ہم بھوتوں کی کہانیوں کی طرف اس قدر کیوں راغب ہیں؟

اگر خوف آپ کے اندر سرایت سکتا ہے تو یہ آپ کے دماغ کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم کو بھی تبدیل کر دے گا۔ یہ آواز کے بغیر کام کرسکتا ہے۔ کسی قریبی شخص کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ خوف کیا کرنے والا ہے۔

(تصویر: سر جان ای میلائس)

وہ چھٹی کے دن کی پہلی رات تھی۔ ہم بچے ایک ہی خواب گاہ میں جمع تھے۔ ہمارے سلیپنگ بیگز فرش پر تھے۔ میری سہیلی نے کہا ہمیں ڈراؤنی کہانیاں سنانی چاہییں۔

میری دوست نے شہری علاقے کے ایک قصے کے ساتھ آغاز کیا جو اس وقت مقبول تھا۔ اس کا تذکرہ اب بھی آن لائن موجود ہے بشمول جیکی گونزالیز (10 سالہ) کی لکھی ہوئی کہانی کے جو اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں 31 دسمبر 1996 کو شائع ہوئی تھی۔

کہانی کے ہیرو ایک لڑکے ہیں جنہیں جونی کہا جاتا ہے۔ انہیں خاندان کے رات کے کھانے کے لیے کلیجی خریدنے کا کام سونپا جاتا ہے۔ وہ دی گئی رقم میٹھی اشیا کی خریداری پر خرچ کر دیتے ہیں اور بجائے گوشت خریدے بغیر گھر لوٹ جائیں وہ مقامی چرچ یارڈ سے اپنی ضرورت کا سامان خرید لیتے ہیں۔

اس رات وہ لاش جس کی انہوں نے بے حرمتی کی تھی بدلہ لینے کے لیے قبر سے باہر نکل آتی ہے۔

اس وقت بھی میں بھوتوں کے بارے میں تھوڑا سا جانتی تھی۔ ہم کہا کرتے تھے کہ ایک بھوت تھا جو میرے سکول میں بیت الخلا کے ارد گرد گھوم رہا تھا۔

لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ جب مجھے یاد ہے کہ ایک کہانی شروع سے آخر تک مناسب انداز اور لوگوں کی موجودگی میں سنائی گئی۔

اگر خوف آپ کے اندر سرایت سکتا ہے تو یہ آپ کے دماغ کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم کو بھی تبدیل کر دے گا۔ یہ آواز کے بغیر کام کرسکتا ہے۔ کسی قریبی شخص کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ خوف کیا کرنے والا ہے۔

اس انداز میں بھوت کہانی سننے میں دوستانہ رفاقت کا احساس موجود ہوتا ہے۔ جب آپ گروپ کی شکل میں بیٹھ کر کہانی سنتے ہیں تو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہ سکون بخش احساس ہے جیسے گھر میں بیٹھ کر طوفان کی آواز سننا۔

پھر بھی لطف اندوز ہونے کے عمل میں خطرے کا شائبہ پایا جاتا ہے کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ اختتام پر خاموشی اور اندھیرا منتظر ہیں۔ جلد یا بدیر گروپ منتشر ہو جائے گا یا کمرے میں خاموشی چھا جائے گی کیوں کہ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سو جائے۔ تب آپ اپنے تخیل کے ساتھ تنہا ہوتے ہیں جس کا ابھی ابھی خوفناک باتوں کے ساتھ پالا پڑ چکا ہے۔

یہ سب دکھاوا ہے۔ اس کے باوجود بات صرف اتنی ہے کہ آپ سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ بہر حال اگر اس میں کچھ ہے تو کیا ہوگا؟

اندھیرے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی نے کسی عمل کے واقع ہونے کو دعوت دے دی ہے۔

خوف حقیقت اور غیر حقیقت کے درمیان لکیر کو دھندلا بنا دیتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں تو وہ ایک ناقص جھوٹ پر بھی یقین کر لیں گے۔

آپ انہیں دھوکہ دے سکتے اور حواس باختہ کرسکتے ہیں لیکن کسی کہانی میں یہ الجھن ایک طرح کا سکون ثابت ہو سکتی ہے۔ انتظار گاہوں اور ہسپتال کے وارڈز میں خوف میرا دوست رہا ہے۔

اگر آپ کسی کی تلاش کر رہے ہیں تو دہشت فرارکا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ ہنس نہ بھی سکیں تو اگر آپ اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ چاہے ہیرو اور ہیروئن معاملات سنبھال لیں یا ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ پھر بھی خوف محسوس کریں۔ اور یہ آپ کو کچھ وقت کے لیے آپ کے وجود سے باہر لے جا سکتا ہے۔

آپ تبدیلی کے عمل میں شاندار شے سے بھی خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔ نئے مسائل کو دعوت دے سکتے ہیں۔

اگر خوف آپ کے اندر سرایت سکتا ہے تو یہ آپ کے دماغ کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم کو بھی بدل دے گا۔ یہ کسی آواز کے بغیر کام کر سکتا ہے۔ کسی قریبی شخص کے علم میں بھی نہیں ہو گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بے ضرر نظر آنے والے صفحات آپ کے دل کی دھڑکن تیز کرسکتے ہیں۔ آپ کا سینہ خطرے کی گھنٹی کے ساتھ تنگ ہو سکتا ہے۔ آپ اچانک سنائی دینے والے شور کی آواز پر چھلانگ لگا کر اٹھ بیٹھتے ہیں۔

مجھے برطانوی مصنفہ کے ناول’دا مسٹ اِن دا مرر‘میں آنے والے ایک مخصوص موڑ پر زور زور سے سانس لینا یاد ہے۔ میں اپنے بیڈروم میں محفوظ تھی لیکن مجھے ایسا لگا جیسے ابھی ابھی کوئی شے اچھل کر مجھ پر آن پڑی ہو۔

لورا پورسل کے ناول ’دا سائنلٹ کمپینینز‘ کو ختم کرنے کے بعد میں نے شام کا بیشتر حصہ اپنے کندھے کے اوپر دیکھتے ہوئے گزارا۔ میرے پیچھے کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر بھی میں نے محسوس کیا کہ مجھے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ایک جسمانی احساس تھا۔ تناؤ اور دباؤ۔

وہ احساس جس میں آپ کا جسم جانتا ہے کہ آپ کو دیکھا جا رہا ہے۔ میں اپنے گھر میں آسانی سے نہیں چل پھر نہیں سکتی تھی۔

بھوت کی کہانی دنیا کو بدل سکتی ہے۔ اس سے سائے گہرے اور کم خالی نظر آتے ہیں۔ آپ کا گھر ناخوشگوار جگہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آپ سوچنے لگتے ہیں کہ اگلے کمرے میں کیا چھپا ہوا ہے۔ کون تاریک کھڑکی سے دیکھ رہا ہے۔ آپ کو ایک پریشان کن قسم کی کہانی کے ایسے اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں جو زندگی بھر برقرار رہیں۔

ذاتی طور پر میں نے پیٹریشیا ہائی سمتھ کے افسانے ’دا کویسٹ فار بلینک کلیورنگی‘ کے اثرات سے کبھی باہر نہیں نکلی۔ میں نے اسے بچپن میں پڑھا اور تب سے زندگی بھر کے لیے گونگے برے لگتے ہیں۔ یہ کہانی پڑھنے کے برسوں بعد میں اب بھی کبھی کبھی اس کے بارے میں سوچتی ہوں اور پھر سے سکڑ کر رہ جاتی ہوں۔

بات یہ ہے کہ اگر اس کہانی کے اتنے دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں تو میرے دوسرے مطالعے نے میرے ساتھ کیا کیا ہو گا؟

ڈراؤنی کہانیاں۔ کسی بھی قسم کی دہشت۔ کا مطلب جوش، برادری، سکون، فرار ہو سکتا ہے۔ لیکن مزوں کی اس گتھی میں ایک کلیدی رابطہ چل رہا ہے۔

دہشت کو کہانیوں کی طاقت سے بڑھاوا ملتا ہے۔ جب ہم خوف کو بیان کرتے ہیں تو ہم بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم خود کو اثر قبول کرنے اور تبدیل ہونے کے لیے کھولتے ہیں۔

ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ کہانیاں پڑھیں اور انہیں سنائیں اور امید کریں کہ خود ان سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ہم مدد نہیں کر سکتے سوائے اس کے ہم کہانیوں کو پڑھیں اور بیان کریں کیوں کہ وہ ہر جگہ ہیں۔ وہ ہمارے اندر موجود ہیں۔

یہ تب ظاہر ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کو ڈراؤنی کہانیاں سناتے ہیں۔ انسان فطری طور پر قصہ گو ہے۔ ماحول تیار کرنا اور اس کے نتائج قدرتی طور پر ہماری جانب آتے ہیں۔

ہم کہانیاں شیئر ہیں۔ ہم بہترین کہانیوں کو بار بار سناتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ (اگر ہمارے پاس نقل اتارنے کی صلاحیت ہو) تو ہم آوازیں بھی نکالتے ہیں۔ کسی سے پوچھیں کہ ان کا نیا فلیٹ میں آنے والا نیا ہمسایہ کیسا ہے یا وہ اپنے پارٹنر سے کیسے ملے تو شاید آپ کو ایک کہانی سنائی جائے۔

شائد چائے کا چمچہ چوری کرنے کی تلخ داستان داستان محبت جس کی پہلے سے اچھی طرح مشق کر لی گئی ہو۔

ہم اکثر ایسا سوچے سمجھے بغیر کرتے ہیں۔ لیکن ڈراؤنی کہانی زیادہ خود شعوری کی مشق ہے۔ خاص طور پر اگر آپ تاریکی چھا جانے کے بعد ان دوستوں کے حلقے میں رہے ہیں جو آپ سے یہ چاہتے ہوں کہ آپ انہیں تھوڑا سا خوفزدہ کریں۔ ڈراؤنی کہانیاں سنانا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کیا ہیں۔

ڈریکولا نامی ناول کے مصنف بران سٹوکر نے ادبی سینسرشپ پر بھی لکھا ہے۔ وہ اپنے مضمون ’فکشن پر سینسرشپ‘ میں کہتے ہیں کہ فکشن ایک قوم کے لیے تقریباً اتنا ہی اہم ہے جتنی کہ روٹی۔

لیکن غلط ہاتھوں میں یہ ایک ایسی طاقت ہے جو ’قوم کو بگاڑنے‘ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو بالکل ڈریکولا کا پروجیکٹ تھا۔ ان کے کچھ ہم عصر ادب کے ساتھ بدقسمت لوسی ویسٹنرا والا سلوک کر رہے ہیں۔ وہ اسے صحت مند اور خالص ہونے کی حالت سے نکال کر مریضانہ اور پراگندہ کر رہے ہیں۔

سٹوکر اس طرح کے ادب کے لیے سنسر شپ پر زور دیتے ہیں۔ لیکن ان کے مضمون میں فکشن کے اثر کو بھی سراہا گیا کیوں کہ یہ ’ہمیشہ رہنے والی سب سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔‘ یہ قابو میں رکھے جانے کا تقاضا کرتا ہے کیوں یہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔

سٹوکر کے مضمون میں فکشن اور دہشت کا امتزاج کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کبھی کبھی خوفناک کہانیاں کتاب کی طاقت کو کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ اس ڈراؤنا بنانے کے ساتھ اس سے مزیدار بھی بناتی ہیں۔

ان صورتوں میں کہانیاں سنانا خطرناک ہو جاتا ہے۔ ڈورین گرے نے (کسی حد تک بات کو آگے بڑھاتے ہوئے) دعوی کیا ہے کہ انہیں فرانسیسی مصنف (جورس کارل ویسمان کے ناول اے ریبورس) کے ذریعے اخلاقی طور پر ’زہر‘ دیا گیا ہے۔ الزبتھ کوسٹووا کی دی ہسٹورین میں کتاب کا پراسرار تحفہ ایک انتہائی برا شگون ہے۔

کہانی سننا بھی کوئی محفوظ نہیں ہے- کولرج کی ’رائم آف اینشنٹ میرینر‘ میں ایک باراتی ان کی مرضی کے خلاف دوبارہ زندہ ہو جانی والی لاشوں کی کہانی سننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور وہ اس تجربے سے ہمیشہ کے لیے بدل جاتے ہیں۔

دوسری جگہ این رائس کی ویمپائر ویمپائر کے ساتھ ملاقات، مثال کے طور پر۔ کہانی سننے کا مطلب اپنی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہو سکتا ہے۔

کسی عفریت کو بیان کرتے وقت کوئی مصنف افسانے کی طاقت کو دیکھنے عمل سے بھی بدتر بنا سکتا ہے۔ کہانی ایک نحوست کی طرح آگے چلتی ہے۔ ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی ہے۔ ایم آر جیمز کے افسانے ’کاسٹنگ دا رونز‘ کی ناپاک مخلوق کی طرح۔

ایک کہانی آپ کو خارجی اثرات کے حوالے کر دیتی ہے جیسے مسمریزم یا جادو۔ آپ ایک ذہنی کیفیت کے ساتھ پڑھنے کے لیے بیٹھ سکتے ہیں اور دوسری کیفیت میں اٹھ سکتے ہیں۔ مطالعے کا عمل آپ کو دوسرے لوگوں کی آوازوں کے لیے آسیب زدہ مکان میں تبدیل کر دیتا ہے خواہ ان مصنفین کو مرے عرصہ گزر چکا ہو۔

آپ کے ذہن کا کمرہ آسٹن اور ڈکنز سے گونجتا ہے۔ اگر آپ کوئی کہانی پڑھتے ہیں تو اس میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ آپ اپنے وجود سے باہر نکل جاتے ہیں۔ آپ ہپناٹائز ہو جاتے ہیں۔ کہانی آپ کو تبدیل کر دیتی ہے کیوں کہ آپ اسے بیک وقت اور توجہ دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ دوسروں پر زندہ رہنے والی چیز ہے۔ ایک خون آشام چمگادڑ۔ یہ آپ کے بغیر زندہ نہیں کر سکتی۔ اسے آپ کی زندگی کی ضرورت ہے۔ کم از کم اس کے چند گھنٹے۔

دہشت کہانی کے لیے موقع ہوتی ہے کہ وہ روشنی میں آئے اور اپنا وجود ظاہر کرے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ نیم ویمپائر نہ ہو جس کا سٹوکر کو ڈر تھا۔ لیکن بہرحال یہ مکمل طور پر دہشت سے پاک نہیں۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ تر مصنفین جن میں سٹوکر شامل ہیں اسے کسی اور طرح نہیں چاہیں گے۔

جب آپ اگلی بار کوئی کتاب اٹھائیں یا کوئی کہانی سنیں تو یہ تمام باتیں یاد رکھیں۔ کسی دوست دکھائی دینے والے یا باوقار چہرے مہرے کے مالک داستان کے ہاتھوں بے وقوف مت بنیں۔ کہانی طاقتور ہوتی ہے اور وہ کچھ تقاضا کرتی ہے۔ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس