گرمیوں میں گھر کی کھڑکیاں کھلی رکھیں یا بند؟

جب موسم بہت زیادہ گرم ہو تو کچھ تازہ ہوا کے لیے کھڑکیاں کھولنے کو دل کر سکتا ہے لیکن اس کے بجائے کیا آپ کو انہیں بند رکھنا چاہیے؟

تعمیراتی ادارے کا ایک کارکن 21 اگست 2021 کو نیو لندن میں ساحل کے قریبی عمارتوں کے کھرکیاں مرمت کر رہا ہے تاکہ موسم کی سختی سے نمٹا جاسکے (تصویر: اے ایف پی فائل)

گرمی ہو رہی ہے۔ موسم گرما کی تازہ لہر آ چکی ہے اور ہم پہلے سے ہی اسے محسوس کر رہے ہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ برطانیہ کے کچھ حصوں میں اس ہفتے درجہ حرارت 45 درجے سیلیئس تک پہنچ جائے گا۔ ایک بار پھر ملک بھر میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے زندگی مشکل ہو جائے گی لیکن خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اس وقت گھر سے کام کر رہے ہیں (جو زندگی میں کام کا نیا انداز ہے)۔

جب موسم بہت زیادہ گرم ہو تو کچھ تازہ ہوا کے لیے کھڑکیاں کھولنے کو دل کر سکتا ہے لیکن اس کے بجائے کیا آپ کو انہیں بند رکھنا چاہیے؟

برطانیہ میں عوامی صحت کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس نے مشورہ دیا ہے کہ پردے ڈال کر رکھے جائیں تا کہ وہ کمرے جو دھوپ کے رخ پر ہیں انہیں اتنا سائے میں رکھا جا سکے جس قدر ممکن ہو۔

ہیلتھ سروس کا مشورہ ہے کہ زیادہ مشروبات استعمال کریں اور زیادہ شراب مت پیئں۔ دن 11 بجے سے لے کر سہ پہر تین بجے تک دھوپ میں نہ جائیں۔ دن کے گرم ترن وقت میں ورزش سے گریز کیا جائے۔

نوٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی میں عمارتوں میں گرمی کی منتقلی کے ماہر پروفیسر امین الحبیبی نےدی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ سب گرمی کی منتقلی کے بارے میں ہے۔ ہمیں گرم موسم میں عمارت کے اندر گرمی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

’حرارت کے دو ذرائع ہیں: دھوپ اور گرم ہوا۔ ہمیں’گرین ہاؤس‘اثرات سے بچنے کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے گھر کے اندر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

’اس لیے اگر آپ کے پاس ایسا کمرہ ہے جس میں شیشے لگے ہوں تو یہ بات اہم ہو جاتی ہے کہ دن کے وقت کھڑکیاں کھلی رکھی جائیں اور مثالی انداز میں باقی گھر سے الگ کر دیا جائے تا کہ گرین ہاؤس اثرات کے نتیجے میں باقی عمارت میں پہنچنے والی گرمی کم کی جا سکے۔‘

’گھر کے اندر دھوپ کے وجہ پیدا ہونے والی حرارت کو کم کرنے کے لیے دن کے وقت پردے ڈالے رکھنا اہم ہے۔‘

آپ کو کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہییں یا نہیں اس حوالے سے حبیبی کا کہنا تھا کہ اس بات انحصار گھر کی قسم اور بیرونی درجہ حرارت پر ہے۔

ہ وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’مختصر بات یہ ہے کہ کھڑکی اس وقت کھولی جائے جب گھر کے اندر کا درجہ حرارت باہر کے درجہ حرارت سے بڑھ جائے۔ بصورت دیگر کھڑیاں بند رکھیں۔‘

بیڈ فروخت کرنے والے ریٹیلر’اینڈ سو ٹو بید‘سے منسلک نفسیات اور نیند کی ماہر ڈاکٹر لِنزے براؤننگ متفق ہیں کہ جب آپ کے لیے ممکن ہو کھڑکیاں بند رکھیں۔

براؤننگ وضاحت کرتی ہیں کہ’عام طور پر جب باہر واقعی گرمی ہوتی ہے تو دن کے وقت کھڑکیاں بند رکھنا اچھی بات ہے کیوں کہ آپ نہیں چاہتے کہ باہر کی گرم ہوا گھر کے اندر آ کر اسے گرم کر دے۔ تاہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر کی ہوا ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس وقت یہ بہت اچھی بات ہے کہ کھڑکیاں کھول دی جائیں تاکہ باہر کی ٹھنڈی ہوا بیڈ روم میں آ سکے جس سے کمرے کو ٹھنڈا کرنے اور ہوا کی ضروری گردش میں مدد ملے گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دن کے وقت کمرے کو تاریک رکھا جائے تا کہ دھوپ کمرے کو گرم نہ کر سکے۔

این ایچ ایس پراپرٹی سروسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ’سورج کے رخ پر واقع کمروں کے بلائنڈز اور پردے بند رکھنے اور عمارت کی اس طرف کی کھڑکیاں کھولنے کی سفارش کرتے ہیں لیکن جہاں براہ راست دھوپ پڑتی ہو وہاں کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔‘

ترجمان کا کہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس ہوا کو ٹھنڈا کرنے کا انتظام ہے تو کھڑکیاں بند رکھی جائیں تا کہ نسبتاً ٹھنڈی ہوا گردش کر سکے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین