بھوت بکرا، سوشل بکرا:عید ڈرامے اور ٹیلی فلمیں کیسی تھیں؟

جہاں تک رہی ٹیلی فلم اور ڈراموں کی بات ان سب میں ایک بات مشترک نظر آئی، سماج میں جو لفظ آج کل مسلسل استعمال ہو رہے ہیں، ان کے اصل معنیٰ بدل کر سماجی پیراہن پہنا کر سننے کو ملے۔

بڑی عید پر کئی ڈرامے اور ٹیلی فلمیں نشر ہوئے (تصاویر؛ بھوت بکرا: بگ بینگ انٹرٹینمنٹ، اے آر وائی؛ سوشل بکرا: آج انٹرٹینمنٹ)

بڑی عید ہے تو مزے دار کھانوں کی بات ہونی چاہیے، اس لیے کھانوں کے شہر سے ’لو ان لاہور‘ کی بھی بات کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور بہت سے اچھے ڈرامے اور ٹیلی فلمیں سکرین کی زینت بنی۔ 

’آنٹی الرجی‘

اجی نہیں، نہیں، نیور مائیڈ، یہ تو ٹیلی فلم ہے جو اے آر وائی سے عید پہ پیش کی گئی اور کافی پسند اس لیے کی گئی کہ ایسی ایک آدھ آنٹی ہر گھرانے میں پائی جاتی ہے جس کو آپ ان کی صفات سے پکار نہیں سکتے، مسکرا ہی سکتے ہیں۔

ویسے آنٹی کا تعلق بھی عمر سے نہیں ہے، کیفیت سے ہے جو کسی بھی عمر میں کسی بھی خاتون پہ کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے بس یہ بھی ایک کیفیت زدہ آنٹی کی کہانی ہے۔   

’سوشل بکرا‘

آج انٹرٹینمنٹ سے پیش کیا جانے والا ڈراما جس میں پیارے لال نامی ایک بکرا ہے جو بہت انوکھے کام کر سکتا ہے، جیسے کھویا زیور تلاش کرنا۔

یہ سوشل میڈیائی قسم کے ایک بکرے کی ہنستی مسکراتی کہانی ہے، جس کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ سوشل میڈیا جانوروں تک کیسے رسائی پا چکا ہے۔

ممکن ہے کبھی بکرے کی قیمت میں اس کی یہ خوبی بھی شامل کر دی جائے۔

’لو ان لاہور‘

عید ہے تومحبت کی بات ہونی چاہیے۔ ’لو ان لاہور‘ یوٹیوب زمیز اینٹرٹمینٹ کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اس کی تھیم دہلی گیٹ لاہور میں محبت کی کہانی ہے۔

اس میں اندرون لاہور کے گھروں کی گلیوں اور چھتوں پہ پروان چڑھتی محبت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور زبان و بیان خالص لاہوری ہے۔

اس کی موسیقی بہت عمدہ ہے مگر ٹیلی فلم توقع پہ پوری نہیں اتر سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بلبلے‘

اے آر وائی سے مشہور ڈرامے ’بلبلے‘ کی عید سپشل قسط نےعید کا لطف دوبالا کر دیا۔ اس عید پہ قصاب کے مسائل ہر کسی کو جھیلنے پڑتے ہیں۔

ڈراما انہیں مسائل پہ لائٹ کامیڈی میں روشنی ڈالتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح کاسٹ نے کہانی میں جان ڈالی ہوئی ہے۔

اس ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے۔ 

’ایک انار سو بیمار‘

یہ ایک رومانوی کہانی تھی۔ ایک نفسیات دان کی اکلوتی بیٹی کی شادی جو انار تھی اور بہت سے فارغ، بے روز گار طلب گار بیمار تھے جو محبت کے دعوے دار تھے۔

ان سب کو چھوڑ کر آخر کار وہ ایک سمجھ دار لڑکی کی طرح ایک مناسب لڑکے سے شادی کا فیصلہ کرتی ہے۔

ڈرامے کا اختتام بہت اچھا ہوا جب وہ ان نالائق دو نمبر عاشقوں سے اپنی شادی کے لیے سجی ہوئی گاڑی سے نکل کر کہتی ہے، ’ذرا میری گاڑی کو دھکا تو لگاؤ۔ بائے۔‘

شادی عید کے ڈراموں میں جس قدر آسان اور مزے دار ہوتی ہے کاش اصل زندگی میں بھی ایسا ہوتا۔

’دل کے چور‘

کبھی کبھی لڑتے لڑتے سچی مچی پیار ہو جاتا ہے۔ یہ ایسی ہی دلچسپ کہانی ہے، جس میں ایک رشتہ کروانے والی کے توسط سے دو سہیلیاں مل جاتی ہیں اور اپنے بچوں کی شادی کر دیتی ہیں جو بچے پہلے ہی زندگی کے کسی سفر میں اتفاقاً مل چکے ہوتے ہیں۔

سہاگ رات کا سین سب سے دلچسپ ہے۔ لوگوں کی پوری زندگی ایسی گزرتی ہے جیسی ان کی سہاگ رات گزری ہے، ڈرامے کا اختتام جیسا ہوا ہے ویسی سہاگ رات ہوتی ہے۔ 

ہم ٹی وی سے ایک اچھی کہانی کی ہی توقع ہوتی ہے جو دکھائی دیا۔

’بھوت بکرا‘

انسان تو انسان بکرے بھی نہ چھوڑے ہم نے۔ اجی بکرے پہ بھوت کا طاری ہونا، وہ بھی عید کے بکرے پہ، جس کی وجہ سے گھر میں عجیب و غریب واقعات رونما ہو رہے ہیں اس کے لیے ظاہر ہے قصاب بھی کوئی جن ہی چاہیے ہو گا جس کی تلاش جاری ہے۔

مگر بکرا کیا ہیرو نما سین میں دکھایا گیا، کمال کیمرا مین ہے، داد تو بنتی ہے۔ 

جہاں تک رہی ٹیلی فلم اور ڈراموں کی بات ان سب میں ایک بات مشترک نظر آئی، سماج میں جو لفظ آج کل مسلسل استعمال ہو رہے ہیں، ان کے اصل معنیٰ بدل کر سماجی پیراہن پہنا کر سننے کو ملے۔  

عید چھوٹی ہو یا بڑی اس کے بعد فوری شادیوں کا سیزن شروع ہو جاتا ہے اس لیے ہر دوسرے ڈرامے میں شادی اہم موضوع ہے حالانکہ ہمیں اس عید پہ ایک دل جلا سا عید مبارک بھی موصول ہوا ہے، جس میں کہا گیا ’عید تو ہوتی ہی غیر شادی شدہ کی ہے‘ تو بھئی شادی سے پہلے سوچنا تھا ناں انکل۔ اب چالیس سال بعد حسد کرنے کی کیا ضرورت؟

آپ سب کو بھی ہم سب کی طرف سے عید مبارک۔

سب شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، منگنی شدہ ہر طرح کے شدہ کو عید مبارک۔

ہم کہتے ہیں جو بھی ہیں جیسے بھی عید منائیں، خوش رہیں۔ شاکر رہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی