برطانیہ: ’غیرت‘ کی بنیاد پر جرائم کی سزاؤں میں کمی

غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم پر 14-2013 میں 123 مقدمات لیکن 18-2017 میں صرف 71 مقدموں میں سزا سنائی گئیں۔

خواتین کے خلاف جرائم میں ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا، زبردستی شادی اور اس کے بعد پے درپے عصمت دری، ختنہ، حملے، قتل کی دھمکیاں، اقدام قتل اور قتل شامل ہیں (پکسا بے)

دی انڈپینڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں گذشتہ پانچ برس میں خواتین کے خلاف نام نہاد غیرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم پر سزا دینے کے عمل میں کمی آئی ہے۔

تاہم ایسے جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ملک گیر مہم جاری ہے۔

خواتین کے خلاف جرائم میں ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا، زبردستی شادی اور اس کے بعد عصمت دری، ختنہ، حملے، قتل کی دھمکیاں، اقدام قتل اور قتل شامل ہیں۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم پر2013-14 میں 123 مقدمات میں سزائیں دی گئیں لیکن 2017-18 میں صرف 71 مقدموں میں سزا سنائی گئیں۔

غیرت کے نام پر جرائم کے مقدمات میں سزا سنانے کے عمل میں کمی کو مسئلہ تسلیم کرکے اس ہفتے ملک گیر مہم کا اغاز کیا گیا ہے۔ سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز پر برطانیہ بھر میں  پولیس افسر ہوائی اڈوں پر جا کر ان ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے سوال کرتے ہیں جہاں غیرت کے نام پر جرائم ہوتے ہیں۔

لندن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جبری شادی اور خواتین کے ختنے کے جرم میں سزا سنانے میں کمی سے متعلق سوال کے جواب میں پولیس افسروں نے کہا کہ متاثرہ خواتین خوف کی وجہ سے آگے نہیں آتیں، انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا کہ جو سلوک ان کے ساتھ کیا گیا وہ جرم ہے یا خواتین اپنے خاندان کے ارکان کا نام نہیں لیتیں۔

ویسٹ مڈلینڈ پولیس کی ڈیٹیکٹو سارجنٹ ٹروڈی گٹنز نے کہا غیرت کی بنیاد پر وجود میں آنے والے خیالات کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔

ٹروڈی گٹنز نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’مسئلہ یہ ہے کہ  تیسری نسل میں ثقافتی روایات کی جڑیں ابھی تک بہت گہری ہیں، لوگ ابھی تک ترک وطن کر رہے ہیں اور وہ یہ خیالات اپنے ساتھ لاتے ہیں لیکن اس وقت جس حقیقت کی نشاندہی ہو رہی ہے وہ یہ  کہ زیادہ تعداد میں لوگ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کی اطلاع پولیس کو دیتے ہیں۔‘

برطانیہ میں غیرت کے نام پر استحصال کی صورت میں مدد کرنے والی سب سے بڑی تنظیم کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز میں گذشتہ سال 35 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 13 ہزار 124افراد نے تنظیم سے رابطہ کیا۔

غیرت کے نام پر متاثرہ خواتین کی مدد کرنے والے قومی سطح کے فلاحی ادارے کرما نروانا کی ڈائریکٹر نتاشا رتو نے غیرت کے نام پر ہونے والے استحصال کو ایسا جرم قرار دیا جو ایک ایسے انسان کے خلاف ہوا جس کے بارے میں اس کے خاندان یا برادری کا خیال ہے کہ وہ شرم یا بدنامی کا سبب بنا۔

نتاشا رتو نے ایک خاندان کی مثال دی جس نے ایک خاتون کو ایسے تعلقات کی بنیاد پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جو ان کے خیال کے مطابق درست نہیں تھے۔ بعد میں خاتون کو خاندان کی مرضی کے مطابق شادی پر مجبور کیا گیا۔ اس عمل میں سزا اور عزت کی بحالی دونوں شامل تھے۔

غیرت کے نام پر جرائم کے خلاف مہم چلانے والی نتاشا رتو نے کہا: ’غیرت کے نام پر ہونے والے ہزاروں جرائم چھپے رہتے ہیں اس لیے ان میں سزا نہیں ہوتی۔ جرائم میں ملوث افراد انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جاتے۔ غیرت کے نام پر جرائم کے مقدمات میں سزا سنانے کے عمل میں کمی بے حد تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھی ہے۔ مختلف برادریوں کو پیغام ملا ہے کہ آپ جرم کے بعد بھی بچ ہی نکلتے ہیں۔‘

پولیس نے کہا ہے اس ہفتے ’لائم لائٹ‘ کے خفیہ نام سے ایک آپریشن کیا گیا جس کا مقصد غیرت کے نام پر جرائم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، مجرمانہ رویے کا پتہ لگانا اور خفیہ معلومات اکٹھی کرنا تھا۔

نتاشا رتو غیرت کے نام پر جرائم کے خلاف اس منصوبے کا حصہ ہیں، جس میں ریلوے سٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے اس منصوبے کو دلیرانہ اور منفرد قرار دیتے ہوئے سراہا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود غیرت کے نام پر جرائم کی صورت میں الزام عائد کرنے، مقدمہ چلانے اور سزا سنانے میں کمی ایک تشویشناک اور گہری جڑیں رکھنے والا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا پولیس کراؤن پراسیکیوشن سروس کو غیرت کے نام پر استحصال کے مقدمات میں جس کمی کے بارے میں بتا رہی ہے، وہ اس حوالے سے کم علمی کے مسئلے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں کرما نروانا نے برطانیہ اور ویلز میں 43 پولیس اہلکاروں کو تربیت بھی دی۔  

نتاشا رتو نے کہا: ’تربیت کی حقیقی کمی ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کو بعض اوقات یہ فکر ہوتی ہے کہ انہیں ثقافتی اقدار کا خیال نہ رکھنے والے اور نسل پرست کے طور پر دیکھا جائے گا۔‘

نتاشا رتو نے مزید کہا: ’ہم ایسے واقعات دیکھتے ہیں جو غیرت نام کے نام پر استحصال نہیں ہوتے لیکن انہیں ایسا قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ غیرت کے نام پرمتاثرہ افراد کو وہ حقوق حاصل نہیں جن کے مالک دوسرے برطانوی شہری ہیں۔ یہ مسائل اقلیتی برادریوں میں ہیں اور یہ برادریاں اکثر پیچھے رہ جاتی ہیں۔‘

’غیرت کے نام پراستحصال کے مسئلے کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ متاثرہ افراد ایسا محسوس نہیں کرتے کہ وہ سرکاری اداروں پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں سرکاری ادارے استحصال کرنے والوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔‘

نتاشا رتو نے کالج آف پولیسنگ کے ایک آزمائشی منصوبے سے غیرت کے نام پر تشدد سے متعلق سوال نکالنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ آزمائشی منصوبے کے تحت پولیس افسرمتاثرہ افراد کو خطرات کی نشاندہی کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

نتاشا رتو نے کہا: ’یہ سوال نکالنے سے پولیس افسروں کے لیے غیرت کے نام پر استحصال کی نشاندہی کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہ سوال نہ ہونے سے مقدمات کی تعداد اور بھی کم ہوگی۔ ہم نے وزارت داخلہ اور نیشنل پولیس چیفس کونسل کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔‘

غیرت کے نام پر جرائم کے خلاف مہم چلانے والی خاتون نے کہا کہ متاثرین ایسے جرائم کی اطلاع دینے کے لیے اکثر سرکاری حکام پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے اوربہت سے سوشل ویلفیئر افسروں کو علم ہی نہیں کہ جبری شادی کے مقدمات میں حکومت کے جبری شادی یونٹ کی رہنمائی کا مقصد فریقین میں مصالحت کرانا نہیں ہے۔

نتاشا رتو نے کہا بعض اوقات سوشل ویلفیئر افسروں نے متعلقہ خاندانوں کو بتا دیا کہ ان کی بیٹی نے اپنے خلاف غیرت کے نام پر ہونے والی کارروائی کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے بعد خاندان کے ارکان نے انہیں ایسی اداکاری کرکے دھوکہ دیا جس کے لیے وہ آسکرز ایوارڈ کے مستحق ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نتاشا رتو نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غیرت کے نام پر استحصال روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا غیرت کے مقدمات میں سزا سنانے میں کمی کو مقدمہ چلانے والے ان سرکاری حکام سے جوڑا جا سکتا  ہے جو اس سلسلے میں ہونے والے استحصال کے بارے میں اتنی اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں کہ متاثرین کو تحفظ فراہم کر سکیں۔

غیرت کے نام پر استحصال کے اکثر مقدمات میں خاندان کے ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔ بعض اوقات ایک بڑے خاندان یا بڑی برادری کے دوسرے افراد بھی اس میں ملوث تھے۔

فلاحی تنظیم ساؤتھ ہال بلیک سسٹرز کی ڈائریکٹر پراگنا پاٹیل کہتی ہیں کراؤن پراسیکیوشن سروس کے حوالے کیے جانے والے غیرت کے مقدمات میں کمی اور ان مقدمات میں پولیس کا عمل دخل کم ہونے اور اس مد میں مختص فنڈ کے کسی دوسری جگہ استعمال کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا غیرت کے مقدمات میں سزا سنانے میں کمی کی وجہ سے خواتین کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جبکہ سزا سے بچ نکلنے کی روایت کی بھی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

پراگنا پاٹیل نے کہا: ’ممکنہ طورایسی خواتین کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا جا رہا ہے جو غیرت کے نام پر استحصال کے خطرے سے سب سے زیادہ دو چار ہیں۔ ان کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جب ایک بار وہ پولیس کو اطلاع دینے کا فیصلہ کر لیتی ہیں تو ختنے، الگ تھلگ رکھے جانے، الزام تراشی یا شاید اس سے بھی زیادہ سنگین خطرات کا شکار ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ برادری کے اصولوں کی خلاف ورزی کر چکی ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات میں ملوث افراد اس حقیقت کو، کہ ان کے خلاف کچھ نہیں ہو گا، خواتین کے مزید استحصال کے لیے ہتھیارکے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔‘

برطانیہ  اور ویلز میں جبری شادی کے خلاف قانون 2014 میں نافذ کیا گیا تھا۔ جبری شادی کرانے میں ملوث کسی شخص کو سات برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

2018 میں جبری شادی کرانے کے دو مختلف مقدمات میں تین افراد کو سزا سنائی گئی۔ برطانیہ میں پہلی بار ایسے مقدمات میں سزا دی گئی۔

 پہلے مقدمے میں کارروائی مکمل ہونے پر ایک ماں کو بیٹی کو پاکستان میں مقیم بڑی عمر کے ایک ایسے رشتہ دار کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کرنے پر قید کی سزا دی گئی جس نے 13 برس کی عمر میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

دوسرا مقدمہ ایک جوڑے کا ہے جو 18 سالہ بیٹی کو دھوکہ دے کر بنگلہ دیش لے گیا تاکہ اس کی شادی کزن سے کی جا سکے۔ لڑکی اس کے بچے کو جنم دے اور خاوند کو برطانوی ویزا دلوانے میں اس کی مدد کرے۔ خاتون کا ختنہ کرنے کے مقدمے میں ملوث افراد کو اس سال کے شروع میں سزا سنائی گئی۔

رفاہی منصوبے ’دا ہیلو پراجیکٹ‘ کی ڈائریکٹر یاسمین خان نے کہا کہ جبری شادی کو جرم قرار دینا اور اس سلسلے میں دباؤ کا نتیجہ مزید مقدمات کی صورت میں سامنے آیا لیکن ان میں کمی اس وقت ہوئی جب معاملے کو ترجیحات کی فہرست سے نکال دیا گیا۔

یاسمین خان کی جن کی فلاحی تنظیم برطانیہ بھر میں غیرت کی بنیاد پر استحصال کا شکار ہونے والوں کی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات چلنے اور سزا سنائے جانے میں کمی کا تعلق پولیس اور عدالتی نظام کی مسئلے سے آگاہی میں کمی سے ہے۔

انہوں نے کہا: ’سرکاری اداروں میں غیرت کے نام پر استحصال کے معاملے میں مکمل لاعلمی ہے – پولیس، مقامی کونسل، صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے اداروں کو علم ہی نہیں کہ کون سے علامات تلاش کی جائیں۔ ان اداروں کی طرف سے درست سوالات بھی نہیں کیے جاتے۔ غیرت کی بنیاد پر استحصال کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ ہمیں ان متاثرین کی مدد کے لیے جو بن پڑتا ہے کرنا چاہئیے۔‘

یاسمین خان کا کہنا تھا: ’ہمیں اس زنجیر کو توڑنا ہوگا تاکہ متاثرین خاموشی سے تکلیف برداشت نہ کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا: ’ایسے لوگ موجود ہیں جو غیرت کی بنیاد پر استحصال کے کئی بار مرتکب ہوتے ہیں اور خاندان میں ایک کے بعد دوسرے کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ترجمان نے کہا: ’غیرت کی بنیاد پر استحصال ایک ناقابل یقین پیچیدہ جرم ہے اور ہمیں علم ہے کہ متاثرین کو اضافی امداد کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں مقدمات کامیابی کے ساتھ عدالتوں میں لانے میں مدد مل سکے۔‘

’ہم نے اس سلسلے میں پولیس کے ساتھ  ایک مشترکہ معاہدے پر اتفاق کیا ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ تحقیقاتی ٹیمیں بہترین طریقے استعمال کریں جن سے متاثرین کی مدد ہو اور وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں۔ ہم صرف وہ مقدمات چلا سکتے جو ہمیں پولیس بھیجتی ہے لیکن جہاں ہمارے قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہوں ہم مقدمے چلانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین