طالبان کی حکومت میں بینک سے پیسے نکلوانا کتنا مشکل ہے؟

طالبان کی حکومت میں عام آدمی کی روزمرہ زندگی کس طرح متاثر ہوئی، اس کی ایک جھلک بینک میں جانے والے نوجوان کی زندگی سے دیکھی جا سکتی ہے، جو ہمیں اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

چار ستمبر 2021 کو کابل میں لوگ ایک بینک کے باہر قطار بنا کر کھڑے ہیں (اے ایف پی)

 اگست 2021 میں طالبان کے اقتدرا سنبھالنے کے بعد افغانستان کا عالمی بینکنگ نیٹ ورک سے منسلک بینکاری کا نظام بری طرح بکھر گیا۔ اطلاعات کے مطابق پہلے ہی خزانے میں بہت کم رقم باقی تھی کہ راتوں رات امریکہ کی طرف سے آنے والے ڈالروں کا سلسلہ بند ہو گیا۔

مزید یہ کہ امریکہ اور یورپ میں موجود مرکزی بینک کے ذخائر منجمد کر دیے گئے اور امریکہ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باعث افغانستان میں رقوم کا حصول شدید مشکل ہو گیا۔ ڈالروں کی اچانک قلت کے ساتھ ساتھ افغانی نوٹ بھی ختم ہونے لگے اور نئے پرنٹ شدہ نوٹوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔

طالبان حکومت نے لوگوں کو بینکوں سے اپنے پیسے نکلوانے سے باز رکھنے کے لیے بینک ہی بند کر دیے اور اس طرح بینکنگ سیکٹر کو وقتی سہارا دیا گیا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے ساری تو نہیں لیکن کچھ پابندیاں ہٹا دیں۔ بینکنگ سسٹم سے مستفید ہونا افغان عوام کے لیے درد سر بن چکا ہے۔

طالبان کی حکومت میں عام آدمی کی روزمرہ زندگی کس طرح متاثر ہوئی، اس کی ایک جھلک بینک میں جانے والے نوجوان کی زندگی سے دیکھی جا سکتی ہے جو ہمیں اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

’کھانے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد رات ساڑھے 11 بجے کے قریب میں ہفتے میں ایک بار بینک جانے کے لیے نکلتا ہوں۔ اس لمحے میری ماں کی آنکھوں میں شدید پریشانی ہوتی ہے۔

کابل کے مغرب میں واقع اپنے گھر سے شہر کے وسط میں واقع بینک تک آدھی رات کو سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ آج کل ڈکیتی کی وارداتیں عام ہیں، خاص طور پر رات گئے جب گاڑیوں میں سفر کرنے والے لوگ ان مجرموں کے لیے آسان شکار ہوتے ہیں جو اندھیرے کا سہارا لے کر ان کے پیسے، موبائل فون، گاڑیاں اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیتے ہیں۔

میری ماں میرے متعلق فکرمند رہتی ہیں اور سکون سے سونے کے بجائے بار بار فون کرتی ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آدھی رات کو بینک کون جاتا ہے۔ آپ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں، تاہم افغانستان میں اگست 2021 کے بعد سے صورت حال مختلف ہے۔ طالبان حکومت کے آتے ہی بینکنگ کا شعبہ بحران میں گھر گیا اور کچھ وقت کے لیے بینک بند ہو گئے۔

دوبارہ کھلنے کے بعد انہوں نے صارفین پر اپنی رقم استعمال کرنے پر مختلف پابندیاں عائد کر دیں تاکہ وہ چلتے رہیں۔ ان پابندیوں میں اس بات کا بھی تعین شامل تھا کہ صارفین کب اور کتنی رقم نکال سکتے ہیں۔

اس حوالے سے ہر بینک نے اپنا طریقہ کار وضع کیا ہے۔ میں جس بینک کی بات کرنے جا رہا ہوں وہ افغانستان کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک ہے اور میں جس ادارے کے ساتھ کام کرتا ہوں وہ یہی بینک استعمال کرتا ہے۔

اس بینک کے طریقہ کار کے مطابق ہر کاروباری ادارے اور این جی او  کو اپنا ایک مجاز نمائندہ بھیجنا پڑتا ہے جو رات کو قطار میں کھڑا ہو کر دن ایک بجے تک انتظار کرے۔ اس کے بعد بینک کا کوئی ملازم 55 لوگوں کے نام پکارتا ہے اور اگر وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہے تو اگلی صبح بینک سے متعلق لین دین کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کابل میں ایک چھوٹی این جی او کے فنانس آفیسر کے طور پر مجھے ہفتے میں ایک بار رات کے وقت بینک جا کر باہر قطار میں لگنا ہوتا ہے۔

آپ کتنے پیسے نکال سکتے ہیں؟

بینکوں کی طرف سے دیگر بھی مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔ کمرشل صارفین طالبان کے قبضے سے پہلے اپنے کھاتوں میں موجود رقم کا ہر ہفتے محض پانچ فیصد نکال سکتے ہیں۔ 15 اگست 2021 کے بعد جمع ہونے والے فنڈز پر ایسی کوئی حد نہیں۔ اگر آپ کو بینک سے صرف ایک سٹیٹمنٹ یا خط چاہیے تو آپ کو قطار میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں لیکن آپ کو ایک دن پہلے جا کر وقت لینا ہو گا۔

ذاتی بینک اکاؤنٹس والے صارفین ہر ہفتے زیادہ سے زیادہ محض 200 ڈالر یا 20 ہزار افغانی نکال سکتے ہیں۔ وہ کسی بھی برانچ میں جا کر اپائنٹمنٹ بُک کر سکتے ہیں، جس کے بعد عام طور پر دو سے تین دن کے اندر ان کی باری آ جاتی ہے۔

مطلوبہ دن گاہک کو برانچ کھلتے ہی صبح صبح پہنچنا ہوتا ہے اور اپنی باری کے لیے کئی گھنٹے اور کبھی کبھی پورا دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔

یقیناً اے ٹی ایم مشینیں موجود ہیں لیکن میں نے ذاتی طور پر کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں نہیں سنا جو گذشتہ اگست سے لے کر ابھی تک کسی ایک بھی مشین سے پیسے نکالنے میں کامیاب ہوا ہو۔

تمام کھاتہ داروں کے لیے عام طور پر لین دین مقامی افغانی کرنسی میں ہوتا ہے لیکن اگر آپ کی رقم ڈالر کی صورت میں جمع کی گئی ہو تو آپ ڈالرز کا مطالبہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ بینک میں ڈالر دستیاب ہوں۔ بصورت دیگر آپ بینک کے ایکسچینج ریٹ پر اپنی نقدی افغانی کرنسی میں لے سکتے ہیں جو کہ مارکیٹ ریٹ سے عام طور پر تقریباً آدھا افغانی روپیہ کم ہوتی ہے۔

ممکن ہے یہ بہت معمولی محسوس ہو لیکن جیسے جیسے رقم بڑھتی جاتی ہے اس خسارے میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ماہانہ 5 سو ڈالر کماتا ہے تو اسے 250 افغانی یا تقریباً تین ڈالر ایکسچینج میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اتنے پیسوں میں تقریباً 25 روٹیاں خریدی جا سکتی ہیں۔

بینک کے اندر اعصاب شکن انتظار کا مرحلہ

وقت مختص کروانے کے بعد اگلے روز مجھے صبح نو بجے تک بینک پہنچ جانا ہوتا ہے۔ اگر سب ٹھیک چل رہا ہو تو عام طور پر میرا کام ختم ہونے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں لیکن اگر بینک کے پاس نقد رقم نہ ہو تو ہمیں اس کی آمد کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

بعض اوقات دوپہر تک انتظار کرتے رہنے کے بعد وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ آج بینک کو نقد رقم نہیں ملے گی اور ہمیں دوسرے دن آ کر کوشش کرنی چاہیے۔ ایسے اچھے دن بھی دیکھنے نصیب ہو جاتے ہیں جب رقم نکالے بغیر مجھے بینک سے بینک پیسے ٹرانسفر کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ تب مجھے بینک میں نقدی آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا اور میں براہ راست ادائیگی کروا لیتا ہوں۔

انتظار کے دوران وقت گزاری کے لیے میں اپنے موبائل فون پر گیمز کھیلتا ہوں، خبریں پڑھتا ہوں، فیس بک استعمال کرتا ہوں یا دوستوں سے فون پر باتیں کرتا ہوں۔ طویل انتظار ایک اعصاب شکن مرحلہ ہے۔ لوگوں کو انتظار کرتے ہوئے اپنی نشستوں پر سوتے ہوئے دیکھنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

بعض اوقات، خاص طور پر جب میرے فون کی بیٹری ختم ہو جاتی ہے، میں اپنے پاس بیٹھے شخص سے وقت گزارنے کے لیے ہلکی پھلکی باتیں کرتا ہوں۔ ہم اپنی ملازمتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، ہم کون سے سکول سے پڑھے یا ہم افغانستان کے کس حصے سے ہیں۔

کبھی کبھی ایسے موضوعات کی طرف بھی نکل جاتے ہیں کہ طالبان کے قبضے سے پہلے چیزیں کتنی سہل ہوتی تھیں، آپ کو نمبر حاصل کرنے کے لیے آدھی رات کو بینک کے باہر نہیں جانا پڑتا تھا، آپ بغیر کسی پابندی کے پیسے بھیج اور نکال سکتے تھے۔

آپ بینک کی کسی بھی برانچ میں جا سکتے تھے، چاہے جتنا بھی رش ہو  ایک گھنٹے کے اندر اپنا لین دین مکمل کر سکتے تھے۔

انتظار گاہ میں عموماً تین سے چار خواتین بھی ہوتی ہیں۔ خواتین شام کو خود نہیں آ سکتیں اس لیے انہیں وقت مختص کروانے کے لیے اپنی طرف سے کسی مرد ساتھی یا رشتہ دار کو بھیجنا پڑتا ہے۔ انہیں دیکھ کر میرے ذہن میں مختلف خیالات گردش کرنے لگتے ہیں۔

کیا وہ میری طرح کسی تنظیم کی ملازم ہیں یا اپنا کاروبار چلا رہی ہیں؟ لیکن میرے لیے ان سے پوچھنا ممکن نہیں۔ میں ایک لمحے کو ایسے کسی امکان پر غور کرتا ہوں اور پھر خیال جھٹک کر بیٹھ رہتا ہوں۔

جب آخر کار میری باری آتی ہے تو میں متعلقہ فرد کے پاس جا کر لین دین کی سلپ اور دیگر دستاویزات اس کو تھما دیتا ہوں۔ وہ ایک طرف میری ادائیگیاں کر رہا ہوتا ہے، دوسری طرف میں اس سے پابندیوں اور ان کے اٹھائے جانے کے امکان کے بارے میں پوچھے جاتا ہوں۔

وہ میری طرف غصے سے دیکھ کر کہتا ہے کہ ڈالرز یا افغانی پیسوں کی شکل میں اتنی نقدی نہیں کہ ہزاروں صارفین کو بغیر کسی حد بندی رسائی دینا ممکن ہو۔

سرد راتیں جو قطار میں کھڑے گزر رہی ہیں

جب تک بینکوں کی طرف سے عائد حد بندیاں اور پہلے وقت مختص کروانے سمیت دیگر شرطیں جاری ہیں، مجھے ہفتے میں ایک بار آدھی رات کے قریب قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ میرے گھر سے بینک کے راستے میں تین چوکیاں ہیں۔

ہر ایک پر مجھے روک کر طالبان کا سپاہی پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آ رہا ہوں، کہاں جا رہا ہوں اور کس سلسلے میں جا رہا ہوں۔ میں اسے بتاتا ہوں کہ میں بینک جا رہا ہوں۔ سپاہی کندھے اچکاتا ہوا مجھے آگے جانے کا اشارہ کر دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب میں بینک پہنچتا ہوں، عام طور پر آدھی رات گزر چکی ہوتی ہے اور قطار میں لگ بھگ 25 سے 30 لوگ پہلے سے ہی ہوتے ہیں کیونکہ لوگ دس بجے سے ہی قطار میں لگنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انہیں 55 افراد میں سے کوئی جگہ مل سکے۔

پچھلے ہفتے سردی کچھ زیادہ تھی۔ جب میں رات کو وہاں پہنچا تو قطار جھرمٹ کی صورت میں بے ترتیبی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ سردی سے بچنے کے لیے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکھٹے ہو گئے تھے۔ میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔

طویل انتظار کے بعد صبح ایک بجے بینک کا ملازم ہمارے نام لینے نکلا۔ اس نے ایک چھوٹی سی نوٹ بک میں معلومات نوٹ کیں اور ہمیں اگلی صبح واپس آنے کو کہا۔ جب میں اپنی کار کی طرف واپس پہنچا تو پیچھے لوگوں کی مختلف آوازیں سنائی دیں جن کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ایک بوڑھا شخص شدید پریشانی کے عالم میں آہ و زاری کر رہا تھا کہ یہ قطار میں لگتے ہوئے اس کی تیسری رات ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ کابل کے مشرقی مضافاتی علاقوں سے بہت طویل فاصلہ طے کر کے یہاں پہنچتا ہے۔ بینک کے ملازم نے اسے شریفانہ انداز میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ آج رات دوبارہ کوشش کریں، تھوڑا مزید پہلے آ جائیں پھر شاید کل آپ کی باری آ جائے۔

میں دو بجے کے قریب سامنے کے دروازے سے گھر میں داخل ہوا تو میری ماں جاگ رہی تھیں۔ وہ میرے انتظار میں تھیں اور اس دوران کچھ پڑھ رہی تھیں۔ جب وہ مجھے سلام کر کے بستر کی طرف پلٹیں تو میں ان کی تھکی ہوئی آنکھوں میں اطمینان دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں اذان اور نئے دن کے آغاز سے پہلے تقریباً تین گھنٹے سو سکتا ہوں۔

میں جانتا تھا کہ صبح گھر والوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور ناشتہ کرنے کے بعد مجھے جلدی سے بینک واپس جانا پڑے گا اور پھر سے طویل انتظار کرنا ہو گا۔ ایک سست رو دن میں اس وقت جان پڑے گی جب بینک سے کوئی میرا نام پکارے گا اور میں تیزی سے اس کے سامنے اپنی دستاویزات رکھ رہا ہوں گا۔‘  

نوٹ: یہ تحریر پہلے افغان انالسس نیٹ ورک پر شائع ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا