کیمپ میں بھوت اور زرقا کی ٹانگیں

اب جب بھی زرقا مجھے ملتی ہے مجھے اس کی ٹانگیں دیکھ کر بھوت یاد آ جاتا ہے۔ ہمارے بچے کیا کبھی اس بھوت کے خوف سے مکمل آزاد ہو سکتے ہیں؟

  زرقا کے باپ نے بچوں کو ممنوعہ علاقے میں جانے سے منع کرنے کے لیے ایک من گھڑت کہانی سنائی۔ جرمنی میں بھوت بنے غبارے ایک باغ میں پڑے ہیں (اے ایف پی فائل فوٹو) 

زرقا مجھے چمن کے پاس والی سڑک پہ تب ملی جب میں سٹرالر لیے اپنے دو سالہ بیٹے کو سیر کروانے سڑک کے کنارے چل رہی تھی۔

وہ سفید رنگت کی دبلی پتلی قدرے لمبے چہرے والی پیاری سی لڑکی تھی۔ اس نے نیلی جیکٹ پہن رکھی تھی بالکل ایسے ہی جیکٹ میری بیٹی کی بھی ہے۔

اسے اپنی طرف بھاگتے دیکھ کر مجھے لگا میری بیٹی میرے پیچھے آ گئی ہے۔ وہ بھاگی بھاگی میرے پاس آئی تو اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ وہ بہت خوفزدہ تھی۔ اس نے مجھے روکا اور کہا کہ یہ جو درخت ہیں لمبے لمبے اور یہ وحشی جھاڑیاں ہیں گھنی گھنی ان کے پیچھے مت جانا۔ وہاں ایک بھوت رہتا ہے۔

اس بھوت نے کل رات ایک لڑکی کی ٹانگیں چبا لیں اور اس آدھا دھڑ جنگل میں پڑا تھا جسے فوجی اٹھا کر لے گئے۔ دن کے وقت بھوت سانپ بن کر ان درختوں کے اندر کہیں چھپ جاتا ہے۔ خالہ! تمھاری ایک بیٹی بھی ہے نا اسے بھی منع کرنا۔ وہ بہت شوخ ہے۔

میں ٹھٹھکی بھوت !!!

چمن سے گزرتے وقت بھی میں نے کچھ لڑکوں سے بھوت وت کا نام سنا۔ میں نے ان سے پوچھا تمھیں کس نے بتایا کہ اس طرف بھوت ہے؟

ایک نے کہا: ’خالہ کیا تمھارا شوہر کل رات جلسے میں نہیں گیا؟ جلسے میں سب کو فوجیوں نے یہی کہا۔۔) میرا باپ بھی اس رات جلسے میں تھا۔‘!

اچھا وہ والا بھوت۔

ہممم ۔ میں نے بھی تائید کر دی کہ واقعی وہاں ایک بھوت ہے تم تو بالکل مت جانا۔

وہ کہنے لگی نہیں نہیں خالہ، میں کیوں جانے لگی بھلا مجھے تو اپنی ٹانگیں بہت پیاری ہیں۔ میں بہت مشکل سے انہیں بچا کر افغانستان سے لے آئی ہوں۔

میں نے کہا کیا؟

وہ بولی :ٹانگیں

کیوں تمھاری ٹانگوں کو کیا خطرہ تھا وہاں؟

وہ بولی  کہ ’خالہ! ہمارا گھر وہ اوپر پہاڑوں پہ تھا۔ وہاں بہت سے بھوت رہتے تھے۔ ہمارے مکتب کے ساتھ ایک بہت بڑا ویرانہ تھا اور اس کے پار سڑک تھی۔

’سب نے منع کر رکھا تھا کہ وہاں مت جانا ان جھاڑیوں کے اندر بھوت رہتا ہے۔ لیکن ان جھاڑیوں پہ زیتون اور سنجد لگتے تھے۔ جب کھیلتے کھیلتے ہمیں بھوک لگتی تو ہم وہاں جایا کرتے تھے۔

’ایک دن ہماری ہم صنفی جھاڑیوں کے پار چلی گئی۔ ہم جھاڑیوں کے اندر کھڑے تھے اسے منع کر رہے تھے مگر وہ پاگل  بھاگنے لگی۔ اور اس کا پاؤں غلطی سے مائن پہ پڑا اور وہ ہ ہ ہ ہ ۔‘،

اس نے بمشکل تھوک نگلتے  ہوئے کہا۔

’دھماکہ ہوا اور اس کی ٹانگیں ہمارے سامنے اڑ کر سڑک پہ جا گریں۔ ہم سب چیخیں مار کر سکول گئے اور سب کو بتایا۔

’وہ لڑکی سچ مچ میں مر گئی تھی۔ پھر اس کی بعد ہم کبھی زیتون کھانے جھاڑیوں کے پاس نہیں گے۔‘

وہ کہنے لگی: ’خالہ! مجھے بہت ڈر لگتا تھا۔ میری ٹانگیں دھڑ سے الگ ہو جائیں گی تو میں مر جاؤں گی اور جنت بھی نہیں جا سکوں گی۔‘

اس نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا: ’جنت جانے کے لیے بھی ٹانگوں کی ضرورت ہوتی ہے نا۔ اور اب یہاں بھی بھوت آ گیا کمبخت مارا۔ میری ٹانگوں کا کیا ہوگا؟‘

میں نے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا تم بس احتیاط کرنا۔

اس کے قصے سنتے سنتے میری تو خود کی ٹانگیں تھک گئیں۔ میں نے سڑک کے نجانے کتنے چکر لگا لیے اور میرا بیٹا سڑالر میں بیٹھے بیٹھے سو چکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں جیسے تیسے زرقا کو خدا حافظ کہہ کر واپس پلٹنے لگی تو اس نے پھر آواز دی۔ وہ قریب آئی اور اس نے کہا خالہ ’کسی کو بتانا مت مگر بھوت اصل میں مائن کو کہتے ہیں۔‘ یہ کہہ کر وہ تو دوڑتی بھاگتی دور چلی گئی مگر میرے دماغ میں شائیں شائیں ہونے لگی۔

کچھ سمجھ میں نہیں آیا میں زرقا کو کیا کہوں کیسے سمجھاؤں؟ ہم لوگ ایسے عفریتوں سے کب تک اور کتنا بھاگیں گے۔ زرقا خوش تھی کہ امریکہ میں بھوت نہیں ہوگا، یہاں کوئی مائن نہیں ہوگی پر یہاں بھی بھوت نکل آیا جس نے اس کی ساری خوشی چٹ کر لی۔

ہر ہفتے کیمپ کے مردوں کو مختلف موضوعات پہ معلومات دی جاتی ہیں۔ اس رات عجیب قصہ ہوا۔ امریکن میرین بھی پریشان ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان امریکہ آ کر اپنے بچوں سے لاپروا ہو چکے ہیں۔

ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیمپ میں ان کے بچوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس لیے وہ سارا دن گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور والدین کو ان کی خبر تک نہیں ہوتی۔ مگر کیمپ کے باہر کی دنیا اتنی محفوظ نہیں ہے۔

ٹیکساس میں ایک افغان بچہ والدین کی غفلت کی وجہ سے اغوا ہو گیا ہے۔ امریکہ میں بچوں کے اغوا کی شرح کافی ذیادہ ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں۔ بچے کیمپ کے ایک مخصوص علاقے سے باہر مت جائیں۔

اس رات کا سارا سیشن بچوں کی حفاظت سے متعلق تھا۔ مجھے سمجھ آ چکی تھی کہ زرقا کے باپ نے بچوں کو ممنوعہ علاقے میں جانے سے منع کرنے کے لیے ایک من گھڑت کہانی سنائی اور ایسی کئی من گھڑت کہانیاں وہ اسے افغانستان میں سناتا رہا ہوگا جو اب کیمپ میں بھی گونجنے لگی ہیں۔

اب جب بھی زرقا مجھے ملتی ہے مجھے اس کی ٹانگیں دیکھ کر بھوت یاد آ جاتا ہے۔ ہمارے بچے کیا کبھی اس بھوت کے خوف سے مکمل آزاد ہو سکتے ہیں؟

ہم کتنی ظالم اور خود غرض دنیا میں رہتے ہیں جہاں بچے، بچوں کے جسمانی اعضا، ان کی عزت اور نیلے پیلے گلابی خواب سب بکتے ہیں۔

تعارف: اس سال اگست میں افغانستان سے ترک وطن کرنے والے ہزاروں افراد میں ثروت نجیب بھی شامل ہیں۔ وہ امریکی کیمپ سے انڈپینڈنٹ اردو کے لیے خصوصی تحریریں لکھ رہی ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ