’دوبارہ:‘ کہاں چھوٹی عمر کا لڑکا اور بڑی عمر کی عورت؟

ڈراما اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے مقبول ہوا اور کئی جگہ لگا کہ یہ سماج کے دباؤ میں معاشرے کے قدموں میں گر جائے گا، مگر ایسا ہوا نہیں۔

دوبارہ‘ ایک اہم معاشرتی ٹیبو پر کاری ضرب لگاتا ہے (ہم ٹی وی)’

عجائبات بابل کی طرح ہم نے اس ڈرامے کو دیکھا، اور عجائبات بابل کی مانند اس کا اختتام قبول کیا۔

ابھی ہمارے دماغ عبایا جتنے کھلے نہیں ہوئے۔ ابھی ہم نے عبایا میں سے نکلی دو آنکھوں اور دو ہاتھوں میں اٹھایا ہوا مردوں کی کثیر شادیوں کا کارڈ ہی دیکھا ہے، عورت کو یہ سہولت میسر کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

مگر معاف کیجیے گا آپ عجائبات بابل کی طرح ڈراما دیکھ رہے تھے اور ہم باغات بابل کی طرح سوچا کرتے ہیں۔

ڈرامے نے کم از کم سوچ تو دی ہے اور یقین کر لیجیے، طلاق کی جو تعداد ہو گئی ہے، اب ہم گھر بسانے کے لیے پرانے پیمانے اور معیار بدلنے پہ مجبور ہوں گے۔

ڈراما اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے مقبول ہوا اور کئی جگہ لگا کہ یہ سماج کے دباؤ میں معاشرے کے قدموں میں گر جائے گا، درمیان میں کہانی مصنفہ کی گرفت سے نکلتی بھی دکھائی دی اس کی ایک وجہ طوالت بھی ہو سکتی ہے، دوسری وجہ مقبولیت بھی ممکن ہے۔

عموماً ڈرامے 23 اقساط پہ ختم ہو جاتے ہیں مگر دوبارہ 37 اقساط پہ ہمارے سوچ کی بہاروں پہ ختم ہوا، گویا جنت کی عمر پائی۔ خدا کرے زمین والوں کی سوچ پہ اثر بھی کیا ہو۔

جس طرح ڈرامے کا آغاز علامتی تھا عین اسی طرح اس کا اختتام علامتی ہوا، جب مہرو تازہ ہوا کھانے بالکونی میں چلی جاتی ہے اور اسے پہلے اس کا شوہر کہتا ہے، ’اچھا ہوا آپ نے ابتسام سے شادی نہیں کی ورنہ آپ دوسری دفعہ بیوہ ہو جاتیں۔‘

یہ معاشرے کا وہ دیمک زدہ رویہ ہے جس کی وجہ سے بیواؤں کی ایک فوج سماج میں جمع ہو جاتی ہے کہ عورت کی پہلی شادی ہو یا دوسری مرد کم از کم بوڑھا ہونا چاہیے، دوسری پر تو بوڑھا بھی مل جائے تو شکر ادا کر لینا چاہیے۔

ویسے تو اس ڈرامے میں بھی مہروالنسا ایک دولت مند خاتون ہے بالکل ویسے جیسے کوئی ویزے والی میم کی کہانی ہوتی ہے۔ ماہر کے ذہن میں بھی دولت کا خیال آتا ہے لمحے بھر کو ہی سہی۔ نرمین بھی سوتن اور دولت کا تال میل تھا۔ اچھا ہوا کہانی نے ایسا کوئی موڑ نہیں لیا ورنہ اپنی انفرادیت بھی کھو دیتی اور انسانی اعتبار بھی۔

جس طرح قطرہ قطرہ کر کے دریا بنتا ہے یونہی ذرا ذرا سی سوچ بدلنے سے انقلاب آتے ہیں۔ اس ڈرامے نے عمومی سوچ پہ پہلی زبردست ژالہ باری کی ہے۔ کوئی بھی نئی بات شروع میں قبول نہیں کی جاتی، لہٰذایہ سوچ تاحال تو قبول عام و عوام نہیں ہو گی۔

ہمیں لگتا ہے عورت جس کی محبت میں گرفتار ہو جائے اگر وہ اسے خوش رکھ لے تو سچے پیار والی کہانی پوری ہو ہی جاتی ہے۔ ایک سماجی سوچ اکلوتی محبت ہونا۔ اسے ذہنوں کے پیندے سے اتار دیں تو اچھا ہے۔ مہروالنسا کہتی ہے کہ نہ وہ پہلے شوہر کی اکلوتی محبت تھی نہ دوسرے کی، یہ دل دکھانے والی سوچ تب تک ہے جب تک سماجی ہے۔ جب یہ فطرت سے آشنا ہوتی ہے تو وسعت میں ڈھل جاتی ہے۔ محبت اگر اپنی تعریفوں سے پہچانی جائے تو پھیلاؤ ہے۔ اکلوتا ہونا محدود ہے، یوں یہ متضاد ہو جاتے ہیں۔

محبت آپ ٹہنی پہ لگا وہ گلاب ہے جو اپنےوقت پہ کھلے گا لیکن اس کی خوشبو چاروں اور پھیلے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونہی ایک بزنس وومن اپنا سارا بزنس ماہر کے حوالے کر کے یک دم ایک گھویلو بندی بن جاتی ہے، اس سے کہانی کی انفرادیت کی جواٹھان تھی وہ ماند پڑتی ہے۔ پدرشاہی نظام کو تقویت ملتی ہے کہ جب تک زندگی میں کام کرنے والا مرد نہ ہو تب تک عورت کاروبار زیست سنبھالے گی اس کے بعد وہ ایک عام عورت میں بدل جائے گی۔

یہاں لطف نہیں آیا۔ عشق تو پھر دونوں کو فقیر کرتا ہے جی۔ شاذ ہی ہوتا ہے کہ کام کرنے والی عورت کچھ کیے بنا محبت کے جھولے پہ جھول سکے۔ وہ محبت بھی کام کرتے ہوئے انجوائے کرتی ہے کیونکہ اسے تو میچور محبت کرنا اس کے کام نے بھی سکھایا ہوتا ہے۔ ذمہ داریاں انسان کو گروم کرتی ہیں۔ اپنے کام سےعشق کرنے والا ہی انسان سے عشق میں ماہر ہوتا ہے۔

 آخری دو قسطوں میں کہانی خلیل جبران والا فلسفہ محبت لے کر چلی ہے۔ یہ عام بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ آپ ایک انسان سے محبت بھی کرتے ہوں اور اس کو آزاد بھی چھوڑ دیں کہ وہ آپ کو چھوڑ کے جا سکتا ہے اور آپ اس کو باخوشی باوقار رخصت کریں گے:

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

مگر ٹیم نے ایسا ہونے نہیں دیا، بتایا کہ ازدواجی رشتہ خونی نہ ہونے کے باوجود بہت مضبوط ہوتا ہے۔ محبت اظہار نہیں، نبھانے کا نام ہے۔

عارفہ سیدہ صاحبہ کی کہی بات یاد آ گئی، ’ایک سرگوشی کے وعدے کو زندگی بھر قائم کرنے کا نام محبت ہوتا ہے۔‘

بہت معذرت کے ساتھ جہاں بہت انقلابوں کی بات ہو رہی ہے اس سوچ کو بدلنا ہو گا کہ ’وہ تو اس کی ماں لگ رہی تھی۔‘ ممکن ہے اسے ماں کی طرح ڈھانپ لینے والی عورت ہی کی ضرورت ہو۔ ہم بڑی عمر کے مرد کو کیوں نہیں کہتے، ’وہ تو اس کا باپ لگ رہا ہے؟‘ بس یہ سماج ہے، ذہن سازی ہے جو ہو چکی ہے۔ جو باقاعدہ کی گئی ہے۔

ڈرامے نے اس معیوب لگتے، دل دکھانے والے رویے کو رد کیا ہے۔ ساتھ ساتھی سے ہوتا ہے، اگر یہ عمراور سماجی معیاروں کا محتاج ہوتا تو آج فیملی کورٹ میں بےشمار وکیل بھوکے مر رہے ہوتے۔

سماجی جال کو فوری توڑ دینا اتنا آسان بھی نہیں ہے، وہ لاشعور تک جڑیں بنا چکا ہوتا ہے۔ یہاں بھی کہانی کئی جگہ اسی لیے ڈگمگائی ہے۔

جس طرح بہت سے مزاج کی خواتین ہوتی ہیں، یونہی مردوں کے مزاج بھی الگ ہوتے ہیں۔ پرانے حکما تو دوا بھی مزاج کے مطابق دیا کرتے تھے، ہم شادی جیسے اہم رشتے میں مزاج کو اہمیت نہیں دیتے، سماج کو سلامی پیش کرتے ہیں اور انسان کی نفی کر دیتے ہیں۔ انسان کو تو اشرف المخلوقات کہا گیا تھا۔

ڈرامے نے بہر حال تازہ ہوا کا کام کیا ہے۔ بہت سوں کا کیتھارسس ہوا ہے، بہت سوں کو راہ ملی ہے بہت سوں کا خواب بنا ہے بہت سوں کا تعبیر بھی ہوا ہو گا۔

لیکن یقین کیجیے سچا پیار تبھی ملے کا جب عمروں سے آزاد ہو، دنیا کیا کہے گی سے آزاد ہو کر ہم فطرت کے رنگ میں سوچنا وعمل کرنا شروع کریں گے۔

ویسے آپس کی بات ہے مہرو اور ماہر میاں بیوی تھے اختتام اس بھی زیادہ رومانٹک ہونا چاہیے تھا کیونکہ

دو ستاروں کا زمین پر ہے ملن آج کی رات

آخری سین میں جو جھجھک دکھائی دی اس کو لمحہ جذب ہونا چاہیے تھا۔ ضروری نہیں جذبات شادی سے پہلے ہی چاندنی راتوں میں مچلتے ہیں، شادی کی ندی جیسی زندگی میں بھی بہت ہی حسین چاندنی راتیں اور بہار لمحے آ جاتے ہیں جن میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

جھجھک ختم ہو چکی ہوتی ہے جسے رشتے معراج پاتے ہیں۔ آؤ، نئی سوچ کے ساتھ نئی زندگی مسکراتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ