’کیسی تیری خود غرضی‘: بیٹی کے نصیب کا ڈر

’میرا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ میں مڈل کلاس کا بہت چھوٹا سا معمولی سا آدمی ہوں۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں بیٹیوں کا باپ ہوں۔ سب سے بڑا قصور وار میں ہوں، جس نے بیٹیاں پیدا کیں۔‘ اس ایک مکالمے میں کہانی کا سارا درد بہہ رہا ہے۔

ڈرامے کی کہانی کی طلب شدت کی طالب ہے (فوٹو: اے آر وائی ڈیجیٹل)

کیسی تری خودغرضی! یہ رومانوی ڈراما افلاطون کے فلسفہ المیہ کے عناصر پہ پورا اترتا ہے۔ جب المیہ لکھا جاتا ہے تو ہیرو کا کردار بہت اوپر سے اٹھایا جاتا ہے اور گرنے پہ زیادہ شدید ردعمل ہوتا ہے، دل و دماغ میں ہی نہیں بلکہ ماحول میں بھی سناٹا ہو جاتا ہے۔

جو اس وقت ہمارے پورے وجود کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ اس پہ دل ناتواں راحت فتح علی خان کی آواز کے سحر میں محوِ رقص کیف لطیف میں ہے۔

ڈرامے کی ساری منفیت کو اس آواز اور اس کلام نے سنبھال رکھا ہے جو کسی بھی سین کے منفی ہونے کو شعروں اور موسیقی سے تعبیر کرکے یہ تو بتا رہا ہے کہ یہ سب غلط ہے مگر یہ سب حقیقت کا وہ رخ بھی تو ہے جو محلوں، حویلیوں بنگلوں اور فارم ہاؤسز کے اندر دفن رہتا ہے اور تاریخ کے اوراق سے بھی گم کر دیا جاتا ہے تاکہ سنہری تاریخ کا لیبل لگا سکیں۔

مصنف، ہدایت کار اور اداکار ہم سے پہلے کسی بھی کردار میں سے گزر رہے ہوتے ہیں، ان کو کسی بھی منظر یا کردار کے مثبت و منفی اثرات کا ہم سے پہلے علم ہوتا ہے۔ حساس طبقہ ہے لیکن بہت جگہ بہت مجبوریاں راستہ روکے کھڑی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات کہانی خود یہ مجبوری ہوتی ہے۔ یہاں بھی کہانی کی طلب شدت کی طالب ہے۔

دو گھرانے ہر اعتبار سے اپنے عروجی پس منظر کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں۔ ایک طرف مڈل کلاس ہے، ایک طرف اپر کلاس ہے، ایک طرف ہر طرح کی کمائی ہے، ایک طرف صرف محنت کی کمائی پہ شکر اور خوشی ہے۔ ایک طرف بیٹا نہیں ہے، ایک طرف بیٹی نہیں ہے، ایک طرف سلجھی ہوئی اولاد ہے، ایک طرف بگڑی ہوئی اولاد ہے۔

جب سکرپٹ میں گہرائی اور کہانی میں وسعت ہو تو اس کا ناظر اس میں سے شاید اپنے مزاج یا خمیر کے مطابق موضوع یا مقصد کشید کر لیتا ہے۔

’میرا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ میں مڈل کلاس کا بہت چھوٹا سا معمولی سا آدمی ہوں۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں بیٹیوں کا باپ ہوں۔ سب سے بڑا قصور وار میں ہوں، جس نے بیٹیاں پیدا کیں۔‘ اس ایک مکالمے میں کہانی کا سارا درد بہہ رہا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ بیٹی سے نہیں اس کے نصیب سے ڈر لگتا ہے۔ کسی حد تک کہانی اسی کا خلاصہ ہے تو کہیں احمد ندیم قاسمی کے کسی افسانے کا ایک جملہ اپنے مفہوم لے کے سامنے آجاتا ہے کہ ’غریب کے گھر میں خوب صورت بیٹی کا پیدا ہونا بدنصیبی ہے۔‘

محبت کا کیا ہے یہ ہمیشہ غلط وقت پہ غلط شخص سے ہوتی ہے تاکہ امر ہو سکے تاکہ اس کے ڈنکے بج سکیں کہ عشق و مشک چھپائے نہیں چھپتے والی بات ہے۔

 پہلی ہی قسط میں شمشیر مہک کے والد سے پوچھتا ہے، ’آپ اپنی بیٹی کا صدقہ دیتے ہیں؟‘

یہ جملہ کہیں ٹرگر کرتا ہے کہ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے اور بلا خود آ کر پوچھ رہی ہے کہ آپ صدقہ دیتے ہیں۔

شمشیر ایک اینگری ینگ مین کا کردار ہے جو فلموں نے بہت فلمایا ہے، ناولوں میں بہت لکھا گیا ہے لیکن وقت کے ساتھ جو ترقی ہوئی، اس نے بتایا ہے کہ یہ ہیرو نہیں یہ اوصاف بنیادی طور پہ ولن کے ہوتے ہیں۔

یہ اوصاف سماج کے ٹھکرائے ہوئے دھتکارے ہوئے محرومیوں سے بھرےانسان کے ہوتے ہیں جو اندر سے خالی ہوتا ہے۔ بھرا ہوا انسان تو بہت وزنی ہوتا ہے۔

لیکن جس پس منظر میں اس کا کردار لکھا گیا ہے اس کو دکھانے والا دلیل نہیں دے رہا کہ وہ درست ہے، اسے گیت کے بولوں میں تصویر کر رہا ہے ’تیری راہیں فریبی ہیں۔‘

اتنی گہری بات ناظر نہیں سمجھ پاتا کہ پیش کرنے والوں نے کس نکتے کو کس حرف کے ساتھ کیسے جوڑا رہا ہے۔

یہ محبت کی وہ قسم ہے جو ایک ذہنی مریض متشدد، ضدی انسان کو ہوتی ہے، جو سب خاک کر دیتی ہے۔ مہک بے بسی کی وہ منزل ہے جو مر بھی جائے تو شاید ایسا انسان اسے قبر سے نکال لے گا۔ لیکن اس کا دوست اسے مناسب لفظوں میں یہ بتانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ یہ محبت نہیں ہے۔ مہک کو ہی اگر اس سے محبت نہیں ہے تو اس کی یک طرفہ محبت یا ضد کا کیا مقام ہو سکتا ہے؟

وہ کیسے سمجھ سکتا ہے جب اس کے باپ دادا نہیں سمجھے کہ وہ دوسروں پہ ظلم کر رہے ہیں، اس کی رگوں میں ظلم ہے۔

تاریخ گواہ ہے نواب اپنی اولادوں کو زیر کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ وہ اولادیں بھی انہی کا خمیر ہیں۔ ضد یا عادت یہاں ختم ہونے والی نہیں ہے۔ یہ نہ چاہتے ہوئے بھی رنگ بدل بدل کر زندگی میں آتی رہے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بچے بگڑ کیسے جاتے ہیں، کتنا اچھا سبق مل رہا ہے نا۔ ان کی غلطیوں پہ پردہ ڈالنے سے، بےجا ان کی حمایت کرنے سے۔ توجہ نہ ملنے کی وجہ سے اور اگر اس سب کے ساتھ دولت بھی ہو تو وہ جو مزاج لاتی ہے آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔

لیکن کیا آپ نے محسوس کیا، جونہی محبت کی بات ہوتی ہے شمشیر میں نرمی آ جاتی ہے؟ گویا اس کے اندر انسان زندہ ہے، حالات نے کوئی بڑی ستم ظریفی کی ہے۔

یہ آج کے نواب صاحب ہیں اس لیے ان کا دل بہت ڈیجیٹل طریقے سے آیا ہے جب ان کی ویڈیو اس لڑکی ساتھ ایک حادثے کے طور پہ وائرل ہو جاتی ہے۔ پہلے نواب زادوں بےچاروں کو دل دینے کے لیے بھی پیسے خرچ کرنے پڑتے تھے۔

مسکان اپنی جگہ مگر کہانی روانی میں چلے جا رہی ہے۔ پوری کاسٹ منجھی ہوئی ہے اور ہر اعتبار سے ٹیم نے جم کر کام کیا ہے۔ محنت دکھائی دے رہی ہے۔

نواب صاحب کا ظرف تو اس ڈرامے میں اتنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دھوکہ دینے جا رہے ہیں اور بھول رہے ہیں کہ وہ بھی نواب زادہ ہے۔ وہ بھی اپنے سب زور لگا دے گا، جیسے باپ نے لگائے ہیں، وہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم یا اپنی ضد کے سامنے دیوار بن جائے گا۔

یہ رویہ اچھا نہ بھی ہو مگر جہاں سے کہانی اٹھی ہے وہاں کا تقاضا یہی ہے جس کو اٹھانے کے لیے مہک اور اس کا گھرانہ گھن چکر میں آ جاتا ہے۔ کہانی اب ہی شروع ہونے جا رہی ہے، محسوس ہوتا ہے شمشیر اور مہک اپنے اپنے نام میں ڈھلنے والے ہیں۔ ولن جیسا شمشیر ہیرو اس لیے بنے گا کیونکہ یہ سارے سماج کے مردوں کی چھوٹی چھوٹی محرومیوں کو ملا کر اکیلا سکرین کر رہا ہے۔

مہک اس لیے ہیروئن بنے گی کہ وہ بھی سماج کی ہر لڑکی کی چھوٹی چھوٹی بےبسی کا مجموعی عکس ہے۔

سب باتوں میں ایک بات جو اس الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے اچھی ہوئی ہے زندگی کو خواب سے نکال کر اس نے اسے آپ کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

ہم ہتھیلی میں کتنا سما لیں اور انگلیوں سے کتنا گرا دیں گے، یہ اب شاید ہمارے اپنے ظرف اور اختیار میں ہے۔

گیت کے بول کہانی کا خلاصہ ہیں:

محبت کو بھرے بازار رسوا کیا تم نے
اے سوداگر میرے دل کے یہ کیا سودا کیا تم نے
یہ کیسی تیری خود غرضی
سنی نہ دل کی اک عرضی

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی