا سب سے زیادہ تکلیف دہ چیزوں میں سے ایک ہے جو آپ کو زندگی میں کرنا پڑیں گی۔ میں نے سیکھا ہے کہ ایسے حالات میں اپنے اعصاب کو مضبوط رکھنا اور اپنے دوستوں کو اپنی پشت پر کھڑے دیکھنا بہادری کی کلید ہے۔

14۔ امپوسٹر سنڈروم حقیقت ہے لیکن آپ اکیلے نہیں

کیا آپ امپوسٹر سنڈروم میں مبتلا ہیں؟ تو کیا ہوا میں بھی ہوں۔ آپ کے ہم پیشہ ساتھی بھی ہیں۔ آپ کے دوست، پڑوسی اور بہن بھی ہے۔ اب بات سمجھ میں آئی؟ ہم میں سے اکثر ایسا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے ہم جو کر رہے ہیں اسے جانتے ہیں جبکہ ’پکڑے‘ جانے کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن ایک بار آپ کو اندازہ ہو جائے کہ کتنی بڑی تعداد ایسا ہی محسوس کرتی ہے تو اس سے اس بارے میں بات کرنے کا دروازہ کھل سکتا ہے اور نتیجتاً آپ کو زیادہ اعتماد ملتا ہے۔

15۔ دوست دور جاتے ہیں تو خیر ہے، جانے دیں!

ایک مشکل سبق جو مجھے سیکھنا پڑا وہ یہ ہے کہ زندگی میں دوستوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کبھی کبھی ہمارے دوست ہم سے یا ہم ان سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ سب دوستیاں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں ہوتیں لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ جب تک دوستی ہے تب تک اسے پوری طرح نبھایا جائے۔

16۔ بالغ ہونے کے بعد دوست بنانا واقعی مشکل ہے

بطور بالغ دوستی پہ بات کرنا، نئے دوست بنانا انتہائی مشکل ہے۔ میں نے  Bumble BFF  پر جانے کی کوشش کی لیکن پتہ چلا کہ یہ تو آن لائن ڈیٹنگ سے بھی زیادہ عجیب چیز ہے۔ کام کی جگہ پر نئی دوستیوں کے میرے منصوبے لاک ڈاؤن نے کھٹائی میں ڈال دئیے۔ کون جانتا تھا کہ ہم عمر کی دوسری دہائی کے اواخر میں دوست بنانے کے معاملے میں اتنے نااہل ہوں گے؟

17۔ اگر آپ خود کوئی چیز کر سکتے ہیں تو کر ڈالیں

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی کام صحیح طرح سے ہو تو آپ کو خود کرنا پڑے گا۔ کسی کام کے بس ہو جانے کے لیے بھی یہی ضروری ہے۔ کسی اور کا انتظار کرنا کہ وہ آپ کو کال کرے گا یا برتن دھو دے گا جبکہ آپ خود یہ کر سکتے ہیں تو میرے خیال میں یہ وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ دوسرا شخص یہ عملی اقدام کرے تو آپ کو اس تک یہ بات پہچانی چاہیے۔

18۔ ایسی ورزش تلاش کریں جو آپ کو اچھی بھی لگے

میں ورزش کو بالکل بھی اہمیت نہیں دیتی تھی۔ لیکن کئی آزمائشی کلاسیں لینے اور نام ہونے کے بعد (جیسا کہ ورزش والی سائیکل) میں اس نتیجے پر پہنچی کہ اپنی پسند کی ورزش تلاش کرنا ممکن ہے۔ میرے لیے یہ وزن اٹھانا ہے۔ اس کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ آپ مختلف ورزشیں آزمائیں اور کھوج لگائیں کہ ان میں سے کون سی آپ کو طاقت اور اطمینان کے جذبات سے لبریز کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

19۔ گھر تبدیل کرنا آپ کی سوچ سے بھی مہنگا کام ہے

یہ ان اسباق میں سے ایک ہے جو آپ بچپن میں کبھی نہیں سیکھ پاتے کیونکہ آپ کو بہت بعد تک کبھی اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ لیکن ایک سے دوسرے گھر منتقل ہونا اور تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں بنوانا بہت مہنگا کام ہے۔ یہ مزدور اور وین کو بلا لینے تک محدود نہیں بلکہ اس میں سابقہ معاہدے ختم کرنے، جگہ کی صفائی، چیزیں سنبھالنے کے لیے ڈبوں کا بندوبست اور اس کام کے لیے پورے دن کی چھٹی لینے کے قیمت شامل ہے۔ اور ہاں جب آپ نئے گھر میں پہنچتے ہیں تو وہاں نئے خرچے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

20۔ سوال پوچھنے سے نہ گھبرائیں

  Ologies podcastکی انتہائی مقبول پوسٹ کاسٹر ایلی وارڈ کا ایک تکیہ کلام ہے جسے میں نے کسی دانا شخص کے مشورے کے طور پر لیا، ’ہوشیار لوگوں سے احمقانہ سوالات پوچھیں۔‘ مجھے یہ نصیحت پسند ہے کیونکہ ہم سب بیوقوف نظر آنے سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ سوال ہی نہ پوچھیں، لیکن یہ محض الجھن اور مزید شرمندگی کا باعث بنتا ہے، تو کیوں نہ احمقانہ سوالات پوچھیں؟

21۔ بے چینی پر قابو پانے کے لیے گہری سانس لینا سیکھیں

آنکھیں بند کر کے سیدھے بیٹھ جائیں۔ اب آہستہ آہستہ سانس لیں۔ تصور کیجیے کہ آہستہ آہستہ لیکن یقیناً آپ کے پھیپھڑے غباروں کی طرح بھر رہے ہیں۔ اب ایسے ہی رہیں اور پانچ تک گنتی گنیں۔ جب آپ پانچ تک پہنچیں تو یکدم نہیں بلکہ آہستہ آہستہ کنٹرول کے ساتھ یہ تصور کرتے ہوئے سانس باہر نکالیں کہ آپ کے پھیپھڑے خالی ہو رہے ہیں۔ اسے دہراتے رہیں یہاں تک کہ آپ پرسکون اور مطمئن محسوس کرنے لگیں۔

22۔ اپنے پٹھوں کو کھینچیں

اپنی پختہ عمر میں، میں نے محسوس کیا کہ اگر میں ورزش کرنے سے پہلے اپنے پٹھوں کو نہیں کھینچتی تو اگلے دن تختے کی طرح سخت ہوتی ہوں۔ یہ ورزش سے لگنے والی مختلف چوٹوں کا باعث بھی بن سکتا ہے جو بڑھتی ہوئی عمر میں ٹھیک ہونا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اب میں دوڑنے سے پہلے ضرور پٹھوں کو کھینچتی ہوں چاہے اسے چھوڑنے کے لیے کتنا ہی من چاہ رہا ہو۔

23۔ بڑے مقاصد کو چھوٹے اہداف میں تقسیم کریں

بڑے خواب دیکھنا بہت اچھا ہے لیکن وہ اکثر ناقابل حصول محسوس ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو ان سے دستبردار ہو جانا چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ لگ رہے ہوں۔ ایسے قابل حصول چھوٹے اہداف مقرر کریں جو آپ کو بڑے مقصد تک لے جائیں۔ کسی بڑی منزل کے لیے جد و جہد کرنے اور وہاں پہنچنے سے پہلے ہی راکھ ہو جانے سے ایسا کرنا زیادہ قابل اطمینان اور کم مایوس کن ہے۔

24۔ کھانا پکانا سیکھیں

کھانا بنانا سیکھنا زندگی کا ایک اہم ہنر ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور کو متاثر کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ یا کوئی مخصوص کھانا پکانا سیکھنا۔ میرا مطلب چھوٹی موٹی چیز جیسے اپنی پسند کے مطابق انڈہ فرائی کرنا یا کوئی چٹنی بنانے سے شروعات کرنا ہے۔ اپنے لیے ایک باقاعدہ کھانا پکانا یہ محسوس کرنے کا تیز اور آسان ترین طریقہ ہے کہ آپ نے آج کے دن کچھ تو کر لیا ہے۔

25۔ سستے زیورات نہ خریدیں

ڈچ ایسیسرائز، لویسا اور ایچ اینڈ ایم جیولری کو چھوڑیں اور بہتر معیار کے زیورات کا انتخاب کریں۔ اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بالیوں اور ہار پر بہت زیادہ رقم خرچ کریں۔ ڈیمی فائن جیولری کی ایک پوری صف ہے جو آپ کی جیب پر بھاری پڑے بغیر سستی پلاسٹک کی چیزوں سے زیادہ اچھی اور پائیدار ثابت ہو گی۔ آپ کا دل اسے پھینکنے کے بجائے رکھنے پر مائل ہو گا جو ہر طرح سے کچرے کے پھیلاؤ میں کمی کا باعث بنے گا۔

26۔ جس کسی نے بھی نے کہا تھا ’پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا‘ وہ پہلے سے امیر آدمی تھا!

مجھے یقین ہے جس نے بھی یہ جملہ گھڑا اس کے پاس پہلے سے کافی رقم تھی، کیوں کہ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا لیکن یہ زندگی بہت آسان کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں خوشی پیدا ہوتی ہے۔ ہر مہینے کے اخراجات بمشکل اس مہینے کی تنخواہ سے پورے کرنے کی جد و جہد کرتے رہنا خوشگوار زندگی کے لیے ہرگز سازگار نہیں۔

27۔ دبلا ہونے جیسے ناممکن کام سے زیادہ مزے دار چیز کھانا کھانا ہے

کھانا زندگی کی چند بڑی خوشیوں میں سے ایک ہے اور یہ ان چند چیزوں میں سے ہے جن کو میں نہیں چھوڑتی کیوں کہ اس میں لطف اندوزی کا بہت سامان ہے۔ تاہم اپنے آپ کو ایسے جسم کے حصول کے لیے مصیبت میں ڈالنا جو آپ کے پاس نہیں ہے ایک بالکل بدمزہ چیز ہے۔ صحت مند کھائیں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور ایسا توازن تلاش کریں جو آپ کے لیے کارآمد ہو لیکن کبھی بھی پتلا ہونے کی غرض سے کھانا ترک نہ کریں۔

28۔ رات کو اچھی طرح سونے کی طاقت

نیند کیا ہی شاندار چیز ہے۔ یہ دماغ کو صاف، تھکے ہوئے جسم کو جوان اور امن کو بحال کر سکتی ہے۔ خوب سوئیں اور سوتے ہوئے گزارے گئے ایک لمحے پر بھی افسوس نہ کریں۔ یہ آپ کے لیے بہت ہی اچھا ہے۔

29۔ اس خیال سے نجات حاصل کریں کہ 30 سال کی عمر بڑھاپا ہے

جو بھی ہو 30 سال ’بڑھاپا‘ نہیں ہے اور ہمیں اس خیال سے نجات حاصل کرنا ہو گی کہ 30 سال کی عمر کو پہنچنے کا مطلب ہے کہ آپ کی جوانی گئی۔ ایسا نہیں ہے اور چیزیں بہتری کی  طرف جا رہی ہیں۔ ابھی تو ہم شروعات کر رہے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین