پاکستان میں سیلابوں کی تاریخ: حالیہ سیلاب کتنا مختلف ہے؟

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شمالی علاقوں کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں جس سے مستقبل میں مزید تباہ کن سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔

2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں پر اڑ رہا ہے (پبلک ڈومین)

طوفانِ نوح کا تو سب نے سن رکھا ہے لیکن ہندوستان کی اساطیر میں بھی ایسے بڑے بڑے سیلابوں کو ذکر ہے جن کی وجہ سے یہاں زندگی کئی بار معدوم ہوئی۔ رگ وید، اپنشد، جاتکا میں ایسے بڑے سیلابوں کا ذکر موجود ہے۔

مہا بھارت کے مطابق گنگا میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں دارالحکومت ہستنی پور مکمل تباہ ہو گیا۔ اسی طرح بدھ کہانیوں میں سروستی دریا میں ایک خوفناک سیلاب کا تذکرہ ہے۔ کشمیر کی قدیم تاریخ کے مطابق وادی کئی بار سیلابوں سے تباہ ہوئی۔ کوٹلیہ چانکیہ کی ارتھ شاستر جو 2300 سال پہلے لکھی گئی اس میں لوگوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے طریقے بھی درج ہیں۔

معلوم تاریخ کے مطابق 1585 میں بنگال میں آنے والے سیلاب سے دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے 100 سال بعد پھر بنگال میں یہی تاریخ دہرائی گئی۔ 1737 میں کلکتہ میں سونامی کی وجہ سے تین لاکھ افراد ہلاک ہو گئے۔ 1866 میں پوری میں چار لاکھ لوگوں کی زندگی کے چراغ سیلاب نے گل کر دیئے۔

 سندھو کتنی بار بپھرا؟

 دریائے سندھ میں کئی بار خوفناک سیلاب آئے ہیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپا کی تہذیبیں بھی سیلابوں کی وجہ سے ہی تاریخ سے مٹ گئیں۔ برطانوی عہد میں دریائے سندھ میں سب سے بڑے سیلاب کا تذکرہ ہمیں اٹک کے گزیٹیئر 1930 میں ملتا ہے جس کے مطابق جون 1841 میں یہاں ایک خطرناک سیلاب آیا تھا جس میں درجنوں دیہات صفحہ ہستہ سے مٹ گئے اور صرف اٹک میں چار ہزار لوگ مر گئے۔ اگر آج کی آبادی کا تناسب دیکھا جائے تو صرف ضلع اٹک میں مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت کا یہ سیلاب کتنا تباہ کن تھا۔

لیکن یہ سیلاب بارشوں کی وجہ سے نہیں آیا تھا۔ بلکہ دور پہاڑوں میں تودہ گرنے سے دریا کا راستہ بند ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہاں دریا ڈیم کی صورت اختیار کر گیا۔ اٹک کے مقام پر دریا بالکل خشک ہو گیا اور لوگ پیدل دریا پار کرنے لگے۔ لوگ یہ سوچتے ضرور تھے کہ پانی کدھر گیا لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پانی پیچھے تودہ گرنے کی وجہ سے رکا ہوا ہے جو کسی روز طوفانِ بلا بن کر سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔

کہتے ہیں کہ چھ ماہ پانی رکا رہا اور ایک دن اچانک دریا پھٹ پڑا اور پھر اس کے راستے میں جو کچھ آیا اسے تنکوں کی طرح بہا کر لے گیا۔ اٹک میں چھچھ کے علاقے میں دریا کے کناروں سے 12 میل کے علاقے میں کچھ نہ بچا۔

اٹک کے ساتھ پشاور سے 10 کلومیٹر دور پبی کا علاقہ بھی پانی میں ڈوب گیا۔ اکوڑہ خٹک اور نوشہرہ میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ اٹک کے مقام پر دریا میں کشتیوں کا پل تھا جسے پانی نے دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر جا کر پھینک دیا۔

سیدو شریف میں تعینات چار بٹالین جو راستے میں آ رہی تھیں دریا میں غرق ہو گئیں اور ان میں سے کوئی نہیں بچا۔ کوہاٹ اور عیسیٰ خیل میں بھی کئی گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ ایک چوتھائی تربیلا بہہ گیا۔

سندھ میں دوسرا خطرناک سیلاب 1928 میں آیا جب دریائے سندھ میں شایوک گلیشئر آ گرا اور دریا کا راستہ بند ہو گیا۔ جب یہ برفانی تودہ پھٹا تو دریا میں 25 سے 30 فٹ بلند ریلا آیا۔ چوں کہ اس وقت حکومت حرکت میں تھی اس لیے لوگوں کو بر وقت اطلاع دے کر منتقل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد دریائے سندھ میں پہلا سیلاب 1956 میں آیا، پھر 1976، 1986اور 1992 میں سیلاب آئے مگر ان میں بھی کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا اخراج نو لاکھ کیوسک سے زیادہ نہیں بڑھا تھا۔

2010 کا سیلاب اس لحاظ سے زیادہ تباہ کن تھا کہ پانی کا اخراج 10 لاکھ کیوسک سے بڑھ گیا۔ عالمی بینک کے مطابق 1950 سے 2010 تک پاکستان میں آنے والے سیلابوں سے 8887 لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ایک لاکھ نو ہزار 822 دیہاتوں کو جزوی یا کلی طور پر نقصان ہوا ہے۔ ایک کروڑ 40 لاکھ ملین ہیکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور سیلاب سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 19ارب ڈالر کا ہے۔

2010 سے 2022 کا سیلاب کتنا مختلف ہے؟

2010 کا سیلاب بالائی علاقوں سے شروع ہوا تھا اور دریائے سندھ سے ملحقہ علاقوں میں شدید تباہی کا باعث بنا تھا مگر حالیہ سیلاب اس حوالے سے مختلف ہے کہ دریائے سندھ کے بپھرنے سے پہلے ہی مون سون کی بارشوں نے بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں تباہی مچا رکھی تھی اور جب بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں سے سندھ میں زیادہ پانی آیا تو یہ زیریں علاقوں میں مزید تباہی کا باعث بنا۔

وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق 2010 کا سیلاب 17 سو جانیں لے گیا تھا۔ ملک کے کل رقبے کا 20 فیصد اور دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ 11 لاکھ گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ 50 لاکھ سے زائد جانور ہلاک ہوئے تھے۔ 2010 کے سیلاب سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

اس سال کا سیلاب 2010 کے سیلاب سے اس حوالے سے زیادہ تباہ کن ہے کہ اس سے متاثرہ رقبہ زیادہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وفاقی وزیر شیری رحمٰن کے مطابق پاکستان کے150 اضلاع میں سیلاب سے 110اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیر آب آچکا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک سیلاب سے 1302 افراد مارے  جا چکے ہیں اور اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

اب تک سیلاب سے سات لاکھ گھروں کلی یا جزوی طور پر تباہ ہو ئے ہیں۔ سات لاکھ 94 ہزار جانور سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ 20 لاکھ ہیکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اس بار سیلاب کا دائرہ چاروں صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 کرے کوئی بھرے کوئی

گذشتہ 20 سالوں میں پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سالانہ 14 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

امیر ممالک جن میں امریکہ، کینیڈا، جاپان اور مغربی یورپ کے ممالک شامل ہیں جو دنیا کی آبادی کا صرف 12 فیصد ہیں ان کا زہریلی گیسوں کے اخراج میں حصہ 50 فیصد ہے۔ جبکہ 2020 کے ڈیٹا کے مطابق چین، امریکہ کے مقابلے میں اڑھائی گنا زیادہ زہریلی گیسوں کے اخراج کا باعث بن رہا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت 1.1 سینٹی گریڈ بڑھا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں تباہ کن بارشیں ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں آٹھ ہزار سے زیادہ گلیشیئر موجود ہیں جو تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا ویب نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پاکستان کا دنیا میں ہونے والی زہریلی گیسوں کے اخراج میں کردار صرف ایک فیصد ہے جبکہ دنیا کے امیر لوگ جن کا کردار 50 فیصد ہے وہ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان امیر لوگوں پر گلوبل ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ